ایران جنگ کی قیمت امریکا کو بھاری پڑنے لگی، اربوں ڈالر خرچ اور اسلحہ ذخائر میں کمی

image

ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے صرف میدانِ جنگ کا معاملہ نہیں رہی بلکہ اس کے مالی اور معاشی اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق امریکا اب تک اس جنگ پر تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ لڑائی مزید جاری رہنے کی صورت میں ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر مزید خرچ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے اثرات امریکی معیشت تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2027ء کی پہلی سہ ماہی میں امریکا میں مہنگائی کی شرح میں 0.5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

جنگ کے دوران امریکی فوج کے میزائلوں، گولہ بارود اور دیگر اہم ہتھیاروں کے ذخائر میں نمایاں کمی کا ذکر بھی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ ان ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں تقریباً پانچ سال لگنے کا اندازہ سامنے آیا ہے جس سے واشنگٹن کے لیے طویل مدتی دفاعی منصوبہ بندی ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی موجودہ کمی مستقبل میں کسی بڑے تنازع کی صورت میں امریکی دفاعی صلاحیتوں پر اثر ڈال سکتی ہے، بالخصوص چین اور تائیوان سے متعلق ممکنہ کشیدگی کے تناظر میں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پہلے ہی ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بھرنے کے لیے تقریباً 90 ارب ڈالر کی اضافی رقم طلب کر چکے ہیں۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی توانائی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اس اہم سمندری راستے سے ہوتی تھی، اس لیے وہاں کشیدگی بڑھنے سے تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ پیدا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 38 ارب ڈالر کی موجودہ لاگت میں بعض حالیہ حملوں کے اخراجات شامل نہیں جبکہ جنگ کے لیے لیے گئے قرض پر سود اور دیگر مالیاتی اخراجات بھی اس رقم سے الگ ہیں۔ یوں جنگ کی اصل مالی قیمت موجودہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ادھر امریکا کا مجموعی عوامی قرض بھی اگست میں 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جس کے باعث جنگی اخراجات، دفاعی ضروریات اور بڑھتے ہوئے قرض کا بوجھ امریکی مالیات کے لیے ایک ساتھ کئی چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US