پاکستان میں امراضِ قلب کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوششوں پر مزید مؤثر توجہ دینے کی ضرورت ہے، جس میں ایسے افراد کے لیے مسلسل طبی معاونت بھی شامل ہے جو بار بار کوششوں کے باوجود سگریٹ نوشی ترک نہیں کر پاتے۔
ایک سینئر ماہرِ امراضِ قلب نے کہا ہے کہ ایسے افراد کو طبی معاونت اور شواہد پر مبنی دیگر دستیاب طریقۂ کار سے محروم نہیں چھوڑنا چاہیے۔
گلوبل برڈن آف ڈیزیز (Global Burden of Disease) کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں امراضِ قلب سے ہونے والی سالانہ اموات کی تعداد 1990ء میں تقریباً 172,526 تھی، جو 2019ء میں بڑھ کر 341,108 ہوگئی۔ ان اعداد و شمار کو آبادی میں اضافے اور عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے، تاہم یہ اعداد و شمار ملک کے نظامِ صحت پر امراضِ قلب کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) کے ماہرِ امراضِ قلب پروفیسر ڈاکٹر فصیح احمد ہاشمی نے کہا کہ سگریٹ نوشی کو مکمل طور پر ترک کرنا اپنی قلبی صحت کے تحفظ کے لیے سگریٹ نوش افراد کا سب سے مؤثر قدم ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ جو افراد سگریٹ نوشی ترک کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، انہیں شواہد پر مبنی مزید مؤثر طریقۂ کار کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
ڈاکٹر ہاشمی نے کہا کہ، ’’سگریٹ نوشی امراضِ قلب کی اہم قابلِ تبدیلی وجوہات میں سے ایک ہے، جس کا ہمیں روزمرہ طبی عمل میں سامنا رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کو مکمل اور مستقل طور پر ترک کرنا صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے اور اسے بنیادی ہدف برقرار رہنا چاہیے۔‘‘
سگریٹ نوشی خون کی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے، شریانوں میں پلاک بننے کے عمل میں کردار ادا کرتی ہے اور خون کے لوتھڑے بننے، دل کے دورے اور فالج کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ سگریٹ نوشی ترک کرنے سے ان خطرات میں کمی آ سکتی ہے، تاہم نکوٹین پر انحصار کے باعث بعض افراد کو مستقل طور پر سگریٹ نوشی ترک کرنے سے پہلے کئی بار کوشش اور مسلسل طبی معاونت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ڈاکٹر ہاشمی نے کہا، ’’بہت سے سگریٹ نوش افراد رویّوں میں تبدیلی کے لیے معاونت اور مؤثر و شواہد پر مبنی ادویاتی علاج حاصل کرنے کے باوجود پہلی یا بعد کی کوششوں میں بھی سگریٹ نوشی ترک نہیں کر پاتے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ طبی اور صحتِ عامہ سے متعلق حکمتِ عملی وضع کرتے وقت اس مشکل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے بالغ سگریٹ نوش افراد جو ترکِ سگریٹ نوشی کے لیے معاونت حاصل کرنے کے باوجود بدستور سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں، ان کے لیے آزادانہ طور پر جائزہ لیے گئے غیر آتش گیر متبادل، خطرات میں کمی کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ہاشمی نے کہا، ’’جو افراد سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں، ان کے لیے ایسے غیر آتش گیر متبادل طریقوں یا مصنوعات کی جانب منتقلی، جن کا سخت سائنسی جائزہ لیا گیا ہو اور جو تمباکو جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زہریلے مادّوں سے لاحق ہونے والی بیماریوں کو نمایاں حد تک کم کرتے ہوں، سگریٹ نوشی سے متعلق قلبی خطرات کم کرنے کی ایک جامع حکمتِ عملی کا قابلِ غور جزو بن سکتی ہے، بشرطیکہ ان مصنوعات کی حفاظت اور مؤثریت دونوں کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا گیا ہو۔‘‘
سگریٹ کے جلنے کے عمل سے زہریلے مادّے پیدا ہوتے ہیں جو امراضِ قلب و شریانوں، سانس کی بیماریوں اور سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسی مصنوعات جن میں جلنے کا عمل شامل نہیں ہوتا، بعض ایسے مادّوں سے لاحق ہونے والی بیماریوں کو کم کر سکتی ہیں، تاہم ان کے صحت پر اثرات کا انحصار مصنوعات کی نوعیت اور دستیاب شواہد کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔
سگریٹ کے دھوئیں سے لاحق ہونے والی بیماریوں میں کمی کو خطرے کے مکمل خاتمے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی غیر آتش گیر متبادل کا جائزہ مخصوص مصنوعات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے اور اسے قابلِ اعتماد، آزادانہ سائنسی شواہد کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ ایسی مصنوعات کو غیر سگریٹ نوش افراد یا نوجوانوں کے لیے پیش یا تجویز نہیں کیا جانا چاہیے۔
غیر آتش گیر مصنوعات کے کردار کے بارے میں ماہرینِ طب، محققین اور صحتِ عامہ کے حکام کے درمیان اب بھی بحث جاری ہے۔ ناقدین طویل مدتی شواہد کے نامکمل ہونے، نوجوانوں میں ان مصنوعات کے استعمال اور اس امکان پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ سگریٹ نوش افراد دیگر مصنوعات کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ہاشمی کا مؤقف ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنا اس حکمتِ عملی کا مرکزی محور ہونا چاہیے، جبکہ ایسے بالغ سگریٹ نوش افراد کے لیے، جو بصورتِ دیگر سگریٹ نوشی جاری رکھیں گے، آزادانہ طور پر جائزہ لیے گئے خطرات میں کمی کے طریقوں پر غور کی گنجائش بھی موجود ہے۔