جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ مقصود علی نے محض 150 روپے ہفتہ وار اجرت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور محنت، ایمانداری و استقلال کی بدولت آج وہ اسلام آباد میں ایک کامیاب بزنس مین اور 150 افراد کے روزگار کا ذریعہ بن چکے ہیں۔
مقصود علی نے 2006 میں اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے بہاولپور سے لاہور کا رخ کیا جہاں انہوں نے ایئرکنڈیشننگ اور الیکٹرانکس کا کام سیکھنا شروع کیا۔ انہوں نے صرف چھ ماہ کے مختصر عرصے میں اس کام میں مہارت حاصل کر لی اور ان کی دیانت داری اور کارکردگی کی بنیاد پر اسی کمپنی میں انہیں سپروائزر مقرر کر دیا گیا۔
سال 2009 میں وہ اسلام آباد منتقل ہو گئے اور محدود وسائل کے باوجود ذاتی کاروبار کا آغاز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی محنت میں برکت عطا کی اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کمپنی کی اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں چار برانچز قائم ہو گئیں، جہاں اس وقت تقریباً 150 افراد ملازمت کر رہے ہیں۔
کاروباری وسعت کے ساتھ مقصود علی خدمتِ خلق کے کاموں میں بھی پیش پیش ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ ون، دربار مارکیٹ کے قریب روزانہ کی بنیاد پر ضرورت مند افراد کے لیے کھانے کی تقسیم کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت سمجھتے ہیں اور اس کا مقصد انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔
پانچ بچوں کے والد مقصود علی اب تک 15 سے زائد ممالک کا سفر کر چکے ہیں اور انہیں متعدد بار حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کا راز بڑے وسائل میں نہیں بلکہ بڑے عزم، مسلسل محنت اور اللہ کی مخلوق کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔