پی سی بی کا لارڈز ٹیسٹ کے دوران لندن میں اجلاس، فضول خرچی اور سفارشی دوروں پر کرکٹ حلقوں کی تنقید

image

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز کے مالکان کا اجلاس لندن میں بلانے اور قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور سینئر سلیکٹر عاقب جاوید کو بھی لندن پہنچنے کی ہدایت کے فیصلے پر کرکٹ حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

سابق ٹیسٹ کھلاڑیوں اور مبصرین نے ایسے وقت میں ان غیر ضروری اخراجات کی ضرورت پر سوالات اٹھائے ہیں جب نتائج کے لحاظ سے پاکستان کرکٹ شاید اپنے سب سے برے دور سے گزر رہی ہے۔

قومی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور عاقب جاوید کی لندن روانگی کی تصدیق کے بعد سے طرح طرح کی قیاس آرائیوں اور افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔

پی سی بی کے ایک قابل اعتماد ذریعہ کا کہنا ہے کہ فرنچائز مالکان کو لارڈز ٹیسٹ میں شرکت کی دعوت کافی عرصے پہلے دی گئی تھی کیونکہ بورڈ چاہتا تھا کہ کرکٹ کے اسٹیک ہولڈرز 2 ستمبر کو شہزادہ چارلس کی جانب سے دیے جانے والے استقبالیے میں موجود رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہیسن اور عاقب جاوید کو بھی اسی استقبالیے میں شرکت کے لیے لندن پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

کرکٹ رائٹر اور تجزیہ کار عمیر علوی کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں فضول خرچی کی کوئی ضرورت نہیں تھی جب پاکستان کرکٹ کسی بھی سطح پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔

ان کا کہنا تھا: "ہیسن اور عاقب کی لندن میں موجودگی سے ان قیاس آرائیوں کو بال پر ملیں گے کہ وہ دورے کے بقایا ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیم کے معاملات میں مداخلایں کریں گے۔"

پاکستان کے موجودہ ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ٹیم کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس ہوگا۔انہوں نے کہا: "ظاہر ہے کہ اگر ٹیم اچھا مظاہرہ نہیں کرتی تو اس کی ذمہ داری ہیڈ کوچ پر عائد ہوتی ہے، لہذا اگر ٹیم اچھا نہیں کھیل رہی تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔"

انہوں نے اعتراف کیا کہ مسلسل بیٹنگ آرڈر کی ناکامیوں نے ٹیم پر بہت زیادہ دباؤ ڈال دیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن کسی نہ کسی طرح بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔

سابق ٹیسٹ کپتان معین خان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو اس سیریز میں وائٹ واش کا سامنا بھی کرنا پڑے، تب بھی وہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی یا ہیڈ کوچ کی تبدیلی کے حق میں نہیں ہوں گے۔

معین نے کہا: "اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی کرکٹ میں تسلسل اور استحکام لائیں، اور اگر ہمیں ایک بہترین ٹیسٹ اسکواڈ تشکیل دینا ہے تو کپتان اور ہیڈ کوچ کو اعتماد دینا ہوگا۔" ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند سالوں میں بورڈ کی جانب سے کی جانے والی مسلسل تبدیلیاں ہی ٹیم کی خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

سابق ٹیسٹ اسپنر اقبال قاسم نے بھی صاف الفاظ میں کہا کہ لندن میں اجلاس منعقد کرنے کے بجائے بورڈ کو چاہیے کہ وہ لاہور میں تمام اسٹیک ہولڈرز (بشمول ان کے جو پی سی بی سے منسلک نہیں ہیں) کا ایک باقاعدہ اجلاس طلب کرے اور پاکستان کرکٹ کے زوال کی حقیقی وجوہات کی نشاندہی کرے۔ انہوں نے مزید کہا: "لندن کے استقبالیے کے لیے بورڈ چیئرمین کے ساتھ ٹیم کی موجودگی ہی کافی ہونی چاہیے۔"


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US