افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے پاکستان پر صوبہ کنڑ اور پکتیکا کے سرحدی علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ طالبان حکام کے مطابق کنڑ کے ضلع نورگل میں ایک گھر تباہ ہونے سے تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جبکہ پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک دکان اور ایک گھر کو نقصان پہنچا۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت نے پاکستانی فوج پر کنٹر اور پکتیکا میں حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے الزام کے مطابق گذشتہ رات پاکستان کی فوج نے ان دونوں صوبوں کے شہری علاقوں پر بمباری کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ حملوں کے نتیجے میں ’کنڑ میں ایک خاتون اور دو مرد ہلاک ہوئے، جبکہ دو خواتین اور دو مرد زخمی ہوئے ہیں۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مقامی اور عام شہری تھے۔
ترجمان کے مطابق ’پکتیکا میں ایک گھر اور ایک دکان پر بمباری کی گئی، تاہم وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
ذبیح اللہ مجاد کا کہنا ہے کہ ’ہم اس جارحیت اور ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور اسے گذشتہ جرائم کے تسلسل کا حصہ سمجھتے ہیں۔‘
افغانستان حکومت کے اس الزام پر تا حال پاکستان کی جانب سے کوئی سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا گیا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ملک کے اندر سکیورٹی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر ایسے جرائم کا ارتکاب کیا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اکتوبر 2025 میں سرحد پار کشیدگی میں اضافے کے بعد سے، افغانستان کے اندر پاکستانی فوج کی جانب سے متعدد بار فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
پاکستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک ان شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے جو افغان سر زمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
طالبان حکومت ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔
سوموار کے روز اپنی ایکس پر پوسٹ میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’افغان عوام اس جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔‘
افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت کا الزام ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے حملہ ’صبح تین بجے‘ کیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں ان کا الزام ہے کہ ’صوبہ کنڑ کے ضلع نورگل اور صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں شہریوں کے گھروں اور عوامی املاک پر بمباری کی گئی۔‘
حمد اللہ فطرت نے کہا کہ بمباری کے نتیجے میں ضلع نورگل کے پٹھان گاؤں میں نور احمد نامی ایک دیہاتی کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس سے نور احمد سمیت خاندان کے تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
حمد اللہ فطرت کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں دو بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان کے مطابق ’صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں رخہ اور تور کنڈی کے علاقوں میں دو مقامات پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک دکان اور ایک غیر آباد مکان تباہ ہو گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔‘
اپنی ایکس پوسٹ میں حمد اللہ فطرت نے چند تصاویر بھی شامل کی ہیں جن میں ٹوٹے ہوئے درخت اور بکھری اینٹیں نظر آ رہی ہیں۔
ان میں ایک تصویر کسی دھاتی ٹکڑے کی بھی ہے جس پر انگریزی میں ’فار یوز آن ایم کے 82 فِن، گائیڈڈ بم‘ تحریر ہے، جبکہ اس کے ساتھ کچھ حروف اور نمبر بھی درج ہیں۔
تاہم پوسٹ میں ان تصاویر کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ بی بی سی ان تصاویر کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان اور نائب ترجمان نے مبینہ حملوں کی نوعیت کے بارے میں بھی کوئی وضاحت جاری نہیں کی کہ آیا یہ بمباری فضائی حملوں کے ذریعے کی گئی یا سرحد پار سے گولہ باری کی صورت میں۔
واضح رہے کہ کنڑ اور پکتیکا، دونوں ہی افغان صوبوں کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔
کنڑ کی سرحد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع باجوڑ، مہمند اور دیر کے علاقوں سے ملتی ہے۔ جبکہ پکتیکا کی سرحد پاکستان کے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سے متصل ہے۔
دوسری جانب گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، اس کے نتیجے میں آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے، جبکہ دو فوجی افسران سمیت چھ اہلکار بھی جان سے گئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔
فوج کے مطابق جھڑپ کے دوران 23 سالہ کیپٹن ابوذر فاروق اور 22 سالہ لیفٹیننٹ شیراز بابر اپنے دستوں کی قیادت کر رہے تھے اور اسی دوران مارے گئے۔