ایرانی ہلال احمر کی جانب سے ایک تصویر جاری کی گئی جس میں مبینہ طور پر جنوبی ایران کے صوبہ بندر عباس کے شہر سیرک میں دو ستمبر 2026 کو امریکی فضائی حملے کے بعد شادی کی تقریب کی میزبانی کرنے والی ایک تباہ شدہ عمارت دکھائی گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایک میزائل حملے میں شادی کی تقریب میں دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے امریکہ پر ’جنگی جرم‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی ہلال احمر نے کہا کہ ایک میزائل کے ٹکڑے جنوبی ایران میں ایک گھر میں ہونے والی شادی کی تقریب پر گرے جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس واقعے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔ جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ ’کبھی بھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں ان اطلاعات کا علم ہے۔
ایرانی حکام نے کہا کہ دیگر مقامات پر مزید 14 افراد ہلاک ہوئے۔
اس کے جواب میں ایران نے اردن، کویت، عراق اور بحرین میں امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون داغے۔ اطلاعات کے مطابق پڑوسی ممالک کی طرف ایران کے داغے گئے زیادہ تر ڈرون اور میزائل روک لیے گئے ہیں۔
کویت نے کہا کہ ایک ڈرون سے رہائشی کمپلیکس میں آگ لگ گئی تھی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سینٹکام نے کہا کہ ایران پر حملے آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور تجارتی بحری جہازرانی کے خلاف پاسداران انقلاب کی ’حالیہ کارروائیوں‘ کے بعد کیے گئے۔
ادھر ایرانی فوج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا کہ خطے میں امریکی افواج کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک امریکہ اپنے جرائم پر ’پشیمان‘ نہیں ہو جاتا۔
ایرانی ہلال احمر کی جانب سے ایک تصویر جاری کی گئی جس میں مبینہ طور پر جنوبی ایران کے صوبہ بندر عباس کے شہر سیرک میں دو ستمبر 2026 کو امریکی فضائی حملے کے بعد شادی کی تقریب کی میزبانی کرنے والی ایک تباہ شدہ عمارت دکھائی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے حملوں کو ایران کے خلاف ’بڑی اور طاقتور‘ کارروائی قرار دیا ہے۔
سینٹکام نے کہا کہ اہداف میں فضائی دفاعی تنصیبات، ریڈار نظام اور بحری اثاثے شامل تھے۔
’ٹیلی کام ٹاور گھر سے 112 میٹر کے فاصلے پر تھا‘
ایرانی میڈیا نے جنوبی صوبوں ہرمزگان، سیستان و بلوچستان، کرمان اور خوزستان میں دھماکوں کی اطلاعات دیں۔
ایرانی ہلال احمر نے کہا کہ ساحلی قصبے کوہستک، ضلع سیرک میں ایک گھر میں ہونے والی شادی کی تقریب پر میزائل کے ٹکڑے گرنے سے کم از کم چار افراد ہلاک اور 67 دیگر زخمی ہوئے۔
صوبہ ہرمزگان کی انتظامیہ کے حوالے سے ایرانی میڈیا نے ہلاک ہونے والوں کے نام 50 سالہ زرخاتون طاہری، 43 سالہ کلثوم ملاہی نژدنیا، 16 سالہ محمد ملاہی، چار سالہ امیرعلی کریمی بتائے ہیں۔
ابتدائی طور پر میڈیا اداروں نے ہلال احمر کے حوالے سے کہا تھا کہ پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دلہن کے والد اور عمارت کے مالک علی ملاہی نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’بد قسمتی سے یہ ایک رہائشی عمارت ہے۔ اور بد قسمتی سے یہ میری بیٹی کی شادی کی تقریب کے دوران ہوا۔‘
’یہ ایک بہت افسوسناک واقعہ ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہلاکتیں اس سے زیادہ نہیں ہوئیں۔‘
ایران کے پارلیمانی سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ یہ حملہ امریکہ کی ’شیطانی فطرت‘ ظاہر کرتا ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی کہ منگل کو کوہستک کے ساحل کے قریب بنائی گئی ایک ویڈیو اور دو تصاویر میں ایک ٹیلی کمیونی کیشن ٹاور کی تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔ جبکہ منگل اور بدھ کی دیگر ویڈیوز میں ٹاور سے تقریباً 130 میٹر (427 فٹ) شمال کی جانب ایسے مکانات دکھائی دیتے ہیں جنھیں شدید نقصان پہنچا ہے۔

بی بی سی فارسی فارنزکس نے شائع شدہ ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد معلوم کیا کہ ٹیلی کمیونی کیشن ٹاور اس گھر سے تقریباً 112 میٹر کے فاصلے پر تھا جہاں شادی ہو رہی تھی۔
ہتھیاروں کے ایک ماہر نے بی بی سی ویریفائی کو یہ بھی بتایا کہ جائے وقوعہ کی مبینہ فوٹیج میں لینڈ اٹیک میزائل اے جی ایم 84 کی باقیات دکھائی دیتی ہیں جو کروز میزائل کی ایک قسم ہے اور جس کے بارے میں معلوم ہے کہ اسے امریکہ استعمال کرتا ہے۔
سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں سیرک میں حملے سے متعلق ایرانی سرکاری میڈیا کی اطلاعات کا علم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی فوج کبھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی، پاسداران انقلاب کے برعکس۔'
ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ خوزستان میں اہواز اور آقاجاری کے اطراف تین الگ امریکی حملوں میں مزید سات افراد ہلاک ہوئے۔
دریں اثنا پاسداران انقلاب نے کہا کہ کرمانشاہ میں امریکی حملوں میں اس کی ایرو سپیس فورس کے چار ارکان، جو ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی نگرانی کرتی ہے، ہلاک ہوئے۔ جبکہ خلیج میں واقع لاوان جزیرے پر نیم فوجی بسیج ریزسٹنس فورس کے تین ارکان مارے گئے۔
ایران کی جوابی کارروائیاں
بدھ کی صبح ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ انھوں نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین، عراق، اردن، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔
ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ان حملوں میں اردن کے خلیجِ عقبہ کے ساحل پر واقع کیمپ ٹائٹن میں امریکی میرینز کی بیرکوں کو نقصان پہنچا اور جانی نقصان بھی ہوا۔
تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اردن کی مسلح افواج نے کہا کہ انھوں نے 13 بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا، جن میں سے 10 کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ تین میزائل دور دراز اور غیر آباد علاقوں میں گرے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے یہ بھی کہا کہ عراق کے شمالی کردستان خطے کے شہر اربیل میں امریکی فوج کے ایک مرکز، گوداموں اور ساز و سامان کو تباہ کر دیا گیا۔
عراقی حکام نے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ امریکی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا ایک غبارہ ڈرون حملے کی زد میں آیا۔
کویت میں محکمہ فائر بریگیڈ نے کہا کہ اس کے عملے نے ایک رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی آگ بجھا دی، جسے ایک ڈرون نے نشانہ بنایا تھا، اور اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایک الگ واقعے میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ دو آئل ٹینکروں کو اُس وقت آگ لگ گئی جب وہ امریکی فوج کی رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے ایک ’غیر قانونی راستے‘ کے ذریعے گزرتے ہوئے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
سعودی عرب کی قومی شپنگ کمپنی نے کہا کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اس کے خام تیل بردار جہاز صِدر پر حملے کے نتیجے میں جہاز پر موجود عملے کے دو فلپائنی افراد ہلاک ہو گئے۔
اس ہفتے عمان سے آبنائے ہرمز کے اُس پار جہاز نظر آ رہے تھےایک ماہ کے وقفے کے بعد امریکہ نے اتوار کے روز ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے، جب اس نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے اردن میں فضائی اڈوں اور متحدہ عرب امارات کی جانب ڈرون داغے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملہ کیا تھا، جس میں ملک کے رہبرِ اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ ایک وسیع فضائی مہم کا آغاز تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیج میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے اور مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازرانی کے لیے بند کر دیا۔
جون میں امریکہ اور ایران نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں طے کیا گیا تھا کہ تمام محاذوں پر لڑائی روک دی جائے گی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کو ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا گیا تھا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی کا احاطہ کیا جانا تھا۔
تاہم یہ مفاہمتی یادداشت چند ہی ہفتوں میں ناکام ہو گئی، جس کے نتیجے میں دوبارہ کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس کے بعد سے امریکی اور ایرانی افواج دونوں نے خطے میں تجارتی جہازرانی کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے ان جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔
گذشتہ ہفتے امریکہ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ رعایتیں حاصل کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے فوجی اقدامات کے بجائے ایران پر اقتصادی پابندیوں کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
ایرانی حکام اور سرکاری ذرائع ابلاغ نے بڑی حد تک اس مہم کو امریکہ کے سابقہ اقتصادی اقدامات کا ہی تسلسل قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
بی بی سی فارسی کی اضافی رپورٹنگ