"میری بیٹی سوناکشی کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ مجھے قدرتی ردعمل نہیں لگتی۔ میرا دعویٰ ہے کہ ان میں سے کئی لوگ پیسے لے کر اسے نشانہ بناتے ہیں اور یہ ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔ "میں سمجھتا ہوں کہ بی جے پی کا آئی ٹی سیل اس سرگرمی میں ملوث ہے۔ سوناکشی نے ان لوگوں کو نظرانداز کرکے بالکل درست کیا ہے اور وہ خود بھی کہہ چکی ہیں کہ وہ ٹرولز کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں سوناکشی کے سیاسی خیالات بعض معاملات میں مجھ سے بھی زیادہ مضبوط اور واضح ہیں۔ وہ دہلی کے طلبا کے احتجاج کی حمایت کرنے سے پہلے جھاڑکھنڈ کے طلبا کے معاملے پر بھی اپنی آواز اٹھا چکی تھیں۔"
"جہاں تک ان کے مستقبل میں سیاست میں آنے کا تعلق ہے، میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ پہلے میں ان سے یہ سوال کرتا تھا، لیکن اب میں صرف اتنا کہوں گا کہ وہ میرے لیے ایک قابلِ فخر بیٹی ہیں۔"
بالی ووڈ کے سینئر اداکار اور سیاست دان شتروگھن سنہا نے اپنی بیٹی سوناکشی سنہا کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے سنگین دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اداکارہ کو نشانہ بنانے والی ٹرولنگ محض عام سوشل میڈیا ردعمل نہیں بلکہ مبینہ طور پر ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو میں شتروگھن سنہا نے کہا کہ سوناکشی حالیہ دنوں دہلی میں طلبا کے احتجاج کی حمایت کرنے والی ابتدائی بالی ووڈ شخصیات میں شامل تھیں، جس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے اپنی بیٹی کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سوناکشی نے صرف دہلی کے طلبا کی حمایت نہیں کی بلکہ اس سے چند روز قبل جھاڑکھنڈ کے طلبا کے معاملے پر بھی آواز اٹھائی تھی۔ ان کے مطابق بعض افراد نے سوناکشی پر دوہرے معیار کا الزام لگایا، جو درست نہیں۔
شتروگھن سنہا نے دعویٰ کیا کہ سوناکشی کے خلاف کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مبینہ طور پر معاوضے کے عوض استعمال کیے جاتے ہیں اور بی جے پی کے آئی ٹی سیل پر اس سرگرمی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ تاہم یہ ان کا الزام ہے، جس کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں موجود نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سوناکشی نے ٹرولنگ کو نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ خود بھی کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی ایسی تنقید کو اہمیت نہیں دیتیں۔
سوناکشی کے سیاسی رجحانات پر بات کرتے ہوئے شتروگھن سنہا نے کہا کہ بعض معاملات میں ان کی بیٹی کے خیالات ان سے بھی زیادہ واضح اور مضبوط ہیں۔ تاہم مستقبل میں سوناکشی کے سیاست میں آنے کے سوال پر انہوں نے کوئی حتمی جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ ان کی بیٹی ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
شتروگھن سنہا نے یہ بھی یاد دلایا کہ سوناکشی اس سے قبل سماجی کارکن سونم وانگچک کے معاملے پر بھی آواز اٹھا چکی ہیں۔ ان کے مطابق سوناکشی نے وانگچک کو احتجاج سے ہٹائے جانے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کے حق میں ویڈیو بھی جاری کی تھی۔
سوناکشی اس سے پہلے بھی اپنے سیاسی اور ذاتی معاملات کے باعث سوشل میڈیا تنقید کا سامنا کرتی رہی ہیں، خاص طور پر ظہیر اقبال سے شادی کے بعد انہیں آن لائن مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔