گل پلازہ اونرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سانحہ گل پلازہ کو تخریبی کارروائی قرار دیتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات اور اصل ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عارف قادری نے کہا کہ گل پلازہ میں پہلے بھی آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جہاں ایک بار 5 گھنٹے میں صرف 21 دکانیں جلیں، لیکن اس بار تاریخ میں پہلی بار عمارت کے تمام 13 داخلہ دروازوں پر ایک ساتھ آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا پلازہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے کراچی چیمبر کی بات نہ سنے جانے کے بعد اب تمام معاملات گل پلازہ اونرز ایسوسی ایشن خود دیکھے گی۔
چیئرمین گل پلازہ اونرز ایسوسی ایشن محمد اسماعیل اور صدر یعقوب ساند نے بتایا کہ 200 ارب روپے مالیت کا گل پلازہ خاکستر ہوئے 8 ماہ گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک عمارت کی تعمیر نو کا کام شروع نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ پلازہ کی 1200 دکانوں میں سے کسی مالک دکان کو معاوضہ یا دکان نہیں ملی، صرف کرائے داروں کو ریلیف دیا گیا ہے جبکہ کراچی چیمبر کے ذریعے 8.5 ارب روپے بھی درست پلاننگ کے تحت تقسیم نہیں کیے گئے۔
عہدیداروں نے تنویر پاستا پر کراچی چیمبر کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری رابطے اور عمارت کی تعمیرِ نو کے واضح ٹائم فریم کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گل پلازہ کو سابقہ حالت میں ہی دوبارہ تعمیر کیا جائے اور اس کی جگہ کوئی ہائی رائز بلڈنگ قبول نہیں کی جائے گی۔