سعدیہ امام بچوں سے زیادتی کے واقعات پر پھٹ پڑیں، سوشل میڈیا پر پابندی کا مطالبہ

image

"بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ میں نے آیت نور کیس کی رپورٹ پڑھی، بچی کی ہڈیاں تک توڑ دی گئی تھیں۔ آخر ہمارے ادارے کیوں نہیں جاگ رہے؟ پمز اسپتال میں بچے مر گئے، لیکن کسی ڈاکٹر یا نرس کو کوئی آنچ تک نہیں آئی۔ مصطفیٰ کمال صاحب! آپ بدتمیزی کر رہے ہیں، آپ کو وزیرِ صحت کس نے بنا دیا؟

کیا ہو گیا ہے ہمارے ملک کو؟ ہم آخر کب مجرموں کو سزا دینا شروع کریں گے؟ زینب سے لے کر نور مقدم تک، کتنے کیسز میں واقعی انصاف ہوا؟ مجرموں کو چوک پر کیوں نہیں لٹکایا جاتا؟

خدا کے واسطے سوشل میڈیا پر پابندی لگائیں۔ قانون بنائیں کہ کس عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور کس عمر میں نہیں۔ پوری دنیا میں اس حوالے سے قوانین موجود ہیں تو ہمارے ملک میں کیوں نہیں؟ آپ گوگل پر کچھ بھی لکھیں تو ہر طرح کا مواد سامنے آجاتا ہے، آخر اتنی آزادی کیوں دی گئی ہے؟"

بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم اور حالیہ افسوسناک واقعات نے اداکارہ و ماڈل سعدیہ امام کو بھی شدید رنج اور غصے میں مبتلا کردیا۔ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور روتے ہوئے بچوں کے تحفظ، مجرموں کو سخت سزائیں دینے اور سوشل میڈیا کے غیر محدود استعمال پر سوالات اٹھاتی نظر آئیں۔

سعدیہ امام نے خاص طور پر آیت نور کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات صرف چند خبروں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ان پر ریاستی اداروں کو سنجیدگی سے حرکت میں آنا ہوگا۔ پمز اسپتال کے سانحے اور حکومتی عہدیداروں کے رویے پر بھی انہوں نے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔

اداکارہ کا مؤقف تھا کہ بچوں کو ایسے آن لائن مواد تک آسان رسائی حاصل ہے جو ان کی کم عمری میں ذہنی اور اخلاقی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے سمیت مؤثر قانون سازی کی جائے تاکہ کم عمر بچوں کو غیر مناسب مواد اور آن لائن خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US