پاکستان کرکٹ ٹیم کے سپنرز محمد نواز اور ابرار احمد نے کہا ہے کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا سپن ڈیویلپمنٹ کیمپ بنیادی چیزوں کو درست کرنے اور کھیل کو مزید بہتر بنانے کے لیے نہایت مفید ثابت ہورہا ہے۔
سابق کپتان سلمان بٹ کے پروگرام 'سٹریٹ ڈرائیو' میں گفتگو کرتے ہوئے آل راؤنڈر محمد نواز نے کہا کہ مسلسل کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے غلطیوں پر کام کرنے کا زیادہ وقت نہیں ملتا، جس کے باعث بعض خامیاں سامنے آتی ہیں۔ اکیڈمی کیمپ میں ان خامیوں اور بنیادی چیزوں پر کام کرنے کا بہترین موقع ملا ہے، خاص طور پر وہ اپنی 'آرم بال' پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں حکمت عملی سب سے اہم ہوتی ہے اور وہ فی الوقت بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں یکساں محنت کر رہے ہیں۔ آئندہ ورلڈ کپ سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں ابھی ایک سال باقی ہے، اس لیے فی الحال ان کی مکمل توجہ آنے والی ڈومیسٹک کرکٹ پر ہے۔
اسی گفتگو کے دوران سپنر ابرار احمد نے انگلینڈ کی 'دی ہنڈرڈ' لیگ میں اپنے پہلے تجربے کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک بالکل مختلف طرز کی کرکٹ تھی جہاں سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اپنے کھیل میں جدت سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت 'فلیپر' طرز کی نئی گیند پر کام کر رہے ہیں، کیونکہ ایک بولر کے لیے وقت کے ساتھ اپنے کھیل میں بہتری لانا ضروری ہوتا ہے۔
ابرار احمد کا کہنا تھا کہ وہ کوچز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ہر گیند مطلوبہ جگہ پر گرائی جا سکے اور چاہے لیگ سپن ہو، گوگلی ہو یا فلیپر، وہ تمام ورائٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔