جیولن میزائل لانچ کے بعد خود بخود ہدف کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یوکرین جنگ کے دوران بھی اس کا بکثرت استعمال ہوا ہے۔ 'جیولن' اینٹی ٹینک سسٹم نامی یہ ہتھیار ایف 16 بنانے والی امریکی اسلحہ ساز کمپنی ’لاک ہیڈ مارٹن‘ تیار کرتی ہے۔
ایف 16 لڑاکا طیارے تیار کرنے والی کمپنی ’لاک ہیڈ مارٹن‘ ہی ’جیولن‘ اینٹی ٹینک سسٹم نامی یہ ہتھیار تیار کرتی ہے (فائل فوٹو)انڈیا میں تعینات امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ نئی دلی نے امریکی ساختہ ’جیولن اینٹی ٹینک سسٹم‘ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف امریکہ اور انڈیا کے دفاعی تعلقات کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے بلکہ یہ مشترکہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں آگے بڑھنے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اِس وقت دونوں ممالک کے باہمی روابط اور تعاون اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔
امریکی سفیر کے علاوہ نئی دلی میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے بھی اِس حوالے سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا گیا ہے۔ امریکی سفارتخانے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ’جیولن‘ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم کی خریداری کے لیے انڈین فوج کی جانب سے ’لیٹر آف آفر اینڈ ایکسیپٹنس‘ (LOA) پر دستخط کرنے کا خیرمقدم کرتا ہے۔
انڈیا کی جانب سے سرکاری سطح پر اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔
انڈیا کے دفاعی شعبے کے حلقوں میں اسے ایک ایسی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو امریکہ اور انڈیا کی مسلح افواج کے درمیان دیرینہ شراکت داری کی عکاس ہے اور دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے مابین مستقبل میں تعاون کی راہ ہموار کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’لیٹر آف آفر ایکسیپٹنس‘ پر دستخط کے ساتھ ہی انڈیا ’جیولن‘ سسٹم کا خریدار بن گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایک جدید درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ’فائر اینڈ فارگیٹ‘ (یعنی داغنے کے بعد خود ہدف تلاش کرنے والا) صلاحیت کا حامل اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ہے۔
جیولن کا استعمال امریکی فوج، امریکی میرین کور اور متعدد ممالک کرتے ہیں اور اسے بکتر بند گاڑیوں اور مضبوط دفاعی ٹھکانوں سمیت اہداف کی ایک وسیع رینج کے خلاف استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
’جیولن‘ اینٹی ٹینک سسٹم کیا ہیں؟
’جیولن‘ اینٹی ٹینک سسٹم نامی یہ ہتھیار ’لاک ہیڈ مارٹن‘ نامی امریکی اسلحہ ساز کمپنی تیار کرتی ہے۔ ’لاک ہیڈ مارٹن‘ وہی کمپنی ہے جو ایف سولہ لڑاکا طیارے بھی بناتی ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ’جیولن‘ دنیا کا سب سے بڑا کندھے سے چلنے والا اینٹی آرمر سسٹم، جیولن جنگ کو دشمن تک لے جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق جیولن لانچ کے بعد خود بخود ہدف کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس سے گنر کو کور لینے اور جوابی فائرنگ سے بچنے کا موقع ملتا ہے۔
سپاہی یا میرینز فائرنگ کے فوراً بعد اپنی جگہ تبدیل کر سکتے ہیں یا نئے حملے کے لیے دوبارہ لوڈ کر سکتے ہیں۔
فائر کرنے کے لیے گنر منتخب ہدف پر ’کرسر‘ رکھتا ہے، جس کے بعد جیولن کمانڈ لانچ یونٹ میزائل کو لانچ کرنے سے پہلے لاک آن سگنل بھیجتا ہے۔ اُس کے سافٹ لانچ ڈیزائن کے ساتھ، جیولن کو عمارتوں یا بنکروں کے اندر سے محفوظ طریقے سے فائر کیا جا سکتا ہے۔
انڈیا اور امریکہ کے درمیان 10 سالہ دفاعی فریم ورک
امریکہ اور انڈیا نے گذشتہ برس 10 برس کے لیے دفاعی فریم ورک معاہدے پر اتفاق کیا تھا اور یہ نیا سسٹم انڈیا کو اِسی معاہدے کے تحت فراہم کیا جا رہا ہے۔
اس معاہدے کا اعلان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے درمیان کوالالمپور میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا تھا۔
امریکی وزیر دفاع ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا تھا کہ یہ معاہدہ ’ہم آہنگی، معلومات کے تبادلے اور تکنیکی تعاون اور علاقائی استحکام‘ میں اضافہ کرے گا اور تنازعات کو بڑھنے سے روکے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب دونوں ممالک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر 50 فیصد محصولات عائد کیے جانے کے بعد تناؤ میں کمی کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کے انڈیا پر عائد محصولات میں روسی تیل اور ہتھیاروں کی خریداری پر عائد 25 فیصد جرمانہ بھی شامل ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس معاہدے کے بارے میں لکھا کہ ’یہ ہماری پہلے سے مضبوط دفاعی شراکت داری میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ دفاع ہمارے دو طرفہ تعلقات کا ایک اہم ستون رہے گا۔ ہماری شراکت داری ایک آزاد، کُھلے اور قواعد پر مبنی ہند بحرالکاہل خطے کو یقینی بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔‘
راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ یہ دفاعی فریم ورک انڈیا، امریکہ دفاعی تعلقات کے تمام پہلوؤں کو پالیسی سمت فراہم کرے گا۔ انھوں نے اس شراکت داری کو دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا آغاز قرار دیا تھا۔
اس معاہدے کے حوالے سے پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ابتدائی ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکہ اور انڈیا کے درمیان دفاعی معاہدہ ایک تازہ پیش رفت ہے اور جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ہم معاہدے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔‘
آسٹریلیا کی فوج بھی یہ ہتھیار استعمال کرتی ہے (فائل فوٹو)سوشل میڈیا پر ردِعمل
انڈیا میں امریکی سفیر کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے اور انڈین مبصرین اس پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
انڈین صحافی شیو ارور نے ایکس پر لکھا کہ ’میں 29 برس کا تھا جب سابق امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے انڈیا کو یہ جدید ہتھیار دینے کی پیشکش کی تھی۔ لیکن اب 17 سال بعد ٹرمپ انتطامیہ میں انڈیا یہ معاہدہ کر رہا ہے۔‘
مہر جھا نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ یوکرینی افواج روس کے خلاف امریکی ساختہ جیولن اینٹی ٹینک نظام کا استعمال بخوبی کر رہی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں پر محیط مذاکرات کے بعد انڈیا نے آخر کار ان سینکڑوں لانچرز اور میزائل سسٹمز کی خریداری کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے ساتھ ہی انڈیا میں اِن کی مشترکہ پیداوار کی سہولیات قائم کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
روہت نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ یہ ایک انتہائی شاندار خبر ہے جو انڈیا اور امریکہ کے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’جیولن‘ انڈین فوج کو بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا اور اس ہتھیار کو ایک فوجی باآسانی اُٹھا سکتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ شمالی سرحد پر اس سے پیادہ فوج کے چھوٹے دستوں کو بکتر بند گاڑیوں کے خلاف لڑنے کے لیے ایک اضافی اور ذاتی نوعیت کا ہتھیار میسر آئے گا، جس کے نتیجے میں انھیں مکمل طور پر ٹینکوں، توپ خانے یا بھاری میزائل پلیٹ فارمز پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔