"میں نے سرمایہ کاری کے لیے ساحر لودھی کو 40 لاکھ روپے دیے تھے۔ رقم واپس کرنے کے لیے مجھے جو چیکس دیے گئے، وہ مقررہ تاریخوں پر بینک میں جمع کرانے کے بعد باؤنس ہوگئے۔ بعد میں مزید چیکس دیے گئے لیکن وہ بھی کلیئر نہ ہوسکے۔"
کراچی کے علاقے لانڈھی مجید کالونی کی رہائشی بیوہ خاتون نغمہ وکیل کی شکایت پر ٹی وی میزبان ساحر لودھی اور ان کے ساتھی فیصل ضیاء کے خلاف مبینہ طور پر 40 لاکھ روپے کی رقم ہتھیانے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن میں درج مقدمہ نمبر 1569/2026 کے مطابق نغمہ وکیل نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ فیصل لشکر والا نے ان کی ملاقات ساحر گوہر لودھی سے کرائی تھی۔ خاتون کے مطابق انہوں نے سرمایہ کاری کی غرض سے ساحر لودھی کو 40 لاکھ روپے دیے تھے۔
خاتون کے بیان کے مطابق ساحر لودھی نے انہیں ایک مرتبہ ڈھائی لاکھ روپے جبکہ دوسری مرتبہ 4 لاکھ روپے دیے۔ رقم لیتے وقت ساحر لودھی نے انہیں 7 چیکس دیے تھے، جن کی مالیت بالترتیب 8 اور 9 لاکھ روپے بتائی گئی۔
نغمہ وکیل کے مطابق مقررہ تاریخوں پر جب انہوں نے یہ چیکس بینک کی قائد آباد برانچ میں جمع کرائے تو تمام چیکس باؤنس ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے ساحر لودھی سے رابطہ کیا، جنہوں نے 44 لاکھ روپے کا ایک اور چیک ان کے اکاؤنٹ میں جمع کرایا، تاہم وہ بھی باؤنس ہوگیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق ساحر لودھی کو دوبارہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد ان کے دوست فیصل ضیاء نے انہیں 20 لاکھ روپے کا چیک دیا، لیکن وہ چیک بھی کلیئر نہ ہوسکا۔
رقم کی واپسی نہ ہونے پر نغمہ وکیل نے ڈی جے ملیر کی عدالت سے رجوع کیا اور مقدمے کے اندراج کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعات 22-A اور 22-B کے تحت درخواست دائر کی۔ عدالتی حکم پر پولیس نے ساحر لودھی اور فیصل ضیاء کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تاہم مقدمے میں لگائے گئے الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر ہوگی۔