پہاڑ پر موجود انتظامیہ کےعملے کو وہ بچہ چوٹی کی طرف جانے والے راستے کے چھٹے سٹیشن کے قریب ملا۔ جس کے بعد انھوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ بعد میں پولیس نے بچے کے والد کو اسی راستے کے آٹھویں سٹیشن پر ڈھونڈ لیا جو وہاں سے تقریباً تین گھنٹے کی پیدل مسافت پر تھا۔
جاپان میں ایک شخص کو اپنے سات سالہ بیٹے کو ملک کے سب سے بلند پہاڑ پر اکیلا چھوڑ کر آگے بڑھ جانے پر پولیس کی سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چھوٹے بچے کو ماؤنٹ فوجی پر دھند اور بارش کے دوران ایک بنچ پر بیٹھا ہوا دیکھا گیا۔
یہ جگہ 2,000 میٹر (6,500 فٹ) سے زیادہ بلندی پر واقع تھی جہاں بچے کے والد اپنے بیٹے کو کئی گھنٹوں تک صرف ایک سافٹ ڈرنک اور ناشتے کے ساتھ چھوڑ گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 48 سالہ شخص نے بچے کے تھک جانے کی شکایت پر اسے کہا کہ ’تم یہیں انتظار کرو‘ اور اس کے بعد وہ اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ اوپر پہاڑ پر چڑھتے رہے۔
پہاڑ پر موجود انتظامیہ کےعملے کو وہ بچہ چوٹی کی طرف جانے والے راستے کے چھٹے سٹیشن کے قریب ملا۔ جس کے بعد انھوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ بعد میں پولیس نے بچے کے والد کو اسی راستے کے آٹھویں سٹیشن پر ڈھونڈ لیا جو وہاں سے تقریباً تین گھنٹے کی پیدل مسافت پر تھا۔
فائل فوٹومیڈیا رپورٹس کے مطابق بچہ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 7:30 بجے اکیلا پایا گیا۔
پولیس اہلکاروں نے بچے کے والد کو اس وقت کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جب وہ پہاڑ کے بلند مقام سے واپس آ کر اپنے بیٹے سے ملے۔
جاپان ٹوڈے کے مطابق ایک اہلکار نے انھیں کہا کہ ’اگر آپ اپنے بچےکے ساتھہیں اور وہ آگے نہ جا پا رہا ہو تب بھی بچے کو پیچھے چھوڑ دینا ناقابلِ قبول ہے چاہے آپ کو ہائیکنگ چھوڑ دینا پڑے۔‘
بتایا جاتا ہے کہ والد نے اپنے عجلت میں کیے گئے فیصلے پر معذرت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ خاندان فوجینومیا روٹ پر تھا جو پہاڑ کے پانچویں سٹیشن سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔
کوہ پیمائی کے رہنماؤں کے مطابق وہاں سے چوٹی تک پہنچنے میں تقریباً پانچ گھنٹے لگتے ہیں جبکہ واپس نیچے آنے میں مزید تین گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
3,776 میٹر (12,389 فٹ) بلند ماؤنٹ فوجی حالیہ برسوں میں کوہ پیماؤں کو پیش آنے والے کئی حادثات کی وجہ سے بھی خبروں میں رہا ہے۔
اس بلند چوٹی سے جولائی میں 99 سالہ ایک خاتون کو بچایا گیا تھا جب وہ اس راستے پر چڑھائی کے دوران گر گئیں اور ان کی کولہے اور کمر پر چوٹیں آئیں۔
گذشتہ سال بھی ماؤنٹ فوجی پر ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا تھا۔ جب ایک یونیورسٹی کے 27 سالہ طالب علم، جو سرکاری کوہ پیمائی سیزن سے ہٹ کر پہاڑ پر گیا تھا، چار دن کے اندر دو مرتبہ ریسکیو کیا گیا۔
پہلی بار مدد ملنے کے بعد وہ اپنا گم شدہ موبائل فون تلاش کرنے کے لیے دوبارہ پہاڑ پر چلا گیا تھا۔
ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد اس پہاڑ پر چڑھتے ہیںٹوکیو کے جنوب مغرب میں واقع ماؤنٹ فوجی ایک فعال آتش فشاں بھی ہے جسے 2013 میں عالمی ورثے کا درجہ دیا گیا تھا۔
ماؤنٹ فوجی کو ماؤنٹ ٹیٹ اور ماؤنٹ ہاکو کے ساتھ جاپان کے روایتی مقدس پہاڑوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد اس پہاڑ پر چڑھتے ہیں تاہم زیادہ ہجوم سے بچنے کے لیے بعض راستوں پر روزانہ چڑھنے والوں کی تعداد کی حد مقرر ہے۔