پاکستان ہاکی ٹیم عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 2-4 سے شکست کے بعد 11ویں اور 12ویں پوزیشن کی جنگ لڑنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
عالمی کپ میں پاکستان ہاکی کو ناصرف شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ اب تک پانچ میچوں میں صرف جاپان کے خلاف ایک میچ ہی جیت سکی ہے، بلکہ بھارتی ٹیم بھی پیر کے روز آخری چار کی دوڑ سے باہر ہوگئی۔
ارجنٹائن کے ہاتھوں 3-5 سے آؤٹ کلاس ہونے کے بعد بھارت کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔
گزشتہ دو اولمپک کھیلوں میں کانسی کا تمغہ جیتنے کی وجہ سے عالمی کپ میں ایشیائی ٹیموں میں سے بھارتی ٹیم سے کافی توقعات وابستہ تھیں کہ وہ آخری چار میں جگہ بنا لے گی۔
لیکن جاری عالمی کپ میں ایشیائی ٹیمیں ٹورنامنٹ کی انتہائی تیز، جسمانی طور پر فٹ اور مضبوط یورپی ٹیموں کے سامنے جدوجہد کرتی دکھائی دی ہیں۔
نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی شکست نے اس بات کو نمایاں کیا کہ ایونٹ میں ٹیم کا دفاع کتنا کمزور رہا ہے، جبکہ فارورڈز کا جارحانہ ہاکی کھیلنے سے ہچکچانا بھی کئی لوگوں کے لیے حیران کن رہا ہے۔
کمزور دفاع کے علاوہ، پاکستان کے لیے پینلٹی کارنرز کو گول میں تبدیل کرنے کی شرح بھی انتہائی ناقص رہی ہے۔
اگرچہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے حال ہی میں ملک گیر ہاکی لیگ منعقد کرنے اور اسکولوں و تعلیمی اداروں میں اس کھیل کو فروغ دینے کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ سوالات اب بھی برقرار ہیں کہ آنے والے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی بہتر کارکردگی کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔
سابق اولمپین وسیم فیروز نے کہا، "طویل المدتی منصوبہ بندی کے لیے یہ ہاکی لیگ اور دیگر اقدامات تو ٹھیک ہیں، لیکن اس وقت پاکستان ہاکی کو فوری بہتری کی ضرورت ہے جو صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم ایشیائی کھیلوں میں بھارت، ملائیشیا، جاپان، چین، کوریا اور دیگر ٹیموں کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائیں۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک پاکستان ہاکی میچز جیتنا شروع نہیں کرتی، نوجوانوں کی اس کھیل میں دلچسپی ختم ہوتی جائے گی، جو پہلے ہی ملک میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا، "ہر کوئی کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے اور ہمیں گراس روٹ لیول (بنیادی سطح) سے بھی مناسب ٹیلنٹ نہیں مل رہا۔"
ایک اور بین الاقوامی کھلاڑی احمد عالم نے کہا کہ پی ایچ ایف اور اس کے عہدیداروں کو اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان یورپی یا 'سینا' (SENA) ممالک کو شکست دینے میں کیوں ناکام رہا ہے اور صرف ایشیائی ٹیموں کے خلاف ہی کیوں جیت سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، "جاپان کے خلاف بھی ہم صرف ایک گول کی مشکل فتح حاصل کر سکے۔ آپ ایف آئی ایچ پرو لیگ کو دیکھ لیں جہاں ہم باقی تمام یورپی اور 'سینا' ٹیموں کے خلاف اپنے تمام میچ ہار گئے تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ہاکی دیگر ممالک سے بہت پیچھے رہ گئی ہے۔"
ان کا کہنا تھا کہ بھارت واحد ایشیائی ٹیم تھی جو یورپی ٹیموں، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا مقابلہ کر رہی تھی، کیونکہ ان کا ہاکی سسٹم اب بھی ان کے لیے کام کر رہا ہے۔
ہاکی کے سابق عظیم کھلاڑی رشید الحسن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک دور میں عالمی ہاکی پر حکمرانی کرنے والے پاکستان اور بھارت دونوں ہی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے باہر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، لیکن اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں کیونکہ ہم نے ایف آئی ایچ میں موجود یورپی ممالک کو اپنے فائدے کے لیے قوانین تبدیل کرنے دیے، اور دوسرا انہوں نے اپنے جارحانہ اور تیز اندازِ کھیل سے اس تبدیل شدہ صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔"
ایف آئی ایچ ہاکی رینکنگ میں 12ویں نمبر پر موجود پاکستان اگر 28 اگست کو کلاسیفیکیشن میچ میں جنوبی افریقہ کو ہرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی درجہ بندی میں کم از کم ایک درجے کا سدھار آئے گا، جو حالیہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی لحاظ سے پاکستان ہاکی کے لیے ایک مثبت پہلو ہوگا۔