پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ریڈ بال کوچ جیسن گلیسپی نے چیف سلیکٹر عاقب جاوید اور قومی ٹیم کی موجودہ صورتحال کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عاقب جاوید کو دوسروں پر الزام تراشی کرنے کے بجائے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔
گلیسپی کے مطابق پاکستانی ٹیم اس وقت خوف کے ماحول میں کھیل رہی ہے اور عاقب جاوید کی زیرِ نگرانی سلیکشن کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے، وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی رائے اور فیصلے بدلتے ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سلمان علی آغا پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کے کپتان تھے، جنہیں دوسرے ٹیسٹ سے باہر کردیا گیا اور پھر تیسرے ٹیسٹ سے قبل واپس گھر بھیج دیا گیا۔
سابق کوچ نے عاقب جاوید اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطے کے شدید فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کھلاڑیوں کو ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کا علم خود بتائے جانے کے بجائے میڈیا اور ان کے اہلخانہ کے ذریعے ہوا، جسے انہوں نے کھلاڑیوں کے ساتھ انتہائی بے عزتی کے مترادف قرار دیا۔
گلیسپی نے عاقب جاوید کے اس بیان کا بھی جواب دیا جس میں انہوں نے موجودہ ناکامیوں کا ذمہ دار گیری کرسٹن اور انہیں ٹھہرایا تھا، گلیسپی نے کہا کہ عاقب جاوید پچھلے دو سال سے چیف سلیکٹر ہیں اور وہ اور گیری کرسٹن اب وہاں موجود بھی نہیں ہیں، اس لیے ناکامیوں کی ذمہ داری ان پر ڈالنا بلاجواز ہے، کیونکہ قومی ٹیم کی موجودہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہوچکی ہے۔