’نوکری پر رہوں یا نہ رہوں اب پیچھے نہیں ہٹوں گا‘: نئے صوبوں سے متعلق محسن نقوی کا تازہ بیان، ممدانی اور صادق کا ذکر

محسن نقوی نے نئے صوبوں سے متعلق اپنے گذشتہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی نے اسے موجودہ حکومت سے جوڑا تو کسی نے ایک سیاسی جماعت سے جوڑ، میرا اشارہ نہ تو کسی سیاسی جماعت کی طرف تھا اور نہ کسی اور طرف تھا۔‘

’ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا نہیں ہے۔۔۔ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے وہ چاہیں تو بنیں نہ چاہیں تو نہ بنیں۔ کیا پنجاب میں لاہور جیسا کوئی اور شہر ہے، کیا سندھ میں کراچی جیسا کوئی شہر ہے۔۔اسلام آباد کو بھی صوبہ بننا چاہیے۔‘

یہ الفاظ ہیں پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے جو سنیچر کو لاہور کی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) میں نئے صوبوں سے متعلق ’قومی پالیسی مکالمے‘ میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔

محسن نقوی نے نئے صوبوں سے متعلق اپنے گذشتہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی نے اسے موجودہ حکومت سے جوڑا تو کسی نے ایک سیاسی جماعت سے جوڑ، میرا اشارہ نہ تو کسی سیاسی جماعت کی طرف تھا اور نہ کسی اور طرف تھا۔‘

یاد رہے کہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کی بحث اُس وقت چھیڑی تھی جب گذشتہ ماہ اسلام آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب میں اُنھوں نے یہ کہا تھا کہ ’جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے (ڈھے چکا ہے)‘۔ ساتھ ہی انھوں نے مسائل کے حل کے لیے پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا مشورہ دیا تھا۔

اس بیان کے اگلے ہی روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران ملک میں ’گڈ گورننس‘ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی محسن نقوی کے اس بیان پر جوابی موقف آتا رہا ہے۔

محسن نقوی کے پہلے بیان کے بعد سے ہی ملک بھر میں نئے صوبوں کے حق اور مخالفت میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور مختلف غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کی جانب سے اس معاملے پر مباحثوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اس معاملے پر حکمراں جماعت کے وزرا نے محسن نقوی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے تو سرے سے ہی نئے صوبوں کی کھل کر مخالفت کر دی تھی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پیغام میں محسن نقوی کو پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور طنزاً لکھا تھا کہ ’سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔‘

حالیہ چند روز کے دوران سندھ اسمبلی میں وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ اور صدر آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کے جارحانہ بیانات کا بھی چرچہ ہے جس میں اُنھوں نے سندھ کی تقسیم کو ’غداری‘ سے تشبیہ دی ہے۔

محسن نقوی کے صوبوں سے متعلق تازہ بیان پر سوشل میڈیا پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض صارفین اسے پیپلز پارٹی کے دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ملک کے مقتدر ادارے نئے صوبے بنانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

محسن نقوی کے تازہ بیان کا کیا مطلب ہے؟ اس حوالے سے بی بی سی نے ماہرین سے بات کی ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ محسن نقوی نے اپنے خطاب میں مزید کیا کہا اور اس مکالمے میں شریک دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کیا کہنا تھا۔

’ممدانی اور صادق خان تو اب آئیں گے‘

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں نے نظام کو درست کرنے کی بات کی تھی، حکومتیں پالیسیاں بدلتی رہتی ہے بجٹ بھی آتے رہے ہے۔ تعلیم صحت اور انصاف ہر کسی کے پاس ہونا ضروری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے نظام تعلیم کا یہ حال ہے کہ پانچویں جماعت بچہ عام جملے نہیں پڑھ سکتا۔ ہمیں سسٹم ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے، یہ تمام کام آئین کے اندر رہ کر کرنا ہے۔

وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا کا آبادی کے اعتبار سے پانچویں ملک بن گئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں اسلام آباد کو بھی صوبہ بنانے کا سب سے بڑا حامی ہوں، اسلام آباد وہ شہر ہے جس کو بجٹ سے ایک روپیہ نہیں ملتا۔

’نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، اب پیچھے نہیں ہٹوں گا، جو مرضی کر لیں ممدانی اورصادق خان تو اب آئیں گے۔ ہم تحصیلیں ڈویژن اور ضلعے بنا سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ زہران ممدانی نیویارک سٹی جبکہ صادق لندن کے میئر ہیں۔

مکالمے میں مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق، سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، متحدہ قومی موومنٹ کے خالد مقبول صدیقی، وکلا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’وہ چھوٹے صوبوں کے حامی ہیں، لیکن جو ہو گا سب کے ساتھ ہو گا۔ بلوچستان کا وزیرِ اعلیٰ صوبے کے دورے پر نکلتا ہے تو اسے دو دن واپسی پر لگتے ہیں۔ سندھ کے آخر پر بیٹھا شخص کراچی نہیں جا سکتا۔ لہذا اگر تقسیم ہونی ہے تو تمام صوبوں کی ہونی چاہیے۔‘

’چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا ارادہ پختہ ہے‘

سوشل میڈیا پر محسن نقوی کے بیان پر بات ہو رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے محسن نقوی کے بیان پر لکھا کہ ’سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے جارحانہ رویے نے محسن نقوی کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔‘

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’مضبوطی سے ڈٹے رہنے کے بجائے ان کی تقریر سے کمزوری اور معذرت خواہانہ انداز جھلکتا رہا، اور وہ مقامی قیادت (میئرز وغیرہ) کو مراعات دے کر معاملات سنبھالنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔‘

سینئر صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے ایکس پر لکھا کہ ’محسن نقوی کے بیان سے لگتا ہے کہیہ بات بالکل واضح ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا ارادہ پختہ ہے۔ تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کوئی جلد بازی نہیں ہے۔ کوئی بہت بڑا فیصلہ فوری طور پر متوقع نہیں ہے۔ بحث کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے موقف کا تعین کرنے پر قائل کیا جا سکتا ہے۔ غیر جانبدار رہنے یا تذبذب کا شکار رہنے کا وقت جلد ختم ہو جائے گا۔

فہد حسین کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کا راستہ ایک آئینی آپشن کے طور پر موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کا سخت موقف مؤثر رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ یہ کوئی ’گیم چینجر‘ (صورتحال یکسر بدل دینے والی چیز) نہیں بلکہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے بات چیت اور سختی کے امتزاج کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

فہد حسین کا کہنا تھا کہ ’محسن نقوی کی آج کی تقریر اچھی طرح تیار کی گئی تھی اور اس میں اہم نکات کو بہت نپے تلے انداز میں بیان کیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت کی گئی گفتگو تھی۔ وہ اپنے بنیادی پیغام پر قائم رہے اور کہیں بھی موضوع سے نہیں ہٹے۔ ان کے الفاظ پر بہت کچھ منحصر ہے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما تیمور جھگڑا نے ایکس پر سوال کیا کہ کیا محسن نقوی نے صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے؟ کیا عوامی فورمز پر وزیرِ داخلہ کا پالیسی کا تعین کرنا مناسب ہے؟

Pakistan
Getty Images

’لگتا ہے کہ اس بار کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا‘

پاکستان میں انتخابی اُمور اور مقامی حکومتوں کے ماہر زاہد اسلام کہتے ہیں کہ محسن نقوی کا نیا بیان اُن کے پچھلے بیان کا ہی ایک تسلسل ہے، لیکن انھیں نے اسے مزید نپے تلے انداز میں پیش کیا ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’لگ رہا ہے کہ صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا اور یہی وجہ ہے کہ تمام تر مخالفت کے باوجود یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے۔‘

زاہد اسلام کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے نیویارک سٹی اور لندن کی مثال دی ہے جہاں ایک طرح سے خود مختار شہری حکومت کا نظام ہے۔

اُن کے بقول ایسا لگتا ہے کہ بڑے شہروں کو صوبائی حکومتوں کے کنٹرول سے باہر لانے پر بھی غور ہو رہا ہے تاکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں کے مسائل حل ہو سکیں۔

زاہد اسلام کے مطابق کہ ’آئین یہ کہتا ہے کہ اگر مقامی حکومتوں کا نظام بھی لانا ہے تو اس کا طریقہ کار صوبائی حکومتیں ہی طے کریں گی، لہذا اگر صوبائی حکومتوں کی مرضی کے بغیر کوئی نظام لانے کی کوشش کی گئی تو یہ خطرناک ہو گا۔‘

زاہد اسلام کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ گورننس اور ملکی نظام ہے، اگر آپ نئے صوبے بنا بھی لیں اور ملک کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر انتظامی یونٹس یا نئے صوبے بن جائیں، لیکن طاقت کا مرکز ایک ہی جگہ رہے تو پھر بھی مسائل حل نہیں ہوں گے۔‘

سینئر تجزیہ کار فرخ سلیم کہتے ہیں کہ محسن نقوی کے تازہ بیان سے لگتا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹ رہے جبکہ ری سیٹ کا مطلب حکومتی نظام میں اصلاحات ہے نہ کہ حکومت کی تبدیلی۔

اُنھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’محسن نقوی کے خطاب سے لگتا ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ آئینی اور جمہوری طریقے سے تبدیلی چاہتی ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US