اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے نتیجے میں بچوں کی اموات پر شوبز شخصیات بھی غمزدہ اور برہم ہیں۔ فنکاروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ داروں کا تعین، غفلت کی تحقیقات اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اداکار محمد احمد نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بچوں سے متعلق ایسے افسوس ناک واقعات بار بار سامنے آتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہیں بھلا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی کے سانحات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور پمز واقعے کے بعد بھی اگر جواب دہی نہ کی گئی تو متاثرہ ماؤں کا دکھ کیسے کم ہوگا۔
اداکارہ ازیکہ ڈینیل نے بھی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کے ضیاع پر چند روز تک افسوس اور مذمت ہوتی ہے، پھر معاملہ معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت مستقل احتساب اور ایسے اقدامات کی ہے جو مستقبل میں ایسے واقعات کو روک سکیں۔
زارا نور عباس نے کہا کہ مسلسل پیش آنے والے سانحات اور جواب دہی کے فقدان سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ زنیرہ انعام خان نے پمز آتشزدگی کو صرف ایک حادثہ قرار دینے کے بجائے مبینہ مجرمانہ غفلت اور بدانتظامی کی جانب توجہ دلائی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔
اداکارہ سبینہ فاروق نے بھی سانحے کے بعد متاثرہ بچوں کی صورتحال سے متعلق سوال اٹھایا جبکہ احسن خان اور نادیہ افغان نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ایک ماں اپنے بچے کی باقیات حوالے کرنے کی اپیل کرتی دکھائی دے رہی ہے۔