شعیب اختر نے کہا، ’’میرا ایک بڑا بھائی تھا جس کا نام شعیب تھا، وہ پیدائش کے چند دن بعد انتقال کر گیا تھا۔ میری والدہ نے منت مانی کہ اگر اللہ نے دوبارہ بیٹا دیا تو اس کا نام بھی شعیب رکھوں گی۔ محلے کی خواتین نے انہیں ڈرایا کہ ایسا نام دوبارہ رکھنے سے شاید بچہ معذوری کا شکار ہو جائے، لیکن میری والدہ نے کہا کہ نام یہی ہوگا۔‘‘
سابق فاسٹ بولر نے بتایا کہ ان کی پیدائش کے بعد وہ تقریباً 6 سال تک چل نہیں سکے اور رینگ کر چلتے تھے، جبکہ 9 سال کی عمر تک بار بار گرتے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دوسرے بچے انہیں چھیڑتے اور کہتے تھے کہ تم نہ دوڑ سکتے ہو اور نہ ہی ٹھیک سے بول سکتے ہو۔
شعیب اختر کے مطابق ان کی زندگی میں تبدیلی اس وقت آئی جب انہیں پتنگیں لوٹنے کا شوق پیدا ہوا۔ وہ بچوں کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کرتے، بار بار گرتے، پھر اٹھ کر دوبارہ دوڑتے۔ اس دوران رشتہ داروں اور محلے کی خواتین نے ان کی والدہ کو یاد دلایا کہ انہوں نے پہلے ہی منع کیا تھا، لیکن والدہ نے جواب دیا کہ صبر کریں، یہ وہی بچہ ہے جس کے بارے میں انہوں نے خواب دیکھا ہے اور یہ ایک دن بہت آگے جائے گا۔
شعیب اختر نے بتایا کہ وقت کے ساتھ انہوں نے دوڑنا شروع کیا، پھر اسپیڈ بڑھائی اور آخرکار انہیں یقین ہونے لگا کہ ایک دن وہ اتنی تیزی سے دوڑیں گے کہ دنیا انہیں پہچانے گی۔ اسی خواب نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا اور وہ سوچنے لگے کہ ایک دن وہ پاکستان کے عظیم کھلاڑی عمران خان کے ساتھ کھیلیں گے۔