’بجلی کی ایک منڈی بنے گی جہاں سے صارف اپنے لیے سستی ترین بجلی خرید سکے گا۔ حکومت اس جھنجھٹ سے باہر نکال آئے گی کہ پہلے وہ بجلی خریدے اور پھر زبردستی اپنے مقرر کردہ ریٹ پر آپ کو بجلی فراہم کرے۔ ابھی پہلا قدم ہے اور آئندہ برسوں میں عام صارف تک اس نظام کے فائدے پہنچیں گے۔‘
اویس لغاری: ’حکومت اس جھنجھٹ سے باہر نکال آئے گی کہ پہلے وہ بجلی خریدے اور پھر زبردستی اپنے مقرر کردہ ریٹ پر آپ کو بجلی فراہم کرے‘ (فائل فوٹو)پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا ایک ویڈیو پیغام گذشتہ ایک روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ عندیہ دیے رہے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے متعارف کروائے گئے ایک نئے نظام کے تحت اب حکومت بجلی خرید کر صارفین کو فراہم نہیں کرے گی بلکہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے اور بجلی خریدنے والے ایک شفاف طریقہ کار کے تحت آپس میں خود ہی بجلی کی خرید و فروخت کریں گے۔
اپنے اس بیان میں اویس لغاری وضاحت کرتے ہیں کہ ’پاکستان کے اندر یہ نظام رائج ہے کہ عام صارفین تک جتنی بھی بجلی پہنچتی ہے، وہ پہلے حکومتِ پاکستان خریدتی ہے اور پھر اِس کو اپنے ترسیلی نظام کے ذریعے عام صارفین تک پہنچاتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حکومت کمپنیوں سے کن شرائط پر یہ بجلی خریدتی ہے، مہنگی خریدتی ہے یا سستی، آئی پی پیز کا معاملہ ہے۔۔۔ اس پر عام صارفین کے ہمیشہ سے سوالات رہے ہیں۔ مگر آج کے بعد پاکستانی حکومت بجلی کی خریداری نہیں کرے گی اور بجلی پیدا کرنے والے اور بجلی خریدنے والے ایک شفاف طریقہ کار کے تحت آپس میں خود بجلی کی خرید و فروخت کریں گے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کا آغاز سب سے پہلے انڈسٹریل یا بڑے صارفین (جو ایک میگا واٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں) سے ہو گا، اور اس کے بعدآئندہ برسوں میں عام صارف، جو 200 یا 400 یونٹ بھی استعمال کرتا ہے، تک اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔‘
’بجلی کی ایک منڈی بنے گی جہاں سے صارف اپنے لیے سستی ترین بجلی خرید سکے گا۔ حکومت اس جھنجھٹ سے باہر نکال آئے گی کہ پہلے وہ بجلی خریدے اور پھر زبردستی اپنے مقرر کردہ ریٹ پر آپ کو بجلی فراہم کرے۔ ابھی پہلا قدم ہے اور آئندہ برسوں میں عام صارف تک اس نظام کے فائدے پہنچیں گے۔‘
اویس لغاری کے اس ویڈیو بیان کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس ضمن میں اتوار (20 ستمبر) کو بجلی کی ویلنگ (ترسیل) کی پہلی بار نیلامی کے لیے ریکوئسٹ برائے پروپوزلز (یعنی درخواست برائے تجاویز) جاری کیے ہیں۔
پاور ڈویژن نے اپنے ایک اعلامیے میں بتایا کہ اس نظام کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں مجموعی طور پر 800 میگا واٹ بجلی نیلام کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی مسابقتی بنیادوں پر فراہم کی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق یہ نیلامی کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم)یعنی مسابقتی تجارت کی باہمی معاہدے کی مارکیٹ کے تحت ہو گی، جس میں کاروباری اور صنعتی صارفین بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے براہِ راست مسابقتی بنیادوں پر بجلی خرید سکیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں بجلی کا شعبہ گذشتہ کئی برسوں سے گردشی قرضوں، تقسیم و ترسیل کے عمل کے دوران ہونے والی چوری اور نقصانات، کئی سو ارب کی کیپیٹی پیمنٹس، مہنگے پاور پلانٹ کی وجہ سے زیر بحث ہے، جس کی وجہ سے گھریلو، تجارتی اور صعنتی صارفین بجلی کے بھاری بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
تو آخر بجلی ویلنگ کی نیلامی کا منصوبہ ہے کیا، یہ نظام کیسے کام کرے گا اور یہ سسٹم پاکستان کے ایک عام صارف تک کب تک پہنچے گا؟
بجلی ویلنگ کا نظام اور اِس کی نیلامی کیا ہے؟
’اس کام کو آج سے دو تین دہائیاں قبل ہونا چاہیے، تاہم اب جا کر وفاقی حکومت نے یہ کام کیا ہے‘ (فائل فوٹو)اتوار کے روز وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی ویلنگ (ترسیل) کی پہلی بار نیلامی کے لیے آر ایف پی جاری کیے گئے ہیں۔
توانائی شعبے کی ماہر عافیہ ملک نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بجلی ویلنگ سے مراد یہ ہے کہ ایک صارف (بجلی استعمال کرنے والا) کسی بھی بجلی پیدا کرنے والے ادارے سے بجلی خریدنے کا معاہدے کرے گا اور پھر خریدی گئی بجلی تھرڈ پارٹی کے سسٹم کے ذریعے صارف تک پہنچائی جائے گی۔
تھرڈ پارٹی کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے مراد حکومت کا موجودہ تقسیم و ترسیل کا نظام ہے جس کے ذریعے بجلی صارف تک پہنچائی جائے گی۔
انھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ تک بجلی خریداری کے لیے نیلامی کی تجاویز مانگی گئی ہیں۔
پالیسی ریسرچ انسٹیٹوٹ برائے ایکوٹیبل ڈویلپمنٹ (پرائیڈ) میں توانائی شعبے کے ماہر منظور احمد نے بتایا کہ یہ بنیادی طور پر نوے کے دہائی کے شروع میں عالمی بینک کی جانب سے متعارف کروائی گئی پاور شعبے کی لبرلائزیشن پالیسی کا حصہ ہے۔
انھوں نے کہا اس کام کو آج سے دو تین دہائیاں قبل ہونا چاہیے، تاہم اب جا کر وفاقی حکومت نے یہ کام کیا ہے۔
اس کا تذکرہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بھی اپنے ویڈیو پیغام میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’پچھلے 25، 30 سال سے ہر حکومت کی ایسا کرنے کی خواہش رہی ہے مگر کوئی حکومت اس ضمن میں عملی اقدام نہیں اٹھا سکی، مگر اب موجودہ حکومت اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا چکی ہے۔‘
پہلے مرحلے میں کون سے صارف کمپنیوں سے براہ راست بجلی خرید سکیں گے؟
عافیہ ملک کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک میگا واٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین مسابقتی ریٹ پر بجلی کمپنیوں سے خود بجلی خرید سکیں گے۔
انھوں نے کہا بنیادی طور پر یہ بلک (یعنی بڑے) صارفین ہوتے ہیں جن میں بڑی صنعتیں اور انڈسٹریاں شامل ہوتی ہیں جیسا کہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ، فرٹیلائز وغیرہ۔ یہ وہ ادارے ہیں جہاں بجلی کی کھپت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ان کے مطابق چھوٹی صعنتیں اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ عموماً وہاں بجلی کی اتنی کھپت نہیں ہوتی ہے۔
منظور احمد نے اس سلسلے میں بتایا کہ بنیادی طور پر پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ تک بجلی خریداری کے لیے لیے نیلامی ہے، جو اگلے پانچ سال میں 800 میگاواٹ تک جائے گی۔
تاہم یہ واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں صرف ملک کی بڑی انڈسٹری ہی اہل ہو گی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے مقررہ کردہ ایک میگا واٹ سے زائد کی کھپت صرف بڑی انڈسٹری میں ہی ہوتی ہے۔
بڑا صعنتی شعبہ کیا بجلی ویلنگ کے نظام سے فائدہ اٹھا پائے گا؟
بجلی ویلنگ کی پہلی نیلامی میں ایک میگاواٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین اہل ہیں جو عموماً پاکستان میں بڑی صنعتیں ہی استعمال کرتی ہیں۔
اُن کی جانب سے مسابقتی مارکیٹ سے بجلی خریدنے اور ان کے لیے کسی ریلیف کے بارے میں منظور احمد نے کہا یہ بھی دیکھنا پڑے گا کیا واقعی جو بجلی وہ خریدیں گے وہ حکومت سے خریدی جانے والی بجلی سے کم قیمت ہو گی۔
انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بڑا صعنتی ادارہ بجلی تو کسی کمپنی سے براہ راست ایک معاہدے کے ذریعے خریدے گا، مگر اس بجلی کے حصول کے لیے وہ جو انفراسٹرکچر استعمال کرے گا وہ حکومت کا ہی ہے جس کی اسے قیمت ادا کرنے پڑے گی، جسے عام زبان میں لائن رینٹ کہا جاتا ہے۔
عافیہ ملک کے مطابق کسی ایک بڑے صارف اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے کے درمیان معاہدے کے بعد ویلنگ کاسٹ سب سے اہم ہو گی اور اسی کی بنیاد پر یہ طے ہو گا کہ کسی بھی بڑے صارف کے لیے مسابقتی مارکیٹ سے بجلی خریداری واقعی سستی ہو گی یا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ بڑی صعنتوں کے لیے بھی دیکھنا پڑے گا کہ یہ نظام کتنا قابل عمل ہے۔
ان کے خیال میں فوری طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ بڑے صنعتی اداروں کے لیے بجلی ریٹ میں بہت بڑی کمی واقع ہو گی کیونکہ حکومت کے سسٹم کو استعمال کرنے کی ایک قیمت ہے، جو کیپسٹی پیمنٹ اور دوسرے نقصانات کی وجہ سے حکومت کو ادا کرنا ہوتی ہے۔
تاہم وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت انڈسٹری کو سستی بجلی ملے گی، وہ اپنی پیدواری لاگت میں کمی لا کر بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں گے، اور بجلی پر اٹھنے والے ایک بڑے خرچے میں کمی ہو گی۔
کیا عام صارف کو کوئی فائدہ ہو گا؟

پاکستان میں گذشتہ چند برسوں کے دوران بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے صعنتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کو بجلی کے بھاری بل ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔
اگرچہ صارفین کی جانب سے سولر سسٹم پر منتقل ہونے کی وجہ سے گرڈ بجلی کی کھپت میں کمی آئی ہے، تاہم کئی سو ارب روپے سالانہ کی کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی کی وجہ سے گرڈ سے منسلک صارفین پر سولر منتقلی سے ہونے والا اضافی بوجھ بھی پڑ رہا ہے۔
عافیہ ملک کے مطابق پاکستان میں موجودہ سال 2026 کے لیے حکومت نے 1900 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹ بجلی کمپنیوں کو ادا کرنی ہے۔
انھوں نے کہا مسابقتی ریٹ پر بجلی خریداری کے نئے اقدام سے عام یا گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
انھوں نے کہا پاکستان میں ٹیکسوں اور سر چارج کے علاوہ تقریباً 34 روپے لے لگ بھگ بجلی کی فی یونٹ قیمت ہے۔
عافیہ نے بتایا کہ گھریلو صارفین کے لیے فی الحال اس نئے نظام میں کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ حکومتی منصوبے کے مطابق گھریلو صارفین تک نیا سسٹم پہنچنے میں ابھی چند سال لگیں گے چنانچہ اُن کے بجلی کے بل میں کوئی کمی نہیں آ سکے گی۔
ان کے مطابق اسی طرح چھوٹی صنعتوں اور تجارتی شعبے کے لیے بجلی کے ریٹ میں کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے مرحلے میں بجلی ویلنگ کی نیلامی کے لیے اہل نہیں ہیں۔
ماہر توانائی منظور احمد کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کے لیے فی الحال بہتر یہی ہے کہ وہ سولر پر منتقل ہوں کیونکہ بجلی ویلنگ کے نئے نظام میں ان کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے۔