’مقصد یوم آزادی پر مبارکباد دینا تھا‘: انڈین پرچم اور ’جے ہند‘ کا نعرہ پوسٹ کرنے کے الزام میں مہمند میں دو افراد گرفتار

مصور ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ان کے مؤکل کا مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانا نہیں بلکہ صرف ’انڈیا کو یوم آزادی کی مبارکباد دینا تھا۔‘
Mohmand
Getty Images

پاکستان کے ضلع مہمند میں پولیس نے انڈیا کے یوم آزادی پر سوشل میڈیا پر انڈیا کے پرچم کی تصاویر اور ’جے ہند‘ کے الفاظ شیئر کرنے پر دو افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔

بی بی سی اردو کو دستیاب ایف آئی آرز کے مطابق ملزمان کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 123 اے اور 153 اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جو اشتعال پھیلانے اور ریاست کی خودمختاری کی مخالفت کرنے کے حوالے سے ہیں۔

ضلع مہمند کے علاقے غلنئی کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) مراد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کوز گنداؤ اور کٹارکلے کے علاقوں کے رہائشی دونوں افراد نے 15اگست کو اپنے سوشل میڈیا پیج پر انڈیا کی یوم آزادی کی مناسبت سے انڈین پرچم کی تصویر اور ’جے ہند‘ کا نعرہ پوسٹ کیا، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انھیں گرفتار کیا۔

ایس ایچ او مراد خان نے بتایا کہ 15 اگست کو کوزگنداؤ کی رہائشی شخص کو گرفتاری کے بعد عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور ان کا ایک دن کا ریمانڈ لیا گیا۔ پولیس افسر کے مطابق پیر کو عدالت نے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

ایسے ہی مقدمے میں گرفتار دوسرے شخص کو بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

مقدمات کی ایف آئی آرز میں کیا لکھا ہے؟

ایف آئی آر کے مطابق کوز گنداؤ سے گرفتار ملزم پر الزام ہے کہ انھوں نے 'اپنے فیس اکاؤنٹ سے جے ہند کے الفاظ تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی و ہندوستانی پرچم شیئر کیے ہیں اور ہندوستان کی یوم آزادی کے موقع پر ان کے ساتھ جشن آزادی منایا ہے۔'

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم کا ’یہ فعل اپنے ملک پاکستان سے غداری اور عوام کو متنفر کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔‘

دوسرے ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر میں بھی کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر انڈیا کا پرچم شیئر کیا اور ’جے ہند‘ کا نعرہ تحریر کیا۔

تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف جو دفعات لگائی گئی ہیں ان کا اطلاق ایسے مقدمات پر نہیں ہوتا۔

پرچم
BBC

سینیئر وکیل شبیر حسین گگیانی ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے ایف آئی آرز پاکستان پینل کوڈ 123 اے اور 153اے تحت درج کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 123 اے کے مطابق ’اگر کوئی ریاست پاکستان کے قیام کی مذمت کرے یا ریاست پاکستان کی خود مختاری کے خلاف بات کرے یا ریاست پاکستان کے خلاف کوئی مزموم مقاصد یا عزائم رکھتا ہو تب یہ دفعہ لگتی ہے۔‘

قانونی ماہر نے مزید کہا کہ ’دفعہ 153 اے اس وقت لگتی ہے جب کوئی ایسی بات کرے یا تقریر کرے، جس سے مذہبی فرقے، سیاسی گروپس یا دوسری تنظیمیں کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کرے۔‘

شبیر حسین گگیانی ایڈوکیٹ کے خیال میں ’یہ دونوں ایف آئی آر غلط درج ہوئی ہیں، ان کا کوئی گراؤنڈ موجود نہیں اور یہ خارج ہو سکتی ہیں۔‘

عدالت میں کیا ہوا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک ملزم کے وکیل مصور ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ٹو اشیاق احمد کی عدالت نے ان کے مؤکل کی ضمانت خارجکردی ہے، جبکہ ایسے ہی مقدمے میں گرفتار دوسرے شخص کو بھی جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

کیس کی سماعت کے موقع پر مصور ایڈوکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ سوشل میڈیا میں شیئرنگ کا معاملہ پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ ایسے مقدمات پیکا ایکٹ کے تحت بنتے ہیں، جس کی ابتدائی تفتیش پہلے این سی سی آئی اے کرتی ہے۔

تاہم انھوں نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا کہ یہاں ان مقدمات میں پولیس نے براہ راست کارروائی کی ہے اور جو دفعات شامل کی گئی ہیں ان کا اطلاق ایسے مقدمات میں نہیں ہوتا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں جو دفعات درج ہیں وہ ناقابل ضمانت ہیں، لہذا ضمانت کی درخواست خارج کی جاتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اب وہ ضمانت کے لیے ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھائیں گیں۔

مصور ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ان کے مؤکل کا مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانا نہیں بلکہ صرف ’انڈیا کو یوم آزادی کی مبارکباد دینا تھا۔‘

مصور ایڈوکیٹ کے مؤکل کے ایک دوست نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے دوست نے ’ابھی بی ایس پولیٹیکل سائنس کی پڑھائی مکمل کی تھی۔‘

’وہ محب وطن شہری ہے۔ ہمارے ملک میں سیاستدان دوسرے ملکوں کی آزادی پر مبارکبادیں دیتے ہیں، کیا ان پر کبھی ایف آئی آر درج کی گئی؟ تو ایک شہری کے خلاف کیوں؟‘

خیال رہے یہ اس نوعیت کے پہلے واقعات نہیں۔ گذشتہ سال فروری میں خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے چار طالب علموں کو یوتھ فیسٹیول میں انڈیا کا ترانہ گانے کے بعد باچا خان یونیورسٹی سے نکال دیا گیا گیا تھا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US