امریکی سینیٹرز کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار خاتون جنھوں نے مبینہ طور پر خفیہ ایجنٹوں سے بم کی تیاری کے لیے 200 ڈالر لیے

جیسیکا بووی نے پانچ سال پہلے اسلام قبول کیا تھا اور ان پر دولت اسلامیہ کی رکن ہونے کا الزام بھی ہے۔ دستاویزات کے مطابق وہ ایک حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں لیکن اس بات سے بے خبر تھیں کہ ان کی مدد کرنے والے ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹ ہیں۔

امریکہ میں فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن ایف بی آئی نے نیو یارک کی ایک خاتون کو مبینہ طور پر سٹیٹ کیپیٹل عمارت میں بم کے ذریعے اراکین اسمبلی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ 35 سالہ جیسیکا بووی نے ماضی میں شدت پسند نام نہاد دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ ان پر ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو وسائل فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ جیسیکا بووی نے متعدد بار اس عمارت کا معائنہ کیا اور ان کے پاس ایک جعلی بم اور خراب گن بھی تھی جو انڈرکوور ایجنٹس نے انھیں فراہم کیے تھے۔

ان کے خلاف الزمات میں بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر جیسیکا نے ایجنٹس سے کہا تھا کہ ’میں عمارت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتی ہوں اور سینیٹرز کو قتل کرنا چاہتی ہوں۔‘

اس وقت یہ واضح نہیں کہ اپنے خلاف عائد الزامات پر جیسیکا کا کیا موقف ہے۔

استغاثہ کے مطابق نیو یارک میں البنی سے تعلق رکھنے والی جیسیکا نے مبینہ طور پر ایف بی آئی کے لیے کام کرنے والے لوگوں سے اس منصوبے پر بات چیت کی تھی اور دولت اسلامیہ کے اراکین کے بھیس میں ایف بی آئی ایجنٹس کے ساتھ کئی ہفتوں تک رابطے میں رہیں۔

استغاثہ کے مطابق جیسیکا نے نیو یارک کی اس عمارت کو اس لیے چنا تھا کیوں کہ ان کے خیال میں یہ وائٹ ہاؤس سے زیادہ آسان ہدف تھا۔

مبینہ طور پر انھوں نے خفیہ ایجنٹس سے کہا تھا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ امریکی نظام پر اس کا اثر پڑے۔‘ استغاثہ کا دعوی ہے کہ جیسیکا نے مبینہ حملے سے قبل پانچ بار جاسوسی کے لیے اس عمارت کا دورہ کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت جیسیکا کا ارادہ تھا کہ وہ کھانا ڈیلیور کرنے والے بیگ میں بم چھپائیں گی۔ ان کے خلاف جمع کرائی جانے والی دستاویزات میں اس بیگ کی ایک تصویر بھی موجود ہے جو انھوں نے مبینہ طور پر ایجنٹس کو بھی دکھایا تھا۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹس نے جیسیکا کو ایک مقامی ہارڈ ویئر سٹور سے بم کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد خریدنے کے لیے 200 ڈالر بھی دیے تھے۔

وہی ایجنٹ ان کو ہوم ڈپو سٹور تک گاڑی میں لے کر بھی گئے اور مبینہ طور پر سٹور سے باہر نکلنے پر جیسیکا نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ یہ درست کیل ہیں۔

مبینہ طور پر انھوں نے دو خفیہ ایف بی آئی ایجنٹوں سے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ ان کی لمبائی کافی ہو گی کیوں کہ کیل بم کے حصے کے طور پر کام کرتے ہیں ناں؟‘

دستاویزات کے مطابق بدھ کے دن ان کو گرفتار کیا گیا تو ان کے پاس چھریاں موجود تھیں اور دولت اسلامیہ کا تحریری بیعت نامہ بھی تھا۔

جمعرات کو عدالت میں ایف بی آئی کی جانب سے جمع کرائی جانے والی دستاویزات کے مطابق جیسیکا سوشل میڈیا پر متحرک ہیں اور ’امریکہ مخالف پیغامات کا پرچار کرتی ہیں۔‘

ان دستاویزات کے مطابق اسی وجہ سے ان پر بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی گئی۔ دستاویزات کے مطابق جیسیکا نے القاعدہ کی جانب سے ستمبر 2001 میں ہونے والے حملوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر تعریفی تحاریر لکھی تھیں۔

مبینہ طور پر جیسیکا نے خفیہ ایجنٹس کو بتایا تھا کہ انھوں نے پانچ سال پہلے اسلام قبول کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ’امریکی پرچم لہرانے والی چھوٹی سی بچی سے ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد گرنے والے ٹاورز کے سٹکرز رکھنے والی عورت بن گئیں۔‘

نیو یارک گورنر کیتھی ہوچل نے ایکس پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’میں ایف بی آئی اور نیو یارک پولیس کا مشکور ہوں کہ انھوں نے یہ تفتیش کی اور اس خطرناک شخصیت کو گرفتار کیا۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US