دوسری اننگز میں بھی مہمان ٹیم کا آغاز اچھا نہیں رہا اور پہلی اننگز کی طرح اس کی پہلی وکٹ صفر پر ہی گری۔ آؤٹ ہونے والے بلے باز امام الحق تھے جو دوسری اننگز کے پہلے ہی اوور کی پانچویں گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے۔
اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔۔۔ لیڈز میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم انگلینڈ کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے میں بھی ناکام رہی اور محض 131 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔
پاکستان کی کمزور بیٹنگ لائن اپ صرف 37.3 اوورز میں آوٹ ہو گئی۔ جو روٹ کے انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان کے طور پر دوسرے دور کا یہ بہترین آغاز رہا ہے کیونکہ ان کی ٹیم نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی ہے۔
دوسری اننگز میں بھی مہمان ٹیم کا آغاز اچھا نہیں رہا اور پہلی اننگز کی طرح اس کی پہلی وکٹ صفر پر ہی گری۔ آؤٹ ہونے والے بلے باز امام الحق تھے جو دوسری اننگز کے پہلے ہی اوور کی پانچویں گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے۔
پہلی اننگز میں صفر کی خفت اٹھانے والے اذان اویس اس مرتبہ نو رنز بنا سکے اور جوفرا آرچ کی گیند پر لیگ سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔
اس کے بعد بھی وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا اور مڈل آرڈر کے بلے بازوں میں سے کوئی بھی وکٹ پر رک کر قابل ذکر سکور کرنے میں ناکام رہا۔
کپتان شان مسعود نے کچھ مزاحمت کی کوشش کی اور 29 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ عبداللہ شفیق نے 15 رنز بنائے، لیکن دونوں بلے باز بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہے۔ اولی رابنسن اور جاش ٹنگ نے درمیانی اوورز میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے پاکستانی شائقین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
سعود شکیل، جن سے ایک بڑی اننگز کی توقع تھی، صرف 14 رنز بنا سکے۔ اس کے بعد شان مسعود بھی سلپ میں کیچ دے کر واپس لوٹ گئے، جبکہ سلمان آغا ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے۔ ان وکٹوں نے پاکستان کی شکست کو تقریباً یقینی بنا دیا تھا۔
پاکستان کی آخری امید محمد رضوان تھے، جنھوں نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 39 گیندوں پر 41 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں پانچ چوکے شامل تھے اور ایک مرحلے پر ایسا محسوس ہوا کہ وہ مزاحمت کو طول دے سکتے ہیں، لیکن ساتھی بلے باز ان کا ساتھ نہ دے سکے۔ رضوان کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کی آخری امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔
انگلینڈ کے بولرز نے پورے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ کو دباؤ میں رکھا۔ جوفرا آرچر نے نئی گیند سے ابتدائی نقصان پہنچایا، اولی رابنسن نے مسلسل اچھی بولنگ کی جبکہ جاش ٹنگ نے درمیانی بیٹنگ لائن کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔ گس اٹکنسن نے محمد رضوان کی اہم وکٹ لے کر انگلینڈ کی فتح یقینی بنا دی۔
پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر دباؤ میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور نوجوان اور سینئر بلے باز دونوں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔۔۔ جبکہ بولنگ یونٹ بھی انگلینڈ کو پہلی اننگز میں زیادہ سکور کرنے سے نہ روک سکا۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے وابستہ ایک تجزیہ کار نے اس صارتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اگر تیسری بار بھی بیٹنگ کرتا تو تب بھی اننگز سے ہار جاتا۔۔۔‘

اس سے قبل میچ کے تیسرے دن کے ابتدائی سیشن میں انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 409 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور یوں اسے پاکستان پر 238 رنز کی برتری ملی۔
جمعے کو انگلش بلے بازوں نے پہلی اننگز آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 366 رنز سے دوبارہ شروع کی تو جیمی سمتھ اور جوفرا آرچر نے مزید کسی نقصان کے بغیر سکور 392 تک پہنچا دیا۔
اس موقع پر خرم شہزاد نے سمتھ کو آؤٹ کر کے پاکستان کو نویں کامیابی دلوائی۔ آرچر نے جوش ٹنگ کے ساتھ مل کر ٹیم کے سکور میں دسویں وکٹ کے لیے مزید 17 رنز کا اضافہ کیا اور جب ٹنگ خرم شہزاد کی اس اننگز میں تیسری وکٹ بنے تو انگلش ٹیم کو مہمان ٹیم پر 238 رنز کی سبقت مل چکی تھی۔
انگلینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں چار کھلاڑیوں نے نصف سنچریاں بنائیں اور ہیری بروک 91، جارڈن کوکس 73، جو روٹ 66 اور ڈین لارنس 51 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ روٹ نے اپنی 68ویں نصف سنچری کی بدولت انڈین بلے باز سچن تندولکر کا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی برابر کیا۔
پاکستان کی جانب سے علی عثمان پانچ وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ خرم شہزاد نے تین اور محمد عباس اور محمد علی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
کرکٹ تجزیہ کار عاطف نواز نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’انگلینڈ نے رات بھر کے سکور میں مزید 45 رنز کا اضافہ کر لیا۔ اب اسے 238 رنز کی برتری حاصل ہے، جو ایسی پچ پر بہت بڑی محسوس ہوتی ہے جہاں فاسٹ بولرز کو اب بھی خاصی مدد مل رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ 'اگر پاکستان کو یہ میچ چوتھے دن تک لے جانا ہے تو بلے بازوں کو اپنی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری لانا ہوگی۔'
ایک اور صارف نے لکھا کہ 'پہلی اننگز کے برعکس پاکستانی بلے باز اس بار صاف آسمان تلے بیٹنگ کریں گے، اس لیے بیٹنگ نسبتاً آسان ہونی چاہیے۔ امید ہے کہ وہ کم از کم بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے اچھا مقابلہ کریں گے۔'

’عثمان نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کیا‘
خیال رہے کہ پاکستان کی پوری ٹیم اس میچ میں اپنی پہلی اننگز میں 171 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی تھی اور جہاں سوشل میڈیا پر پاکستانی بلے بازوں پر تنقید ہو رہی ہے وہیں سپنر علی عثمان کی تعریف بھی کی جا رہی ہے۔
عثمان نامی ایک صارف نے لکھا کہ جس وکٹ پر انگلینڈ کے فاسٹ بولرز نے 10 وکٹیں لیں، وہیں علی عثمان نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
’انھوں نے پانچ وکٹیں لے کر تمام تر تنقید کو غلط اور اپنی سلیکشن کو درست ثابت کیا ہے۔‘
سپورٹس تجزیہ کار مظہر ارشد نے لکھا کہ ’ٹیسٹ کرکٹ میں لیڈز میں کسی غیرملکی سپنر کو پانچ وکٹیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں۔ علی عثمان سے قبل نیوزی لینڈ کے سپنر ٹام برٹ نے ایسا 77 برس قبل کیا تھا۔‘
ان کے علاوہ پاکستان کے تمام بولرز اور بیٹرز پر تنقید کی جا رہی ہے۔
راجہ محمد حسیب نامی ایکس صارف نے لکھا کہ ’پاکستان ایک ناقص ٹی20 ٹیم ہے جس کا کوئی بھی بلے باز 140 یا 150 کے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ نہیں کرتا اور یہ ایک ناقص ٹیسٹ ٹیم ہے جس کا کوئی بھی بولر 140 یا 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ نہیں کر سکتا۔‘
دوسری جانب انگلینڈ کے بلے باز ہیری بروک ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف اچھی بلے بازی کے بعد داد و تحسین سمیٹ رہے ہیں۔
ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’ہیری بروک ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے اچھے بلے باز بن سکتے ہیں۔ وہ جو روٹ جتنے مجموعی رنز تو شاید نہ بنا پائیں لیکن ان سے زیادہ رنز بنانے کی اوسط ضرور حاصل کر لیں گے۔‘
اولی رابنسن اور جوش ٹنگ کی بولنگ کے سامنے پاکستانی بلے باز بےبس
جس طرح کسی فٹبالر کے لیے ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد میچ کی گیند اپنے پاس رکھنا ایک روایت ہے، اسی طرح کوئی بولر پانچ وکٹیں لینے کے بعد کرکٹ کی گیند اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔
لیکن اگر ایک ہی اننگز میں دو بولرز پانچ پانچ وکٹیں لے لیں تو کیا ہوتا ہے؟
انگلینڈ کے فاسٹ بولرز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن پانچ، پانچ وکٹیں لینے کے بعد اس کا ایک حل نکال لیا۔
ٹنگ نے ٹیسٹ میچ سپیشل سے کہا کہ ’روبو نے کہا کہ ہم گیند کو آدھا آدھا تقسیم کر سکتے ہیں۔ گراؤنڈ اسٹاف نے مہربانی کرتے ہوئے ایسا کر دیا۔‘
’میں نے پہلی بار ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اسے کہیں سجا کر رکھوں گا۔‘
رابنسن نے میڈیا کانفرنس میں اپنی آدھی گیند دکھائی اور وضاحت کرتے ہوئے کہا ’ہم میدان سے باہر آ رہے تھے۔‘
’جاش نے یہ بات کہی اور میں نے کہا 'ہمیں واقعی ایسا کرنا چاہیے، یہ کافی دلچسپ ہوگا۔‘
’کرکٹ کی گیند کے آدھے حصے رکھنے کی مثال زیادہ نہیں ، اس لیے یہ ایسی چیز ہوگی جسے ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔‘

ان دونوں فاسٹ بولرز کی شاندار کارکردگی نے جو روٹ کو انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان کے طور پر اپنے دوسرے دور کے پہلے دن بہترین آغاز دلانے میں مدد دی۔
انگلینڈ نے ٹاس جیتنے کے بعد ٹنگ نے 46 رنز دے کر 5 وکٹیں اور رابنسن نے 51 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت پاکستان کی پوری ٹیم 171 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ عبداللہ شفیق 61 رن بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔ دن کے اختتام تک لیڈز میں میزبان ٹیم کا سکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز تھا۔
ٹنگ اور رابنسن 2006 میں اولڈ ٹریفورڈ میں پاکستان کے خلاف سٹیو ہارمیسن اور مونٹی پنیسر کے بعد انگلینڈ کے وہ پہلے بولرز ہیں جنھوں نے ایک ہی ٹیسٹ اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
ہیڈنگلے میں وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے میدان سے باہر آئے اور ایک گیند کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا۔
رابنسن نے کہا ’ٹیم منیجر وین بینٹلی اسے گراؤنڈ سٹاف کے پاس لے گئے۔‘
’میں نے کہا کہ ’کیا آپ کے خیال میں وہ یہ کر سکیں گے؟‘ پانچ منٹ کے اندر وہ اسے واپس لے آئے اور کام ہو چکا تھا۔ یہ واقعی بہت اچھا ہے۔‘
پاکستان کا انگلینڈ میں ٹیسٹ ریکارڈ
خیال رہے کہ نوے کی دہائی میں پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈ میں ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔
پاکستان نے سنہ 1992 میں جاوید میانداد کی کپتانی میں انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان ریٹائر ہو چکے تھے اور پاکستان کی ٹیم ون ڈے ورلڈ کپ کی فاتح تھی۔
چار سال بعد پاکستان نے سنہ 1996 میں ایک بار پھر انگلینڈ کو شکست دی، اس مرتبہ پاکستان ٹیم کی کپتانی وسیم اکرم کر رہے تھے۔
لیکن اس کے بعد پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈ اور نیوٹرل وینیو متحدہ عرب امارات میں تو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتتا رہا ہے۔ لیکن 30 سال گزرنے کے باوجود دوبارہ انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
سنہ 2016 میں مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان نے چار ٹیسٹ میچز کی سیریز دو، دو سے برابر کی تھی۔
سنہ 2018 میں بھی پاکستان نے دو ٹیسٹ میچز کی سیریز ایک، ایک سے برابر کی تھی۔
پاکستان نے آخری مرتبہ سنہ 2020 میں انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی جس میں اسے ایک، صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ 27 اگست کو لارڈز جبکہ تیسرا ٹیسٹ میچ نو ستمبر کو برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔