اسپورٹس بورڈ پنجاب کے بنائے گئے پیڈل ایرینا کا افتتاح وزیر اعلیٰ پنجاب کی تشہیری مہم میں تبدیل ہوگیا۔
پیڈل ایرینا کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیس بیس فٹ کے بڑے بورڈز آویزاں کیے گئے، جس سے ایک طرف جہاں کفایت شعاری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑا دی گئیں، دوسری جانب وزیر اعلیٰ کی تشہیر پر لاکھوں روپے ضائع کرنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر کھیل فیصل کھوکھر شاہی پروٹوکول میں حکومتی پیٹرول ضائع کرتے ہوئے پیڈل ایرینا پہنچے اور اس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
فیصل کھوکھر نے دعویٰ کیا تھا کہ پیڈل ایرینا عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، تاہم اسپورٹس بورڈ پنجاب کی جانب سے طے کردہ ریٹس نے عام عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
پیڈل ایرینا میں کھیل کے لیے صبح کے وقت 3 ہزار روپے فی گھنٹہ جبکہ رات کے وقت 6 ہزار روپے فی گھنٹہ فیس مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد یہ منصوبہ عام عوام کی پہنچ سے باہر ہوگیا ہے۔
حیران کن طور پر پرائیویٹ پیڈل ایرینا کے ریٹس اسپورٹس بورڈ پنجاب کے بنائے گئے اس سرکاری ایرینا سے زیادہ سستے ہیں۔
تنقید کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر کھیل فیصل کھوکھر کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت اگر کروڑوں روپے خرچ کر کے کوئی منصوبہ بناتی ہے تو بورڈ لگا کر عوام کو دیکھنا چاہیے۔
ریٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ریٹ بڑھتے رہتے ہیں اور ہر شہر کے لوگوں کی خرچ کرنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔
دوسری جانب عوام کا کہنا ہے کہ ریلیف پہنچانے کے بجائے اسپورٹس بورڈ پنجاب بھی عوام کو لوٹنے کی تیاریوں میں مصروف ہوچکا ہے۔