سعدیہ امام کا شوبز میں تلخ تجربہ، قریبی ساتھیوں سے ملنے والے دھوکے کا انکشاف

image

" جب میں نے شوبز میں قدم رکھا تو اس وقت بہت کم اداکارائیں کام کر رہی تھیں۔ یا تو بہت سینئر اداکارائیں تھیں یا بالکل نئی، میرے لیول پر کوئی خاص اداکارہ نہیں تھی۔ صرف ماریا واسطی میرے ساتھ کام کر رہی تھیں، لیکن وہ لاہور سے تھیں اور مجھ سے سینئر بھی تھیں، میرے اردگرد زیادہ تر مرد ساتھی ہی تھے، اس لیے میں کہہ سکتی ہوں کہ مجھے اپنے ہی مرد ساتھیوں اور دوستوں نے کئی بار دھوکا دیا۔ میرے والد کہا کرتے تھے کہ جعلی دوستوں کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے انسان اکیلا رہے۔ اُس وقت ہمیں ان کی بات سمجھ نہیں آتی تھی کیونکہ ہمیں لوگوں کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ مجھے بہت کچھ سمجھ آیا اور اللہ کے فضل سے وہ دور بھی گزر گیا"

"کئی مرتبہ میں نے اپنے ہی مرد دوستوں کو میرے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ سعدیہ امام کو کاسٹ نہ کرو، کیونکہ وہ پارٹی گرل نہیں ہے اور شوٹنگ کے دوران انجوائے نہیں کرتی۔ ہم بیرونِ ملک ڈراموں کی شوٹنگ کے لیے جاتے تھے اور انہیں اس بات پر اعتراض ہوتا تھا کہ میں ان کے ساتھ اس طرح گھل مل نہیں رہی۔ وہ اپنے اردگرد ایسی لڑکیاں چاہتے تھے جو ان کے ساتھ زیادہ فرینڈلی ہوں، اسی وجہ سے مجھے نظر انداز کیا گیا یا دوسرے درجے کے کردار دیے گئے میں نے یہ سب ان لوگوں کی طرف سے بھی دیکھا جو میرے بہت قریب تھے، جو میرے ساتھ کھاتے تھے، میرے ساتھ بیٹھتے تھے اور اکثر میرے گھر بھی آتے تھے۔"

پاکستانی اداکارہ اور میزبان سعدیہ امام نے شوبز انڈسٹری میں اپنے ابتدائی دنوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے کئی مرد ساتھیوں اور قریبی دوستوں کی جانب سے دھوکے اور پیشہ ورانہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

سعدیہ امام نے یہ بات ندا یاسر کے مارننگ شو میں گفتگو کے دوران بتائی۔ اداکارہ کے مطابق جب انہوں نے انڈسٹری میں کام شروع کیا تو ان کے ہم عمر اور برابر کے مقام پر موجود خواتین فنکار بہت کم تھیں، جس کی وجہ سے ان کا زیادہ وقت مرد ساتھیوں کے ساتھ گزرتا تھا۔

ان کے مطابق کچھ قریبی ساتھی ان کی ذاتی پسند اور کام کے دوران ان کے رویے کو بنیاد بنا کر انہیں منصوبوں سے دور رکھتے تھے۔ سعدیہ نے بتایا کہ بیرونِ ملک ڈراموں کی شوٹنگ کے دوران بعض ساتھی ایسی خواتین کو ترجیح دیتے تھے جو ان کے ساتھ زیادہ گھل مل جائیں، جبکہ انہیں ’پارٹی گرل‘ نہ ہونے کی وجہ سے کاسٹ نہ کرنے یا چھوٹے کردار دینے کی باتیں کی جاتی تھیں۔

اداکارہ نے کہا کہ سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب انہیں اپنے ہی قریبی لوگوں کے رویے کا علم ہوا۔ ان کے مطابق کچھ ایسے افراد بھی ان کے بارے میں منفی باتیں کرتے تھے جو ان کے گھر آتے، ان کے ساتھ وقت گزارتے اور خود کو ان کا دوست ظاہر کرتے تھے۔

سعدیہ امام نے بتایا کہ ان کے والد انہیں پہلے ہی جعلی دوستیوں سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے، تاہم اس وقت وہ اس نصیحت کی اہمیت نہیں سمجھ سکیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان تجربات نے انہیں بہت کچھ سکھایا اور اب وہ ان واقعات کو اپنی زندگی کا ایک گزرا ہوا مرحلہ سمجھتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US