راولپنڈی پولیس نے ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ کے قتل کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب کے مطابق عائشہ کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا اور واردات میں اس کے اپنے والد، بھائی اور دیگر رشتہ دار ملوث نکلے ہیں۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز نے بتایا کہ پولیس نے ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے کیس میں ملوث 5 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں مقتولہ کا والد، بھائی، چچا اور چچا زاد بھائی کا بیٹا شامل ہیں، جبکہ پولیس کے مطابق دیگر رشتہ دار بھی واردات میں شریک تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عائشہ کو ایک تقریب میں شرکت کرنے پر مبینہ طور پر پہلے سے بنائے گئے منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی کڑیاں جوڑنے اور ملزمان تک پہنچنے میں جدید ٹیکنالوجی اور کیمروں سے حاصل ہونے والی معلومات نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ واقعہ 14 اگست کی شام ٹیکسلا کے علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں ٹک ٹاکر عائشہ گلامنہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی تھیں۔ فائرنگ کی زد میں آکر ان کی بہن اور بھائی بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد ٹیکسلا پولیس نے قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی تھی۔ پولیس کے مطابق اب کیس میں گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔