میں پاکستان نہیں گیا، سوائے اس وقت کے جب کرتارپور کوریڈور کھولا گیا تھا۔ چونکہ یہ میرے حلقے میں تھا، اس لیے مجھے کرتارپور جانے والے وفد کا حصہ بننا پڑا۔ پاکستان میں مجھے بہت محبت ملی۔ جگہ جگہ فوجیوں نے بھی محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسی فلمیں نہ بنائیں جو پاکستان مخالف ہوں کیونکہ ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ کون اپنے ملک سے محبت نہیں کرتا؟ اگر آپ ہم سے محبت کریں گے تو ہم بھی آپ سے محبت کریں گے، اگر آپ ہمارے خلاف بات کریں گے تو ہم بھی جواب دیں گے اور اگر جنگ ہوگی تو ہم بھی لڑیں گے۔ جنگ کے وقت ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی ہمارے وطن پر حملہ کر رہا ہے تو ہمیں اس کا جواب دینا ہے بس۔ اس کے علاوہ ہمارے درمیان کوئی دشمنی نہیں، دونوں جانب کے لوگ ایک دوسرے سے حقیقی محبت کرتے ہیں۔
بالی ووڈ کے معروف اداکار سنی دیول نے کرتارپور کوریڈور کے دورے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے پاکستان میں ملنے والی محبت کا تذکرہ کیا ہے۔ تقریباً 45 سال سے بھارتی فلم انڈسٹری کا حصہ سنی دیول ’گھائل‘، ’دامنی‘، ’بارڈر‘ اور ’غدر ایک پریم کتھا‘ جیسی مقبول فلموں کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔
سنی دیول نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ کرتارپور کے دورے کے دوران پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں نے بھی ان سے محبت کا اظہار کیا اور ان سے پاکستان مخالف فلمیں نہ بنانے کی درخواست کی۔ اداکار کے مطابق دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ذاتی سطح پر محبت اور اپنائیت موجود ہے۔
سنی دیول کا کہنا تھا کہ اپنے ملک سے محبت کرنا ہر انسان کا حق ہے تاہم اس محبت کا مطلب دوسرے ملک کے لوگوں سے دشمنی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی صورت میں ہر ملک اپنے دفاع کے لیے کھڑا ہوتا ہے، لیکن عام حالات میں دونوں جانب کے لوگوں کے درمیان کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہونی چاہیے۔
سنی دیول ان دنوں اپنی نئی فلم ’بٹوارہ (1947)‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں، جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند کے تاریخی واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم 14 اگست 2026 کو بھارت سمیت مختلف ممالک میں ریلیز ہوئی ہے۔
اداکار کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ اپنے وطن سے محبت کرنے کا مطلب دوسرے ملک سے نفرت کرنا نہیں، جبکہ بعض صارفین نے بالی ووڈ کی پاکستان مخالف فلموں اور بیانیے پر تنقید بھی کی۔