ٹور میچ میں پاکستان کی کامیابی: سعود شکیل کی سنچری اور علی عثمان کی 5 وکٹیں نمایاں

image

پاکستان کے تجربہ کار بیٹر سعود شکیل نے ہفتے کے روز انگلینڈ کے کینٹ کاؤنٹی کرکٹ گراؤنڈ میں پروفیشنل کاؤنٹی کلب (پی سی سی) سلیکٹ الیون کے خلاف فتح میں شاندار 100 رنز بنا کر قومی سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ کے لیے ایک امتحان کھڑا کردیا ہے۔

سعود کیریبین میں ٹیسٹ میچز نہیں کھیل سکے تھے کیونکہ وہ انجری سے صحتیاب ہو رہے تھے اور بنگلا دیش میں ٹیسٹ سیریز کے دوران بھی فارم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے، لیکن اپنی ناٹ آؤٹ سنچری کے ذریعے انہوں نے یقینی بنایا کہ پاکستان صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 57.1 اوورز میں 262 رنز کا ہدف حاصل کرلے۔

انہوں نے اپنی اننگز میں 10 چوکے اور 3 چھکے لگائے۔

سعود کی سنچری کا مطلب ہے کہ سلیکٹرز کو 19 اگست سے لیڈز میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے لیے اذان اویس یا سلمان علی آغا میں سے کسی ایک کو ڈراپ کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹور میچ کی پہلی اننگز میں بیٹنگ کے دوران کپتان بابر اعظم کی انگلی میں لگنے والی چوٹ کے حوالے سے بھی فی الحال کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اس سے قبل 2021 میں دورہ نیوزی لینڈ کے دوران بھی بابر کو نیٹس میں اسی طرح انگلی کی چوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ پوری ٹیسٹ سیریز سے باہر ہوگئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے بتایا کہ بابر نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ٹور میچ میں مزید حصہ نہیں لیا لیکن وہ پہلے ٹیسٹ سے قبل ٹیم کے ساتھ پریکٹس کریں گے۔

سعود کے علاوہ بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان نے بھی پروفیشنل کاؤنٹی کلب الیون کی دوسری اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کر کے سلیکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کی یاد دہانی کرائی۔

سعود 147 گیندوں پر 100 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور پاکستان کی جانب سے ٹاپ اسکورر رہے، جبکہ انہوں نے تجربہ کار اوپنر امام الحق کے ساتھ 127 رنز کی شراکت داری بھی قائم کی۔ امام الحق نے 13 چوکوں کی مدد سے 88 گیندوں پر 80 رنز کی نصف سنچری اننگز کھیلی۔

ان کے علاوہ، وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان اور مڈل آرڈر بیٹر اویس ظفر نے بالترتیب 33 اور 30 (ناٹ آؤٹ) رنز بنا کر پاکستان کے اس کامیاب ہدف کے تعاقب میں مفید تعاون فراہم کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US