آپ کا فرض ہے کہ ان کے سوالوں کا جواب دیں، پمز سانحہ: مصطفیٰ کمال کے رویے پر شوبز شخصیات برہم

image

’’آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کس عہدے پر ہیں۔ اگر یہ لوگ غصے میں آپ کو تھپڑ بھی مار دیں تو بھی ان کے سوالوں کا جواب دینا آپ کا فرض ہے۔ یہ لوگ اپنے بچوں کے لیے آپ کے سامنے کھڑے ہیں، آپ کو ان کی تکلیف اور غصہ سمجھنا چاہیے۔‘‘

پمز اسپتال کا سانحہ پاکستانیوں کے لیے ایسا ہولناک واقعہ بن چکا ہے جسے شاید برسوں بھلایا نہ جا سکے۔ اسپتال کی نرسری میں 15 نومولود بچوں کے جل کر جاں بحق ہونے کے واقعے نے جہاں پوری قوم کو صدمے سے دوچار کیا، وہیں متاثرہ والدین کی دنیا بھی اجڑ گئی۔

سانحے کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال متاثرہ مقام پر پہنچے تو غم سے نڈھال والدین نے ان سے سوالات کرنا شروع کردیے۔ تاہم وزیر صحت کے مبینہ سخت اور غیر ہمدردانہ رویے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے سانحے کا جواب چاہتے ہیں، لیکن ان کے سوالات سننے اور انہیں دلاسہ دینے کے بجائے انہیں یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ تصاویر بنوانے کے خواہش مند ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ اگر اسپتال میں آئی سی یو موجود نہ ہوں تو طبی امداد نہ ملنے کے باعث مریض جاں بحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے اس اندازِ گفتگو پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

واقعے کی ویڈیوز اور وزیر صحت کے رویے پر پاکستانی شوبز شخصیات بھی خاموش نہ رہیں۔ سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری، سیمی راحیل، سحر ہاشمی اور عمران عباس نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

بشریٰ انصاری نے کہا کہ حکومتی عہدہ عوام کے سوالات سے بچنے کا نہیں بلکہ ان کے جواب دینے کی ذمہ داری کا نام ہے۔ ان کے مطابق سانحے سے اپنے بچے کھونے والے والدین غم اور غصے میں ہیں اور ان کے جذبات کو سمجھنا چاہیے۔

دوسری جانب سیمی راحیل نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ داری کے فقدان پر سوال اٹھایا، جبکہ سحر ہاشمی اور عمران عباس نے بھی وزیر صحت کے رویے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے فرعون کے دور کی یاد دلانے والا قرار دیا۔

پمز سانحے کے زخم ابھی تازہ ہیں، ایسے میں متاثرہ والدین کے ساتھ حکام کا رویہ اب خود ایک الگ بحث بن چکا ہے اور سوشل میڈیا پر لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جن خاندانوں نے اپنے نومولود بچے کھو دیے، کیا انہیں سوال پوچھنے اور جواب مانگنے کا بھی حق نہیں؟


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US