والدہ کی وفات کی خبر سنی تو ذہن نے ماننے سے انکار کردیا، جیا علی کی درد بھری گفتگو

image

’’میری والدہ بہت کم عمری میں شدید بیمار ہوگئی تھیں۔ انہوں نے صرف 16 سال کی عمر میں شادی کی اور پانچ بچوں کی پرورش کی۔ انہوں نے بڑی عمر تک کام کیا، اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرتی رہیں لیکن اپنی صحت کا کبھی خیال نہیں رکھا۔ مجھے آج بھی افسوس ہے کہ میں نے ان سے اپنے دل کی بات اور اپنی محبت اس طرح ظاہر نہیں کی، جیسے کرنی چاہیے تھی۔‘‘

’’جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو میں اسلام آباد میں تھی۔ مجھے فون پر ان کی موت کی اطلاع ملی، لیکن جیسے میرا ذہن سن ہوگیا ہو۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میری ماں اب نہیں رہیں۔ میں لاہور ان کے جنازے میں بھی نہیں گئی بلکہ کام کے لیے کراچی چلی گئی۔ میرے گھر والوں نے دو دن بعد انہیں دفن کیا کیونکہ وہ مجھ سے رابطہ نہیں کر پا رہے تھے۔‘‘

اداکارہ اور ماڈل جیا علی نے ایک پوڈکاسٹ میں اپنی والدہ کی وفات اور زندگی کے ایک انتہائی مشکل دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ والدہ کی بیماری، ان کی قربانیوں اور آخری ایام کا ذکر کرتے ہوئے جیا علی آبدیدہ ہوگئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نے کم عمری میں شادی کے بعد پانچ بچوں کی پرورش کی اور طویل عرصے تک خاندان کے لیے کام کرتی رہیں۔ جیا کے مطابق والدہ اپنی صحت سے زیادہ گھر اور بچوں کی ضروریات کو ترجیح دیتی رہیں، یہاں تک کہ عمر کے آخری حصے میں ان کی طبیعت انتہائی خراب ہوگئی اور وہ کومہ میں بھی چلی گئی تھیں۔

جیا علی نے کہا کہ والدہ کی موت کی خبر کے بعد بھی انہیں کئی دن تک حقیقت کا احساس نہیں ہوا۔ وہ نہ روئیں اور نہ ہی کوئی فوری ردعمل دے سکیں۔ ان کے مطابق تقریباً چار دن بعد وہ اس حقیقت کو قبول کر پائیں کہ ان کی والدہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ والدہ کے انتقال کے بعد ان کی ذہنی حالت پر بھی گہرا اثر پڑا۔ وہ ڈپریشن کا شکار ہوئیں جبکہ بال جھڑنے کی بیماری ایلوپیشیا کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اپنی والدہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیا علی نے اعتراف کیا کہ ان کی موت کا صدمہ ایسا تھا جسے وہ کئی برس تک پوری طرح قبول نہیں کرسکیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US