پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی بیٹر شوال ذوالفقار نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انجری کے بعد ٹیم میں کم بیک کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، تاہم وہ اس بات کے لیے پرامید تھیں کہ جب بھی موقع ملے گا تو اپنا بہترین کھیل پیش کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سری لنکا کے دورے میں ان کی کوشش تھی کہ رنز بنا کر ٹیم کی جیت میں حصہ ڈالیں اور آگے بھی ان کا یہی عزم ہے کہ اپنی کارکردگی سے پاکستان ٹیم کو فائدہ پہنچائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انجری کا دورانیہ کھلاڑی کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر انتہائی سخت ہوتا ہے لیکن اس وقت انہوں نے یہی سوچ کر حوصلہ برقرار رکھا کہ یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔ شوال ذوالفقار کے مطابق اب کرکٹ پہلے کے مقابلے میں کافی تبدیل ہو چکی ہے، اسی لیے پوری ٹیم اپنی خامیاں دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ خاص طور پر پاور ہیٹنگ اور فیلڈنگ کو بہتر بنانے پر فوکس کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے فٹنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فارمیٹ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، فٹنس سب سے بنیادی چیز ہے کیونکہ دباؤ والے میچز میں کھلاڑی کی فٹنس ہی کام آتی ہے۔ کپتان فاطمہ ثناء سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ طویل عرصے سے کھیل رہی ہیں اور ان سے کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ شوال ذوالفقار نے مزید بتایا کہ پچھلے چھ مہینوں سے ٹیم مثبت سوچ اور بہتر انٹینٹ کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔