وہ قومی ہیرو ہے، جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ جاوید میانداد عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ

image

میں پاکستان سے کہنا چاہتا ہوں کہ سب معاملات حل کریں، اس کے بعد جو کرنا ہے کریں۔ اسے جیل میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔ وہ کسی کا بیٹا ہے۔ یہ بات بار بار میرے ذہن میں آتی ہے کہ آخر اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ وہ قومی ہیرو ہے، میرا ساتھی ہے۔ ہم نے ایک ساتھ وقت گزارا، ایک ساتھ کھیلا۔ میں عمران خان کو جانتا ہوں، وہ ایک ایماندار آدمی ہے، کرپٹ نہیں ہے۔ اگر وہ کرپٹ ہوتا تو جائیدادیں بناتا۔ اسے رہا کر دیں گے تو کیا ہوگا؟ کیا وہ کچھ کھا لے گا؟ جب میں اس کے بارے میں اور جیل میں اس کے ساتھ ہونے والی صورتحال کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔ آپ نے مجھے جذباتی کر دیا ہے۔ میں اس کے لیے دعا ہی کر سکتا ہوں۔

پاکستان کرکٹ کے دو بڑے ناموں عمران خان اور جاوید میانداد کی دوستی اور باہمی احترام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ 1992 کے ورلڈ کپ میں دونوں نے پاکستان کو ایک ایسی تاریخی فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کی اس وقت شاید ہی کسی نے توقع کی ہو۔ انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیموں کو شکست دے کر پاکستان پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بنا تو عمران خان کپتان اور جاوید میانداد ان کے سب سے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شامل تھے۔

وقت کے ساتھ دونوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی اپنی راہیں اختیار کیں، تاہم ایک دوسرے کے لیے احترام کبھی کم نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے جاوید میانداد بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

حالیہ انٹرویو میں سابق پاکستانی کرکٹر نے عمران خان کا ذکر کیا تو وہ آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف ان کے ساتھی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی ہیرو ہیں، اور ان کے جیل میں ہونے کا سوچ کر انہیں شدید دکھ ہوتا ہے۔

جاوید میانداد نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے اور عمران خان کے درمیان کبھی کوئی ذاتی دشمنی یا کرکٹ کی رقابت نہیں رہی۔ ان کے بقول دونوں کا مقصد ہمیشہ پاکستان کے لیے کھیلنا تھا۔

ہماری کوئی رقابت نہیں تھی۔ ہم پاکستان کے لیے کھیلنے آئے تھے۔ میں نے کبھی عمران خان کے خلاف بات نہیں کی۔ ہمارے درمیان بہت اچھا تعلق تھا اور ہم نے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا۔ لیکن مجھے ان کے لیے بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ معاملات صحیح طریقے سے حل کیے جائیں کیونکہ وہ اس کے مستحق ہیں۔

عمران خان اور جاوید میانداد کی 1992 کے ورلڈ کپ کی شراکت داری آج بھی پاکستانی کرکٹ کی سنہری یادوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن اس بار میانداد کی آواز میں کرکٹ کا جوش نہیں بلکہ اپنے پرانے ساتھی کے لیے درد اور بے بسی نمایاں تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US