پی سی بی پوڈکاسٹ کی 91ویں قسط میں بورڈ آف گورنرز کے رکن اور صدر بہاولپور ریجن طارق سرور نے شرکت کی اور پاکستان کرکٹ، قومی ٹیم، ڈومیسٹک اور گراس روٹ کرکٹ پر تفصیلی گفتگو کی۔
طارق سرور کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور چند شکستوں سے پاکستان کرکٹ ختم نہیں ہوجاتی۔ مشکل وقت میں قومی ٹیم کو سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ یہی کھلاڑی ماضی میں پاکستان کو کئی فتوحات دلا چکے ہیں، اور فارم میں کمی کا مطلب کھلاڑی کی صلاحیت ختم ہونا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیم ہارنے پر پورا نظام تبدیل کرنا درست نہیں کیونکہ سلیکشن کمیٹی میں تجربہ کار کرکٹرز شامل ہیں اور ہمارا ڈومیسٹک نظام دوبارہ مضبوط ہو رہا ہے۔
طارق سرور نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کی ذمہ داری صرف ٹیم کے نتائج تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے ہر محاذ پر پاکستان کرکٹ کا مؤقف مضبوط کیا ہے۔ آئی سی سی اور اے سی سی کی سطح پر پاکستان کے مفادات کا بھرپور دفاع کیا گیا ہے، خاص طور پر ہائبرڈ ماڈل پر چیئرمین نے مضبوط اور واضح مؤقف اپنایا جس سے ایشین کرکٹ کونسل اور عالمی فورمز پر پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن سمیت پاکستان کرکٹ کو ہر سطح پر مضبوط کرنا چیئرمین کے وژن کا اہم حصہ ہے۔
گراس روٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں کرکٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور 24 سے زائد فرسٹ کلاس سینٹرز کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اسکول کرکٹ کو پاکستان کرکٹ کی اصل نرسری قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 400 جبکہ رواں سال تقریباً 1400 اسکول اس پروگرام کا حصہ ہیں۔ ان ٹرائلز میں 35 ہزار سے زائد بچے حصہ لیں گے جن میں سے تقریباً 21 ہزار بچوں کو اسکول ٹیموں کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ انہوں نے مثال دی کہ بہاولپور ریجن میں اسکول کرکٹ 22 سے بڑھ کر تقریباً 120 اسکولوں تک پہنچ چکی ہے جہاں سے انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 تک کا واضح راستہ موجود ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر ملک اپنی ٹیم کی طاقت کے مطابق پچز تیار کرتا ہے، اسی لیے پاکستان میں بھی مختلف نوعیت کی پچز پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی جا رہی ہے تاکہ کھلاڑیوں کو مختلف کنڈیشنز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کیا جاسکے۔ نوجوان کھلاڑیوں کی تیاری میں وقت لگتا ہے لیکن ایک مضبوط پلیئر پائپ لائن ہی پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے بہترین کھلاڑیوں کو آگے آنے کے مواقع مل رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں اس گراس روٹ پروگرام کے نتائج سامنے آئیں گے، جس سے پاکستان کرکٹ کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔