پاکستان کے خلاف تباہ کن بولنگ کے بعد انگلینڈ کے بولرز کا گیند بانٹنے کا انوکھا منصوبہ: ’میں نے پہلی بار ایسا ہوتے دیکھا ہے‘

ٹنگ اور رابنسن 2006 میں اولڈ ٹریفورڈ میں پاکستان کے خلاف سٹیو ہارمیسن اور مونٹی پنیسر کے بعد انگلینڈ کے وہ پہلے بولرز ہیں جنھوں نے ایک ہی ٹیسٹ اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے میدان سے باہر آئے اور ایک گیند کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا۔
انگلینڈ کے بولرز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ
Getty Images

جس طرح کسی فٹبالر کے لیے ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد میچ کی گیند اپنے پاس رکھنا ایک روایت ہے، اسی طرح کوئی بولر پانچ وکٹیں لینے کے بعد کرکٹ کی گیند اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔

لیکن اگر ایک ہی اننگز میں دو بولرز پانچ پانچ وکٹیں لے لیں تو کیا ہوتا ہے؟

انگلینڈ کے فاسٹ بولرز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن پانچ پانچ وکٹیں لینے کے بعد اس کا ایک حل نکال لیا۔

ٹنگ نے ٹیسٹ میچ سپیشل سے کہا کہ ’روبو نے کہا کہ ہم گیند کو آدھا آدھا تقسیم کر سکتے ہیں۔ گراؤنڈ اسٹاف نے مہربانی کرتے ہوئے ایسا کر دیا۔‘

’میں نے پہلی بار ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اسے کہیں سجا کر رکھوں گا۔‘

رابنسن نے میڈیا کانفرنس میں اپنی آدھی گیند دکھائی اور وضاحت کرتے ہوئے کہا ’ہم میدان سے باہر آ رہے تھے۔‘

’جاش نے یہ بات کہی اور میں نے کہا 'ہمیں واقعی ایسا کرنا چاہیے، یہ کافی دلچسپ ہوگا۔‘

’کرکٹ کی گیند کے آدھے حصے رکھنے کی مثال زیادہ نہیں ، اس لیے یہ ایسی چیز ہوگی جسے ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔‘

ان دونوں فاسٹ بولرز کی شاندار کارکردگی نے جو روٹ کو انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان کے طور پر اپنے دوسرے دور کے پہلے دن بہترین آغاز دلانے میں مدد دی۔

انگلینڈ نے ٹاس جیتنے کے بعد ٹنگ نے 46 رنز دے کر 5 وکٹیں اور رابنسن نے 51 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت پاکستان کی پوری ٹیم 171 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ عبداللہ شفیق 61 رن بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔ دن کے اختتام تک لیڈز میں میزبان ٹیم کا سکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز تھا۔

ٹنگ اور رابنسن 2006 میں اولڈ ٹریفورڈ میں پاکستان کے خلاف سٹیو ہارمیسن اور مونٹی پنیسر کے بعد انگلینڈ کے وہ پہلے بولرز ہیں جنھوں نے ایک ہی ٹیسٹ اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

ہیڈنگلے میں وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے میدان سے باہر آئے اور ایک گیند کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

رابنسن نے کہا ’ٹیم منیجر وین بینٹلی اسے گراؤنڈ سٹاف کے پاس لے گئے۔‘

’میں نے کہا کہ ’کیا آپ کے خیال میں وہ یہ کر سکیں گے؟‘ پانچ منٹ کے اندر وہ اسے واپس لے آئے اور کام ہو چکا تھا۔ یہ واقعی بہت اچھا ہے۔‘

کامیابی اور بیٹی کی دوہری خوشی

رابنسن کے لیے پہلے ٹیسٹ میں یہ کامیابی اس وقت آئی جب صرف چند روز قبل ان کی اہلیہ میا کے ہاں ان کے پہلے مشترکہ بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ ننھی ایوا گذشتہ جمعرات کی علی الصبح پیدا ہوئی تھی۔

رابنسن، جن کا ایک اور بچہ بھی پچھلے رشتے سے ہے، نے کہا ’جب سے میں لیڈز کے ہوٹل پہنچا ہوں، اپنی نیند پوری کر رہا ہوں۔‘

’ایک اور بچے کی پیدائش واقعی ایک بہت خاص ہفتہ بنا دیتی ہے۔ جب آپ پیدائش کے بعد اپنے بچوں سے دور ہوتے ہیں اور پھر اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو آج کا دن اور بھی زیادہ خوشگوار لگتا ہے۔ آج ایسا کرنا میرے لیے بہت اہم تھا۔‘

’میں جانتا ہوں کہ وہ یہاں موجود نہیں ہیں، لیکن میں پورا وقت انہی کے بارے میں سوچتا رہا۔‘

رابنسن کی یہ بولنگ، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی پانچویں پانچ وکٹوں کی کارکردگی تھی، انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی کے بعد ان کی مسلسل کامیابی کا تسلسل ہے۔ انھیں موسمِ گرما کے آغاز میں دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

32 سالہ رابنسن نے اپنی فٹنس کے بارے میں خدشات کے باعث دو سال سے زیادہ عرصے تک ٹیم سے باہر رہنے کے بعد لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا۔

رابنسن نے اپنی واپسی کو یادگار بناتے ہوئے بلیک کیپس کے خلاف میچ میں مجموعی طور پر سات وکٹیں حاصل کیں، جن میں ایک اننگز میں پانچ وکٹیں بھی شامل تھیں۔

اب ان کے نام 21.25 کی اوسط سے 88 ٹیسٹ وکٹیں ہیں۔ 1914 کے بعد سے انگلینڈ کے کسی بھی فاسٹ بولر نے اس سے بہتر اوسط کے ساتھ اتنی زیادہ وکٹیں حاصل نہیں کیں۔

رابنسن نے کہا ’میرا خیال ہے کہ ٹیم سے باہر رہنے کے دوران میں نے اپنے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔‘

’اس وقت میں شاید خود کو پہلے سے بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ میں شاید ابھی اتنی اچھی ردھم میں نہیں ہوں، حالانکہ وکٹیں لینے کے بعد یہ بات عجیب لگ سکتی ہے، لیکن میں اتنی اچھی ردھم میں نہیں ہوں جتنا میں چاہتا ہوں۔‘

’اگر میں مسلسل کھیلتا رہوں اور فٹ رہوں تو امید ہے کہ وہ ردھم حاصل کر لوں گا اور اچھی کارکردگی جاری رکھ سکوں گا۔‘

پاکستان کا انگلینڈ میں ٹیسٹ ریکارڈ

خیال رہے کہ نوے کی دہائی میں پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈ میں ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔

پاکستان نے سنہ 1992 میں جاوید میانداد کی کپتانی میں انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان ریٹائر ہو چکے تھے اور پاکستان کی ٹیم ون ڈے ورلڈ کپ کی فاتح تھی۔

چار سال بعد پاکستان نے سنہ 1996 میں ایک بار پھر انگلینڈ کو شکست دی، اس مرتبہ پاکستان ٹیم کی کپتانی وسیم اکرم کر رہے تھے۔

لیکن اس کے بعد پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈ اور نیوٹرل وینیو متحدہ عرب امارات میں تو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتتا رہا ہے۔ لیکن 30 سال گزرنے کے باوجود دوبارہ انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

سنہ 2016 میں مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان نے چار ٹیسٹ میچز کی سیریز دو، دو سے برابر کی تھی۔

سنہ 2018 میں بھی پاکستان نے دو ٹیسٹ میچز کی سیریز ایک، ایک سے برابر کی تھی۔

پاکستان نے آخری مرتبہ سنہ 2020 میں انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی جس میں اسے ایک، صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ 27 اگست کو لارڈز جبکہ تیسرا ٹیسٹ میچ نو ستمبر کو برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US