انڈین ایئر فورس کے سابق پائلٹ ابھینندن ورتھمان نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر نجی ایئرلائن فلائی 91 میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ 2019 کی پاکستان انڈیا فضائی جھڑپ کے بعد ابھینندن کا طیارہ تباہ ہو گیا تھا اور وہ پیراشوٹ کے ذریعے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اترنے کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔ انڈیا نے انھیں تیسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز ویر چکرا دیا تھا۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان فروری 2019 کی فضائی جھڑپ کے بعد جنگی قیدی بننے والے انڈین ایئر فورس کے سابق گروپ کیپٹن ابھینندن ورتھمان نے فوجی خدمات سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ حاصل کر لی ہے۔
انڈین خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق، ویر چکرا (انڈیا کا تیسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز) سے نوازے گئے فائٹر پائلٹ ابھینندن نے 31 مارچ 2026 کو انڈین ایئر فورس سے علیحدگی اختیار کی تھی اور بعد ازاں گذشتہ ماہ علاقائی فضائی کمپنی فلائی 91 میں شمولیت اختیار کر لی۔
وزارتِ دفاع کے ایک عہدیدار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ابھینندن انڈین ایئر فورس سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ تاہم، انھوں نے اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا ابھینندن کسی نجی کمپنی سے وابستہ ہوئے ہیں یا نہیں۔
ابھینندن ورتھمان نے بھی اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ دوسری جانب، خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق فلائی 91 کے ایک ترجمان نے ملازمین سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے نجی معاملہ قرار دیا۔
بی بی سی نے بھی فلائی 91 سے رابطہ کیا ہے، تاہم اس خبر کی اشاعت تک ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ فلائی 91 نے مارچ 2024 میں اپنی پروازوں کا آغاز کیا تھا۔ کمپنی اس وقت گوا اور حیدرآباد کے درمیان علاقائی روٹ پر چھ طیاروں کے بیڑے کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہے۔
ابھینندن پہلے فائٹر پائلٹ نہیں ہیں جنھوں نے انڈین ایئر فورس چھوڑنے کے بعد کسی نجی فضائی کمپنی میں شمولیت اختیار کی ہو۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک معمول کی بات ہے۔
انڈین ایئر فورس کے سابق ترجمان گروپ کیپٹن انوپم بینرجی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی نجی ایئرلائنز میں کام کرنے والے تقریباً 30 فیصد پائلٹس یا ملازمین ایسے ہیں جو ماضی میں ایئر فورس کا حصہ رہ چکے ہیں۔
ان کے مطابق فوجی خدمات جاری رکھنا یا قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینا ایک ذاتی فیصلہ ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابھینندن پہلے اعزاز یافتہ فوجی افسر نہیں ہیں جنھوں نے ایسا کیا ہو۔ ان سے قبل کارگل جنگ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے گروپ کیپٹن کمبھمپتی نچیکیت بھی ایک نجی ایئرلائن سے وابستہ ہو چکے ہیں۔
گروپ کیپٹن بینرجی خود بھی قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کے بعد ایک نجی کمپنی میں شامل ہوئے تھے اور ان کے پاس کمرشل طیارہ اڑانے کا لائسنس بھی موجود ہے۔
جب ان سے قبل از وقت یا رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے کی وجوہات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ایک مدت کے بعد فوج میں ترقی کے اتنے مواقع نہیں رہتے، جتنے کہ نجی سیکٹر میں ہیں اور فوج کے مقابلے پر نجی شعبہ زیادہ نفع بخش ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی فوجی پائلٹ کے لیے براہ راست نجی کمرشل ایئرلائن میں شمولیت اختیار کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مسلح افواج چھوڑنے والے پائلٹس کو سول ایوی ایشن کے شعبے میں آنے سے قبل متعدد انتظامی اور قانونی تقاضے پورے کرنا پڑتے ہیں، جن میں متعلقہ اداروں سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
فوجی پائلٹس مختلف طریقوں سے انڈین ایئر فورس سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ شارٹ سروس کمیشن کے افسران اپنی مقررہ مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر ایسا کر سکتے ہیں، جبکہ پرماننٹ کمیشن والے افسران قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر یا پینشن کے لیے درکار سروس کی مدت مکمل کرنے کے بعد ایئر فورس چھوڑ سکتے ہیں۔ ایسے تمام معاملات میں ایئر فورس ہیڈکوارٹرز اور وزارتِ دفاع کی باضابطہ منظوری اور این او سی ضروری ہوتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھینندن نے اپنی فوجی خدمات مکمل کرنے کے بعد وزارتِ دفاع سے مطلوبہ این او سی حاصل کیا اور بعد ازاں فلائی 91 میں شمولیت اختیار کر لی۔
ابھینندن ورتھمان کا نام فروری 2019 میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا تھا جب بالاکوٹ حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے دوران لائن آف کنٹرول کے قریب فضائی معرکہ آرائی ہوئی تھی۔
ابھینندن کو تیسرے بڑے فوجی اعزاز سے نوازتے ہوئے انڈین حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ معرکے کے دوران ابھینندن نے غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
دسمبر 2019 میں جاری کیے گئے سرکاری تعریفی نوٹ میں کہا گیا تھا کہ ابھینندن نے عددی اور تکنیکی برتری رکھنے والے حریف طیاروں کا بے خوفی سے مقابلہ کیا اور اپنی جارحانہ فضائی حکمت عملی سے دشمن کو الجھن میں ڈال دیا۔
یاد رہے کہ فروری 2019 میں اپنا فائٹر طیارہ تباہ ہونے کے بعد ابھینندن پیراشوٹ کے ذریعے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اُترے تھے، جس کے بعد انھیں حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں، تقریباً 60 گھنٹے بعد پاکستانی حکام نے ’کشیدگی کم کرنے‘ کے اقدام کے طور پر انھیں انڈیا کے حوالے کر دیا تھا۔
چنئی سے تعلق رکھنے والے ابھینندن نے 2004 میں انڈین ایئر فورس میں بطور فائٹر پائلٹ شمولیت اختیار کی تھی۔ فضائیہ سے ان کا خاندانی تعلق بھی گہرا ہے۔ ان کے والد ایئر مارشل سمہاکٹی ورتھمان انڈین ایئر فورس کے سینیئر افسر رہ چکے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ بھی فضائیہ سے وابستہ رہی ہیں۔
ابھینندن کے والد نے معروف تمل ہدایت کار منی رتنم کی 2017 کی فلم ’کاتر ویلیدی‘ کے لیے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دی تھیں۔ یہ فلم 1999 کی کارگل جنگ کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔
’ایک فائٹر پائلٹ کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، وہ صرف ایک نیا مشن اختیار کرتا ہے‘
یہ خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کے ردِعمل دیکھنے میں آئے۔ انڈیا میں بہت سے صارفین نے ابھینندن کے فوجی کریئر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے نئے پیشہ ورانہ سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جبکہ پاکستان میں بعض صارفین نے 2019 کے فضائی تصادم سے متعلق انڈین مؤقف پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے۔
انڈیا کے تجزیہ کار میجر گورو آریہ نے لکھا کہ ’ایک فائٹر پائلٹ کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، وہ صرف ایک نیا مشن اختیار کرتا ہے۔‘ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’مگ-21 سے اے ٹی آر تک، یہ ایک غیرمعمولی سفر ہے۔‘
صحافی حامد میر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ابھینندن نے کسی پاکستانی جنگی طیارے کو نہیں گرایا تھا۔ ان کے مطابق 2019 کے واقعات کے بعد نہ کوئی پاکستانی ایف 16 لاپتہ پایا گیا اور نہ ہی کسی پاکستانی طیارے کا ملبہ سامنے آیا۔
دوسری جانب میگھا نامی ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ 22 برس تک فضائیہ میں خدمات انجام دینے، ویر چکرا حاصل کرنے اور انڈیا کے معروف ترین فائٹر پائلٹس میں شمار ہونے کے باوجود ابھینندن نے 43 برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیوں کیا۔ ان کے بقول یہ جاننا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ تجربہ کار فوجی پائلٹ نجی شعبے کا رخ کن وجوہات کی بنا پر کرتے ہیں۔
وینڈرر 2419 نامی اکاؤنٹ سے ایک صارف نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے لکھا کہ فوجی پائلٹوں کا کمرشل ایوی ایشن میں جانا ایک معمول کی پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں سابق فوجی پائلٹ ریٹائرمنٹ یا قبل از وقت علیحدگی کے بعد کمرشل طیارے اڑاتے ہیں، تاہم اس کے لیے اضافی تربیت اور کمرشل پائلٹ لائسنس درکار ہوتا ہے۔
اس معاملے پر طنز و مزاح بھی دیکھنے میں آیا۔ صحافی احتشام الحق نے تبصرہ کیا کہ ان کے خیال میں گوا میں قائم فضائی کمپنی فلائی 91 نے ابھینندن کی شمولیت کو تشہیری نقطۂ نظر سے بھی فائدہ مند سمجھا ہوگا۔