گوجرانوالہ کے قریب 8 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ متعدد افراد نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو ٹیگ کرکے انصاف کی اپیل بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ کے قریب فیروز والا کلا، کھٹہئی گول پنڈ میں نامعلوم افراد مبینہ طور پر 8 سالہ بچی کو قریبی کھیتوں میں لے گئے، جہاں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ بچی کی چیخ و پکار سن کر مقامی افراد موقع پر پہنچے اور مداخلت کرکے اسے بچایا۔
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ متاثرہ بچی کو تشویشناک حالت میں تھانے لایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق بچی اس قدر تکلیف میں تھی کہ وہ ٹھیک طرح سے بیٹھ بھی نہیں پا رہی تھی۔
واقعے نے جہاں عوام کو صدمے سے دوچار کیا، وہیں میڈیا کی جانب سے متاثرہ بچی کی شناخت ظاہر کیے جانے پر بھی شدید سوالات اٹھائے گئے۔ بچی کے والد نے میڈیا سے گفتگو کے دوران اپنی بیٹی کا چہرہ چھپانے کی کوشش کی، تاہم بعض ٹی وی چینلز پر اس کا چہرہ مبینہ طور پر بغیر بلر کیے نشر کیا گیا۔
اداکارہ امر خان سمیت شوبز سے وابستہ شخصیات نے بھی واقعے پر شدید افسوس اور غم کا اظہار کیا۔ امر خان نے کمسن بچی کا چہرہ نشر کیے جانے پر میڈیا کے طرز عمل کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک متاثرہ بچے کی پرائیویسی کا تحفظ آخر کون کرے گا۔
اداکارہ مایا خان نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، "براہِ کرم کچھ کریں، اس سے پہلے کہ اللہ ہماری اس بے حسی پر ردعمل دے اور ہمیں اس ظلم کی سزا ملے۔"
پاکستان میں کمسن بچوں کے خلاف مبینہ جنسی تشدد، قتل اور دیگر سنگین جرائم کے واقعات پر عوامی تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گوجرانوالہ کا یہ واقعہ بھی ایسے ہی واقعات کی ایک اور دردناک کڑی بن کر سامنے آیا ہے، جس نے والدین کو اپنے بچوں کے تحفظ اور معاشرے میں بڑھتے جرائم کے حوالے سے ایک بار پھر شدید خوف میں مبتلا کردیا ہے۔
سوشل میڈیا پر عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے، شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔