پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دورے کے دوران کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو واپس بلانے کا معاملہ صرف کارکردگی تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہم ظہیر عباس، جاوید میانداد، انضمام الحق یا سعید انور جیسے لیجنڈز کو متبادل کے طور پر نہیں بھیج رہے، اور یہ تمام صورتحال پاکستان کرکٹ میں ایک بار پھر اختلافات، اندرونی خلفشار اور تنازعات کی عکاسی کر رہی ہے۔
محمد یوسف کا کہنا تھا کہ 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد سے پاکستان کرکٹ میں عدم استحکام کا سلسلہ بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ ان معاملات کی وجہ سے گیم سے توجہ ہٹتی ہے اور ماضی میں بھی ایسا کئی بار ہو چکا ہے، جس سے ٹیم آگے نہیں بڑھی اور نہ ہی فینز کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل فتوحات اور مثبت نتائج ہی اس تمام شور کو ختم کر سکتے ہیں، لہٰذا پاکستان کرکٹ کو بورڈ روم کے بجائے فیلڈ پر فوکس کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کرکٹ کی ساکھ بحال کرنے کا واحد راستہ میدان میں بہترین کارکردگی اور کامیابی ہے۔