کامران اکمل کا قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر اظہارِ تشویش، انگلینڈ کے خلاف سخت فیصلوں کا مطالبہ

image

سابق ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل نے قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پچھلے چار پانچ سالوں سے انتہائی ناقص کرکٹ کھیل رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف پی ایس ایل کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ پاکستان کی کرکٹ ایک مذاق بن چکی ہے اور اگر صورتحال کو بہتر نہ بنایا گیا تو ہمارا حال ہاکی سے بھی برا ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز 2-0 سے جیت کر انگلینڈ جانا چاہیے تھا، لیکن ٹیم کی منفی ذہنیت کے باعث ایسا نہ ہو سکا، جبکہ ویسٹ انڈیز نے دوسرا ٹیسٹ جیت کر پاکستان کو پلیٹ میں رکھ کر دیا تھا۔

کامران اکمل کا کہنا تھا کہ بڑی ٹیمیں ہمارے ساتھ کھیلنے کو تیار نہیں ہوتیں اور اگر کھیلیں بھی تو اپنی 'بی' یا 'سی' ٹیمیں بھیجتی ہیں، جبکہ ہمیں بنگلا دیش کے خلاف چار ٹیسٹ میچوں کے علاوہ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے عبداللہ شفیق کی غیر معمولی اننگز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے ابتدائی پلان کا حصہ نہیں تھے اور اگر وہ ویسٹ انڈیز میں نہ ہوتے تو شاید انہیں کھلایا ہی نہ جاتا، جبکہ ویسٹ انڈیز میں ڈومیسٹک پرفارمرز نے وکٹیں حاصل کیں اور ریگولر کھلاڑی ناکام رہے۔

محمد عباس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'پیس' کا بہانہ بنا کر ان کے تین سال ضائع کیے گئے، ورنہ آج ان کے نام کئی اور وکٹیں ہوتیں، لیکن تین سال بعد واپسی پر بھی وہ ہمارے مرکزی بولر بنے ہوئے ہیں جبکہ باقی کرکٹرز غائب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر تین ماہ بعد ہمارے بولرز بدل دیے جاتے ہیں، جبکہ آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور بھارت اپنے بنیادی بولنگ اٹیک کو قائم رکھتے ہیں۔

سابق وکٹ کیپر بیٹر نے انگلینڈ کے دورے کو انتہائی چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ میں پورٹ آف اسپین جیسے یا پاکستان کی موافق وینیوز نہیں ملیں گے۔ ہیڈنگلے کی کنڈیشنز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر میچ کے دوران بادل رہے تو گیند بہت سوئنگ ہوگا، جس کے لیے دعا کرنا ہوگی کہ دھوپ نکلے، اور دھوپ کی صورت میں پہلی اننگز میں ساڑھے تین سو سے چار سو رنز بنانا لازمی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم اتنی کمزور پہلے کبھی نظر نہیں آئی اور وہ نیوزی لینڈ سے سیریز ہار کر دباؤ میں ہے، کیونکہ ان کا پورا انحصار جو روٹ اور ہیری بروک پر ہوتا ہے۔ اگر پاکستان پوری سیریز جیتنے کا سوچے گا تبھی کامیابی ملے گی، جبکہ صرف ایک ٹیسٹ جیتنے کی سوچ رکھنے والے کھلاڑی ایک بھی میچ نہیں جیت پائیں گے۔

انہوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرنے اور کامیابی کا دعویٰ کرنے کو "منجن بیچنے" کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ ٹیم انتظامیہ اور بورڈ کو گن گانے کے بجائے سخت اور سنجیدہ فیصلے کرنے ہوں گے۔

کامران اکمل نے بابر اعظم کو پاکستان کا بہترین کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بہترین اوسط انگلینڈ ہی میں ہے، اس لیے بطور بیٹر اور کپتان ان کا اور دیگر سینئر کھلاڑیوں کا رنز بنانا بے حد ضروری ہے۔ اگر ٹاپ آرڈر لمبی اننگز کھیلے گا اور 350 سے 400 رنز بورڈ پر سجائے گا تو بولرز پر بھی دباؤ کم ہوگا اور وہ کھل کر بولنگ کرسکیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US