آج کا ہیش ٹیگ آیت نور ہے، جسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا اور لاش کنویں میں پھینک دی گئی۔ کل کا ہیش ٹیگ وہ نومولود بچہ تھا جسے بوری میں زندہ پایا گیا۔ اس سے پہلے 45 سالہ حنا تھی، جسے اپنے ہی گھر میں اپنے شوہر نے قتل کردیا۔ اس سے پہلے 20 سالہ معذور لڑکی تھی، جس کے ساتھ تھانے میں پولیس اہلکاروں نے زیادتی کی۔ اس سے پہلے ہیش ٹیگ 18 ماہ کی عائزَل تھی۔ کیا کوئی کچھ کر رہا ہے؟ نہیں!
خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی تشدد اور قتل کے واقعات پر اداکارہ مریم نفیس بھی شدید غم و غصے میں آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے ایک جذباتی ویڈیو کے ذریعے معاشرے اور حکام سے سوال کیا کہ آخر ایسے لرزہ خیز واقعات کب تک صرف سوشل میڈیا کے ہیش ٹیگز تک محدود رہیں گے؟
مریم نفیس نے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج لوگ پانچ سالہ آیت نور کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، کل کسی اور معصوم بچے یا عورت کا نام ہیش ٹیگ بن جائے گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان واقعات کو روکنے کے لیے عملی طور پر کیا کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ہری پور سے تقریباً 15 روز قبل لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ آیت نور کی لاش یونیورسٹی روڈ پر واقع ایک گودام کے کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق بچی کے اغوا کے شبہے میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے تین ملزمان گرفتار ہوئے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں لاش ٹھکانے لگانے کا اعتراف کیا ہے۔
زl; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank">A post shared by Mariyam Nafees Amaan (@mariyam.nafees)
آیت نور کے لرزہ خیز قتل نے ایک بار پھر پاکستان میں خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم پر شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ہر واقعے کے بعد ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے ہیں، چند دن غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے، لیکن پھر ایک نیا واقعہ پچھلے سانحے کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک معصوم بچوں اور خواتین کے نام صرف سوشل میڈیا ٹرینڈز کا حصہ بنتے رہیں گے اور کب مجرموں کو ایسی سزائیں دی جائیں گی جو دوسروں کے لیے عبرت بن سکیں؟ بعض صارفین نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات کے بجائے حقیقی مجرموں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی ہونی چاہیے۔
کچھ صارفین نے معاشرے میں خواتین کو بری نظر سے دیکھنے اور جنسی جرائم کے رجحان کو بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویوں کے خلاف ابتدا ہی سے سخت کارروائی ضروری ہے۔ دوسری جانب بعض افراد نے شوبز شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس تک محدود نہ رہیں بلکہ ایسے واقعات کے خلاف اجتماعی طور پر آواز بھی اٹھائیں۔
مریم نفیس کی ویڈیو میں چھلکتے آنسوؤں نے ایک بار پھر وہ سوال سب کے سامنے رکھ دیا ہے جس کا جواب معاشرے اور متعلقہ اداروں دونوں کو دینا ہوگا: آخر آیت نور کے بعد اگلا ہیش ٹیگ کس معصوم کا ہوگا؟