پاکستان کے عبوری ریڈ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے انگلینڈ میں ٹیسٹ اسکواڈ سے سینئر کھلاڑیوں محمد رضوان، سلمان آغا اور امام الحق کو فارغ کرنے کے فیصلے سے لا تعلقی اختیار کرلی ہے۔
برمنگھم میں جمعہ کو ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہیسن نے بتایا کہ جب ان سے انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کے لیے عبوری ریڈ بال کوچ کی ذمہ داری سنبھالنے کا کہا گیا، تو اس وقت تک یہ تینوں سینئر کھلاڑی اسکواڈ چھوڑ کر جا چکے تھے۔
انہوں نے کہا، "دیکھیں، جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں آخری ٹیسٹ کے لیے ٹیم کو سنبھال سکتا ہوں، تو یہ تینوں کھلاڑی پہلے ہی اسکواڈ سے فارغ ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے تھے۔ اس لیے مجھے واقعی نہیں معلوم کہ وہاں کیا ہوا تھا۔"
ہیسن نے بتایا کہ وہ باقی کھلاڑیوں کو فارغ کرنے اور کچھ نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنے کے فیصلے میں شامل تھے۔
انہوں نے مزید کہا، "لاہور میں ہمارا وائٹ بال کیمپ پہلے سے جاری تھا اور میں جاپان میں ایشین گیمز سے ابھی واپس ہی لوٹا تھا جب مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا میں ریڈ بال اسکواڈ کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہوں یا نہیں۔"
انہوں نے کہا، "میں نے اسکواڈ میں توازن لانے کے لیے کچھ تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا اور میری تمام تر توجہ ایک ایسے بولنگ اٹیک کی تشکیل پر رہی جس میں تنوع ہو اور جہاں ہمارے پاس کچھ بولنگ آل راؤنڈرز موجود ہوں۔"
ان کا کہنا تھا کہ اسکواڈ میں شامل کیے گئے کچھ نئے کھلاڑیوں نے طویل عرصے سے کرکٹ نہیں کھیلی ہے، لیکن ان کے پاس صلاحیتیں موجود ہیں اور مجھے محسوس ہوا کہ وہ آخری ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ میں توازن لانے میں مدد کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ہیسن نے واضح کیا کہ وہ ویسٹ انڈیز یا انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز کے لیے اسکواڈ کے انتخاب میں بالکل بھی شامل نہیں تھے اور ریڈ بال ٹیم کے ساتھ ان کی موجودہ ذمہ داری بھی صرف عبوری بنیادوں پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلمان علی آغا ایک بہترین کھلاڑی ہیں اور وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر ٹیم میں مکمل واپسی کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ہیسن کی گفتگو نے ان خبروں کو تقویت دی ہے کہ امام، رضوان اور سلمان کو ان کی خراب فارم کے علاوہ ممکنہ طور پر نظم و ضبط (ڈسپلن) کے مسائل کی وجہ سے بھی اسکواڈ سے نکالا گیا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ٹیم اور موجودہ صورتحال سے متعلق من گھڑت خبریں پھیلانے والوں پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔
ہیسن نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت انگلینڈ میں موجود کھلاڑیوں کے ساتھ طویل گفتگو کی ہے اور تمام کھلاڑی برمنگھم میں کھیلے جانے والے اگلے ٹیسٹ میچ پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔