قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ بوائز انڈر 17 ورلڈ والی بال چیمپیئن شپ میں تاریخی کارکردگی دکھانے اور پانچویں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد پاکستان والی بال ٹیم وطن واپس پہنچ گئی ہے۔
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پہنچنے پر پاکستان والی بال فیڈریشن کے صدر سہیل خاور میر اور دیگر عہدیداران نے قومی کھلاڑیوں کا پرتباک استقبال کیا۔
اس موقع پر پاکستان والی بال فیڈریشن کے صدر سہیل خاور میر کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح کی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ عالمی ٹائٹل جیتنے کی بھی صلاحیّت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد اور نارووال میں والی بال کے بے پناہ ٹیلنٹ کی موجودگی کے باوجود ملک میں بین الاقوامی معیار کا کوئی ہال میسر نہیں ہے۔ فیڈریشن کھلاڑیوں کو مزید اعلیٰ ٹریننگ فراہم کرے گی تاکہ وہ مستقبل کے بین الاقوامی مقابلوں میں بھی مزید بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
ٹیم کے ہیڈ کوچ کفایت اللہ نے قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر کامل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لڑکوں نے دنیا کی بہترین اور مضبوط ترین ٹیموں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کے خلاف شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم ٹیم میں مزید بہتری کی گنجائش بھی موجود ہے۔
پاکستان والی بال ٹیم کے کپتان محمد عرفان نے حکومت سے مالی و بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرکاری سطح پر اس کھیل کی مکمل سرپرستی کی جائے تو پاکستان مستقبل میں ورلڈ چیمپیئن بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ دوحہ میں کھیلے جانے والے اس عالمی ٹورنامنٹ میں دنیا بھر کی 20 ٹیموں نے شرکت کی تھی، جہاں پاکستان نے پہلی مرتبہ پانچویں پوزیشن حاصل کر کے تاریخ رقم کی ہے۔