ویانا کے عجائب گھر سےچوری ہونے والا ہار مصر کی ملکہ نازلی کا تھا جو انھوں نے 1939 میں اپنی بیٹی فوزیہ کی ایران کے اس وقت کے ولی عہد محمد رضا پہلوی سے شادی کے موقع پر پہنا تھا۔ اس ہار میں جڑے ہیروں کا مجموعی وزن 200 قیراط سے زیادہ تھا۔
ویانا میں ایک میوزیم سے 600 سے زیادہ ہیروں سے سجا ایک ہار چوری کرنے والے دو افراد کی تلاش کے لیے بین الاقوامی کارروائی جاری ہے۔ دونوں افراد نے اس نمائش کا ٹکٹ خریدا تھا جس میں یہ ہار رکھا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق دونوں مشتبہ افراد نے جمعرات کی دوپہر ویانا کے میوزیم آف اپلائیڈ آرٹس (MAK) میں ہار رکھنے والے شیشے کے کیس کو توڑا اور پلاٹینم اور ہیروں سے بنا ہار لے کر فرار ہو گئے۔
واضح رہے کہ چوری ہونے والا ہار مصر کی ملکہ نازلی کا تھا جو انھوں نے 1939 میں اپنی بیٹی فوزیہ کی ایران کے اس وقت کے ولی عہد محمد رضا پہلوی سے شادی کے موقع پر پہنا تھا۔
اس ہار میں جڑے ہیروں کا مجموعی وزن 200 قیراط سے زیادہ تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ہار کی مالیت 40 لاکھ ڈالر (30 لاکھ پاؤنڈ، 35 لاکھ یورو) سے زیادہ ہے۔
یہ واردات یورپ کے عجائب گھروں میں نوادرات کی بڑی چوریوں کے سلسلے کی تازہ ترین مثال ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں یورپ کے عجائب گھروں میں چوری کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں زیوارات، اور پینٹگز سمیت متعدد نوادرات چرانے کی وارداتیں ہوئیں۔ اسی تناظر میں اس نمائش میں سکیورٹی کے خاص انتظامات کیے گئے تھے۔
یہ ہار سابق مصری شاہی خاندان کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ مشہور جیولری کمپنی وان کلیف اینڈ آرپلز کی ایک نمائش کا حصہ تھا جو ستمبر تک میوزیم آف اپلائیڈ آرٹس میں جاری رہنے والی تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس ہار کی مالیت 40 لاکھ ڈالر (30 لاکھ پاؤنڈ، 35 لاکھ یورو) سے زیادہ ہےویانا پولیس نے دو مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کی ہیں جنھیں سکیورٹی کیمروں نے اس وقت ریکارڈ کر لیا جب وہ ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے۔
پولیس عوام سے اپیل کر رہی ہے کہ اگر کسی کے پاس ان کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ پولیس کو فراہم کرے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ ملزمان میں سے ایک کے پاس غالباً اصلی آتشیں ہتھیار تھا۔
پولیس کے مطابق ہار قبضے میں لینے کے بعد وہ میوزیم کے جنوب میں واقع ویانا شٹاٹ پارک کی جانب فرار ہو گئے۔
ویانا پولیس نے مشتبہ افراد کی سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی ہےایم اے کے کی جنرل ڈائریکٹر للی ہولائن نے کہا کہ اتنی زیادہ مالیت کے ایک زیور کی چوری ہمارے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایم اے کے نے اس نمائش کے لیے خاص طور پر وین کلیف اینڈ آرپلز کے ساتھ مل کر ایک سکیورٹی منصوبہ تیار کیا تھا۔
للی ہولائن کے مطابق ’سکیورٹی کے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا تھا اور تمام حفاظتی اقدامات بڑی احتیاط سے تیار کیے گئے تھے۔‘
ہولائن نے دعویٰ کہا کہ ’اس مسلح چوری کے دوران عملے نے پُرسکون انداز میں ردِعمل دیا اور طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا اور اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حالیہ برسوں میں بڑے عجائب گھروں میں پیش آنے والے چوری کے ان گنت واقعات کے تناظر میں نمائش سے قبل ایم اے کے نے اپنے حفاظتی اقدامات کا مکمل جائزہ لیا تھا۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو سپین کے ایک عجائب گھر سے قبل از تاریخ دور کے زیورات اور نوادرات کے ایک اہم ذخیرے کی بھی چوری کی گئی۔
اسی ماہ کے آغاز میں سسلی کے ایک عجائب گھر سے نشاۃ ثانیہ کے عہد کی چار پینٹنگز چوری کی گئیں، جبکہ سال کے آغاز میں پارما کے ایک عجائب گھر سے رینوا، سیزان اور ماتیس کی لاکھوں یورو کی مالیت کی پینٹنگز لے جائی گئیں۔
یہ وارداتیں پیرس کے لوور میوزیم میں گزشتہ سال اکتوبر میں دن دہاڑے ہونے والی اس دلیرانہ ڈکیتی کے بعد ہوئیں، جس میں ایک نقاب پوش گروہ نے انمول جواہرات چرا لیے تھے۔
یورپی پولیس ادارے یوروپول کے مطابق عجائب گھروں میں چوری کی وارداتیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ پرتشدد ہو گئی ہیں اور ان میں زور زبردستی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ نئے جرائم پیشہ گروہ ان وارداتوں میں ملوث ہیں۔
ویانا میں اپلائیڈ آرٹس کا میوزیم اس واقعے کے بعد دوبارہ کھل گیا ہےویانا سے چوری ہونے والا ہار مصر کے سابق شاہی خاندان کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ملکہ نازلی نے اسے 1939 میں اپنی بیٹی فوزیہ کی ایران کے مستقبل کے شاہ محمد رضا پہلوی سے شادی پر پہنا تھا۔
وان کلیف اینڈ آرپلز کے مطابق یہ ہار سفید ہیروں کی کاریگری کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس میں جڑے ہیروں کا مجموعی وزن 200 قیراط سے زیادہ ہے۔
دس سال قبل جب یہ ہار نیلامی کے لیے پیش کیا گیا تھا تو اس کی قیمت 36 لاکھ سے 46 لاکھ ڈالر کے درمیان لگائی گئی تھی۔
پولیس کے تربیت یافتہ کتے ویانا اور لوئر آسٹریا میں تلاش میں مصروف ہیں جبکہ فرانزک ماہرین شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ویانا میں اپلائیڈ آرٹس کا میوزیم اس واقعے کے بعد دوبارہ کھل گیا ہے۔