بنگلہ دیشی وزیرِاعظم کا انڈیا میں ہونے والے بِرکس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ: کیا یہ انڈیا کے لیے بڑا سفارتی دھچکا ہے؟

رواں سال فروری میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے فوراً بعد انڈیا نے طارق رحمان کو نئی دہلی آنے کی دعوت دی تھی، تاہم انھوں نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے ملائیشیا کا انتخاب کیا۔ بعد ازاں وہ چین بھی گئے، جسے بعض مبصرین نے بنگلہ دیش کی خارجہ ترجیحات میں تبدیلی کی علامت قرار دیا۔
بنگلہ دیش
@ihcdhaka
10 اگست 2026 کو بھارت کے ہائی کمشنر دنیش تریویدی نے بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان سے ملاقات کی

حال ہی میں بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے نئی دہلی کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ انڈیا بنگلہ دیش کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطوں کی بحالی کے لیے اتنا سرگرم کیوں ہے۔

رواں سال فروری میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے فوراً بعد انڈیا نے طارق رحمان کو نئی دہلی آنے کی دعوت دی تھی، تاہم انھوں نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے ملائیشیا کا انتخاب کیا۔ بعد ازاں وہ چین بھی گئے، جسے بعض مبصرین نے بنگلہ دیش کی خارجہ ترجیحات میں تبدیلی کی علامت قرار دیا۔

اس دوران انڈیا نے نئی دہلی میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے بھی طارق رحمان کو مدعو کیا، لیکن بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم نے اس موقع پر بھی انڈیا کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان وزیرِ اعظم کے ممکنہ دورۂ انڈیا کے حوالے سے کئی ہفتوں سے مشاورت جاری تھی، تاہم مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق پانچ اگست کو دہلی کے فارن کورسپانڈنٹس کلب میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کا ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا تھا۔ بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی اعلیٰ سطح دورے کے لیے پہلے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے۔

ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ انڈیا طارق رحمان کے دورے کے لیے اتنا اصرار کیوں کرتا رہا ہے؟

مغربی اور جنوبی ایشیا کی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی سوربھ کمار شاہی کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد انڈیا کو ڈھاکہ کے ساتھ براہِ راست رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔

ان کے بقول بنگلہ دیش جنوبی ایشیا میں انڈیا کا ایک اہم پڑوسی ہے اور سکیورٹی، تجارت، رابطہ کاری اور علاقائی سیاست سمیت متعدد معاملات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے اہم شراکت دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی موجودہ بنگلہ دیشی قیادت کے ساتھ بامعنی سیاسی رابطہ قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ طارق رحمان کی جانب سے دورے سے گریز نے دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

انڈیا اور بنگلہ دیش
@ihcdhaka
دنیش تریویدی پیشہ ور سفارت کار نہیں ہیں، تاہم مودی حکومت نے انھیں ہائی کمشنر مقرر کیا ہے

انڈیا اتنی کوشش کیوں کر رہا ہے؟

سوربھ کمار شاہی کہتے ہیں کہ ’یہ ممکن نہیں کہ کسی ملک میں ایسی حکومت آ جائے جس سے آپ متفق نہ ہوں اور پھر آپ اس سے رابطہ ہی ختم کر دیں۔ ایک معروف کہاوت ہے کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں، پڑوسی نہیں۔ اسی لیے دونوں جانب روابط بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بعض اوقات پالیسی میں معمولی تبدیلی کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھایا جائے تو مثبت نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر پیو ریسرچ کے سروے کو دیکھیے، جس میں مختلف ممالک میں انڈیا کے بارے میں رائے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق جس ملک میں انڈیا کے حق میں رائے سب سے زیادہ بہتر ہوئی ہے، وہ سری لنکا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب سری لنکا میں نئی حکومت قائم ہوئی تھی تو تب بھی خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ یہ انڈیا مخالف حکومت ہے اور اس کے ساتھ تعلقات کیسے چلیں گے۔ تاہم بعد میں دونوں ملکوں کے درمیان رابطے بڑھے، سری لنکا کی قیادت نے انڈیا کا دورہ کیا، انڈین حکام وہاں گئے اور ملاقاتیں ہوئیں۔ ان روابط کے اثرات اب زمینی سطح پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔‘

تاہم بنگلہ دیش میں صورتِ حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ پیو ریسرچ کے مطابق بنگلہ دیش میں انڈیا کے بارے میں عوامی رائے زیادہ منفی ہوئی ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے ایک حالیہ سروے میں 42 فیصد بنگلہ دیشیوں نے انڈیا کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا، جبکہ 51 فیصد کی رائے منفی تھی۔

یہ سروے رواں سال فروری سے مئی کے درمیان کیا گیا تھا۔

پیو ریسرچ کے 2024 کے سروے کے مطابق بنگلہ دیش میں 57 فیصد افراد انڈیا کے بارے میں مثبت رائے رکھتے تھے، تاہم 2026 تک یہ شرح 15 فیصد پوائنٹس کم ہو کر 42 فیصد رہ گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ انڈیا کو اپنے ملک کے لیے سب سے بڑا بیرونی خطرہ تصور کرتے ہیں۔

صحافی سوربھ کمار شاہی کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے عوام میں انڈیا کے بارے میں کیا سوچ پائی جاتی ہے، اور کوئی بھی سیاسی رہنما یا وزیرِ اعظم ان عوامی جذبات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتا۔

سوربھ کمار کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن میں جماعتِ اسلامی کی موجودگی کے دوران طارق رحمان کے لیے ان عوامی جذبات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انڈیا بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم ہمسایہ ملک ہے کیونکہ بنگلہ دیش کی تقریباً 94 فیصد زمینی سرحد انڈیا سے ملتی ہے۔ لیکن اگر انھیں اپنی سیاسی حمایت برقرار رکھنی ہے اور اقتدار میں رہنا ہے تو انھیں عوامی رائے کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ میرے خیال میں نئی دہلی بھی ان کی اس سیاسی مجبوری کو سمجھتا ہوگا۔‘

बांग्लादेश
@DrSJaishankar
گزشتہ سال دسمبر میں بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے طارق رحمان کی والدہ خالدہ ضیا کے انتقال پر ڈھاکا جا کر تعزیت کی تھی

’یہ کام صرف مودی حکومت ہی کر سکتی ہے‘

لیکن مودی حکومت طارق رحمان کو مدعو کرنے کے لیے اتنی پُرجوش کیوں دکھائی دے رہی ہے؟

سوربھ کمار شاہی کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں پیش قدمی انڈیا کی جانب سے ہو رہی ہے۔ نئی دہلی کو معلوم ہے کہ بنگلہ دیش پہلے ہی ایک دعوت نامہ مسترد کر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود رابطوں کی کوشش جاری ہے۔ تاہم میرے خیال میں ایسا قدم صرف مودی حکومت ہی اٹھا سکتی ہے۔ اگر کوئی دوسری حکومت اتنی سرگرمی دکھائے تو اسے مختلف سیاسی الزامات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اکثر دائیں بازو کی جماعتوں کو یہ سیاسی گنجائش حاصل ہوتی ہے کہ وہ بعض غیر روایتی سفارتی اقدامات کر سکیں، بغیر اس کے کہ انھیں اپنے حامی حلقوں کی شدید مخالفت کا سامنا ہو۔ مثال کے طور پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ براہِ راست ملاقات کر سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی ڈیموکریٹ صدر ایسا کرے تو ممکن ہے اسے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر منموہن سنگھ، اٹل بہاری واجپائی کی طرح پاکستان کا دورہ کرتے تو اس کا سیاسی ردِعمل شاید مختلف ہوتا۔‘

دوسری جانب امریکہ میں بنگلہ دیش کے سابق سفیر محمد ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیش کا سیاسی اور سماجی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔

ہمایوں کبیر نے 16 اگست کو بنگلہ دیش کے معروف انگریزی اخبار دی ڈیلی سٹار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ ’جولائی 2024 کی عوامی بغاوت نے عوام کی توقعات اور امنگوں کو بدل کر رکھ دیا۔ آج کا بنگلہ دیش پہلے کے مقابلے میں زیادہ آزاد خیال، زیادہ پُرامید اور اپنے سیاسی و سماجی حقوق کے بارے میں زیادہ باشعور ہے۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات کو وسیع پیمانے پر منصفانہ اور بڑی حد تک جامع قرار دیا گیا، جن کے نتیجے میں بی این پی واضح عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آئی۔‘

ہمایوں کبیر نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’ان دونوں داخلی تبدیلیوں کے اثرات ملکی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے گئے ہیں اور ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ بنگلہ دیش انڈیا، چین، امریکہ اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔‘

انڈیا فطری طور پر یہ جاننا چاہے گا کہ نئی حکومت کی ترجیحات اور سوچ کیا ہیں۔ ان معاملات پر براہِ راست وزیرِ اعظم سے بات کرنا نئی دہلی کے لیے سب سے مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے، کیونکہ حتمی فیصلے بالآخر انہی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

تاہم انڈیا کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بنگلہ دیش نہ کسی کے زیرِ اثر آئے گا اور نہ ہی کسی کا تابع بنے گا۔

ماضی میں بھی، جب طارق رحمان کی والدہ بیگم خالدہ ضیا وزیرِ اعظم تھیں، ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی تھی۔

سوربھ کمار شاہی کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ انڈیا نے اپنی بیشتر توقعات اور سفارتی سرمایہ کاری ایک ہی سیاسی قوت، یعنی شیخ حسینہ، پر مرکوز کر رکھی تھی۔

سوربھ کمار کہتے ہیں کہ ’مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس سے پہلے بنگلہ دیش کے کسی وزیرِ اعظم کو مدعو کرنے کے لیے اس قدر کھلے انداز میں اصرار کیا گیا ہو۔ میرے خیال میں یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو سنبھالنے اور ممکنہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش ہے۔

تاہم اس ملاقات سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں۔ ایک طویل عرصے تک انڈیا نے ایک ہی سیاسی شخصیت کی نسبتاً غیر تنقیدی حمایت کی، اس لیے اب تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔‘

बांग्लादेश
@DrSJaishankar
طارق رحمان کے اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بہت کوشش کی ہے، لیکن عوامی سطح پر تعلقات اب بھی معمول پر آتے نظر نہیں آتے

کس کے لیے دھچکا؟

اگر بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان آئندہ ماہ 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کرتے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا سیاسی نقصان کس کو ہوگا؟

جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے امور پر نظر رکھنے والے صحافی سوربھ کمار شاہی کے مطابق اس صورتِ حال سے کچھ سفارتی اثرات ضرور مرتب ہوں گے، تاہم اسے کسی بڑے دھچکے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

ان کے بقول، بنگلہ دیش برکس کا رکن نہیں بلکہ اسے بطور مہمان مدعو کیا گیا ہے۔ اس لیے اگر طارق رحمان شرکت نہیں کرتے تو اس کا کچھ اثر ضرور پڑے گا، لیکن بہت زیادہ نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس حوالے سے توقعات پہلے ہی بہت زیادہ نہیں ہیں۔‘

سوربھ کمار کہتے ہیں کہ یہ صورتِ حال کسی ایسے ملک سے مختلف ہے جس کے ساتھ تعلقات پہلے ہی مضبوط ہوں۔

’اگر کسی ایسے رہنما نے آنے سے انکار کیا ہوتا جس کے ساتھ آپ کے تعلقات پہلے ہی اچھے تھے تو معاملہ زیادہ اہم ہوتا۔ لیکن یہاں بات ایک ایسے رہنما کی ہے جس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے میں ان کی عدم شرکت کو اتنا بڑا دھچکا نہیں سمجھا جائے گا۔‘

تاہم ان کے مطابق اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔

’انڈیا اپنی جانب سے دعوت دے چکا ہے، اس لیے اب دباؤ نئی دہلی پر نہیں بلکہ ڈھاکا پر ہے۔ اگر آپ کے پڑوسی ملک نے آپ کو مدعو کیا ہے اور آپ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے تو اسے صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ برکس فورم کے لیے بھی ایک منفی اشارے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ کسی دوطرفہ سرکاری دورے کی دعوت نہیں بلکہ ایک کثیرالملکی پلیٹ فارم میں شرکت کی دعوت ہے۔

’اگر بنگلہ دیش مستقبل میں برکس کا رکن بننے میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہے گا کہ وہ فورم کے ساتھ تعاون کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسی لیے یہ صورتِ حال نریندر مودی کے مقابلے میں طارق رحمان کے لیے زیادہ مشکل ہے۔ مودی اپنا قدم اٹھا چکے ہیں، وہ دعوت دے چکے ہیں۔‘

اسی تناظر میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر بنگلہ دیش برکس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ ایسا آسانی سے نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔

ساؤتھ ایشین یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر دھننجے ترپاٹھی کے مطابق طارق رحمان اس وقت داخلی اور خارجی دونوں طرح کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’ایک طرف عوامی دباؤ ہے کہ انڈیا نہ جایا جائے، لیکن دوسری طرف سفارت کاری کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ جس بین الاقوامی فورم کا آپ مستقبل میں حصہ بننا چاہتے ہیں، اگر وہ آپ کو اپنی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے مدعو کرے تو اس دعوت کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ مودی سے زیادہ طارق رحمان کے لیے پیچیدہ بن چکا ہے۔

ڈاکٹر ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی موجودگی ایک حساس مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

’ایک طرف شیخ حسینہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انڈیا چھوڑ دیں، لیکن دوسری طرف نئی دہلی بھی یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ وہ انھیں کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے حوالے کر رہا ہے، کیونکہ اس سے منفی پیغام جائے گا۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق طارق رحمان کی مشکل یہ ہے کہ ان کی سیاسی شناخت اور عوامی حمایت بڑی حد تک شیخ حسینہ اور ان کی جماعت کی مخالفت کے گرد قائم ہوئی ہے۔

وہ اسی سیاسی بیانیے کے تحت اقتدار میں آئے ہیں، جبکہ شیخ حسینہ سے متعلق مقدمات بھی بنگلہ دیش کی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

ایسے میں اگر طارق رحمان نئی دہلی کا دورہ کرتے ہیں تو ان کے سیاسی مخالفین اسے تنقید کا موضوع بنا سکتے ہیں اور ڈھاکا میں ان کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر ترپاٹھی کہتے ہیں، ’طارق رحمان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی وہ نئی دہلی جائیں گے، بنگلہ دیش میں ان کے سیاسی قد اور عوامی تاثر پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس معاملے میں بہت احتیاط سے قدم اٹھا رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق اس دباؤ میں اس وقت کمی آ سکتی ہے جب شیخ حسینہ انڈیا چھوڑ دیں، چاہے وہ بنگلہ دیش واپس جائیں یا کسی تیسرے ملک منتقل ہو جائیں۔ اس صورت میں دونوں ممالک کے تعلقات میں پیش رفت کے لیے سیاسی فضا نسبتاً زیادہ سازگار ہو سکتی ہے۔

बांग्लादेश
@ihcdhaka
بنگلہ دیش میں بھارت کے ہائی کمشنر دنیش تریویدی نے طارق رحمان سے ملاقات کے بعد نئی دہلی میں وزیرِ اعظم مودی سے ملاقات کی تھی

بنگلہ دیش کے لیے غیر آرام دہ صورتحال؟

اگر طارق رحمان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کرتے تو کیا یہ بنگلہ دیش کے لیے ایک غیر آرام دہ صورتِ حال ہوگی یا انڈیا کے لیے سفارتی دھچکا؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ترپاٹھی کہتے ہیں، ’میرے خیال میں اسے بڑا سفارتی دھچکا قرار دینا مناسب نہیں ہوگا، لیکن اس کی کمی ضرور محسوس کی جائے گی۔‘

اگر طارق رحمان اجلاس میں شریک نہ ہوئے تو ایک اہم جگہ خالی رہ جائے گی۔ ان کے مطابق، ’میری رائے میں انھیں شرکت کرنی چاہیے، تاہم موجودہ حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ وہ فوری طور پر انڈیا کا دورہ کریں گے، الا یہ کہ سفارتی سطح پر کوئی غیر معمولی پیش رفت ہو جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی جگہ کسی نمائندے یا وزیرِ خارجہ کو اجلاس میں بھیج دیں۔‘

دوسری جانب امریکہ میں بنگلہ دیش کے سابق سفیر محمد ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ انڈیا کو بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کے بارے میں غیر ضروری خدشات نہیں رکھنے چاہییں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا کو شاید بنگلہ دیش اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے روابط پر تشویش ہو، لیکن ہم نئی دہلی کو یقین دلا سکتے ہیں کہ یہ دو خودمختار ممالک کے درمیان ایک معمول کا تعلق ہے۔ بنگلہ دیش اپنی سرزمین کسی تیسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔‘

سابق سفیر کے مطابق، ’اسی طرح چین کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی انڈیا کے لیے تشویش کا باعث نہیں بننے چاہییں۔ چین کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں شراکت دار رہا ہے۔ بنگلہ دیش کو اس تعاون کی ضرورت ہے اور چین یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ اسے فراہم کر سکے۔

ترکی بھی بنگلہ دیش کے لیے تیزی سے ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ڈھاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور اپنے معاشی و تجارتی شراکت داروں میں تنوع لانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US