”میں کبھی پاکستانی شہری تھی ہی نہیں“ سلمیٰ آغا نے بھارت میں رہنے کی وجہ بتا دی

image

”یہ اچھا سوال ہے کیونکہ میری کبھی پاکستانی شہریت تھی ہی نہیں۔ میں کبھی پاکستانی شہری نہیں رہی، ہم برطانیہ منتقل ہوگئے تھے اور ہم سب کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہیں۔ میری والدہ اور نانی دونوں کا تعلق بھارتی شہر امرتسر سے تھا۔ میں نے صرف پاکستان میں کام کیا اور وہاں گزارا ہوا وقت میرے لیے بہت یادگار رہا۔ میرے وہاں بہت سے دوست تھے۔ ہمیں پاکستان کے ٹیکنیشنز، فنکار اور ڈرامے بہت پسند ہیں، یہاں بھارت میں بھی پاکستانی ڈرامے شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ میرے پاس بھارتی شہریت بھی نہیں، میرے پاس بھارتی کارڈ اور برطانوی پاسپورٹ ہے، جس کی بنیاد پر ہمیں وہاں رہنے کی اجازت ہے۔ بھارت نے ہمیں محبت اور عزت دی۔“

پاکستانی اور بھارتی شوبز میں اپنی پہچان بنانے والی معروف اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران اس سوال کا جواب دیا کہ انہوں نے پاکستان کے بجائے بھارت میں رہنے کا انتخاب کیوں کیا۔

جہانزیب اعوان کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سلمیٰ آغا نے واضح کیا کہ وہ پاکستانی شہری نہیں تھیں بلکہ ان کا خاندان برطانیہ منتقل ہوگیا تھا، جہاں انہیں برطانوی پاسپورٹ حاصل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ان کا تعلق بنیادی طور پر شوبز سے رہا اور وہیں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا اہم حصہ گزارا۔

سلمیٰ آغا نے پاکستان میں اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کا وقت ان کے لیے انتہائی خوبصورت اور یادگار رہا۔ انہوں نے پاکستانی فنکاروں، ٹیکنیشنز اور ڈراموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بھی پاکستانی ڈراموں کو پسند کیا جاتا ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ اور نانی کا تعلق امرتسر سے تھا، اسی خاندانی پس منظر کے باعث بھارت سے بھی ان کا ایک تعلق رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس بھارتی شہریت نہیں بلکہ بھارتی کارڈ اور برطانوی پاسپورٹ ہے، جس کے تحت انہیں بھارت میں رہنے کی اجازت حاصل ہے۔

سلمیٰ آغا نے اپنے جواب میں فن کی سرحدوں سے آزاد حیثیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ بھارت نے انہیں محبت اور عزت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے کا تجربہ ان کی زندگی کا ایک یادگار حصہ ہے اور وہاں سے جڑی یادیں آج بھی ان کے لیے اہم ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US