پشاور میں چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر خان اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں اور خاندان کے افراد کو گرفتار کر کے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ ہر صورت 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچیں گےپاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی وزرا کی وارننگز کو نظر انداز کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ 27 ستمبر کو ہر صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری سے اس تحریک کو نہیں دبایا جا سکتا۔
پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان، کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ تین (تھری ایم پی او) کے تحت حراست میں لے کر آئندہ 30 روز کے لیے نظربند کر دیا گیا ہے۔
پیر کو پشاور میں چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر خان اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں اور خاندان کے افراد کو گرفتار کر کے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ایسا نہیں ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ایک سیاسی جماعت کے ساتھ سوتیلے بچے جیسا سلوک کیا جاتا ہے، اگر ریاستی ادارے اسے اپنا نہ سمجھیں، اگر اس کے ساتھ ناانصافی ہو، اگر اس کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ نہ کیا جائے، تو وہ فطری طور پر احتجاج کی طرف جائے گی۔‘
اس موقع پر چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے 1500 کارکن، پانچ ارکانِ قومی اسمبلی، ارکانِ صوبائی اسمبلی اور ایک وزیر کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ ’ہماری عدالتیں ہماری بات نہیں سن رہیں، پارلیمان یا سینیٹ میں ہماری آواز نہیں سنی جا رہی، ہم کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟ صرف انصاف، لیکن وہ کہیں بھی نہیں دیا جا رہا، اسی لیے ہم نے اپنے حقوق کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں غیر قانونی کیا ہے؟‘
خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، لیکن حکومت نے واضح کر رکھا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پی ٹی آئی کو کسی صورت اسلام آباد میں احتجاج یا سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 ستمبر کو ایک عام شہری کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر مختصر فیصلہ سُناتے ہوئے کہا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر (عوامی عہدیدار) کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔
’کسی کو اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘
اس سے قبل لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ کسی کو بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’اب ایسا نہیں ہو گا کہ کوئی لانگ مارچ لے کر آئے اور پورا ملک کئی دنوں کے لیے یرغمال بنا رہا۔ اس بار ان سے نمٹنے کے لیے کوئی مستقل لائحہ عمل بنائیں گے۔‘
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے بھی پیر کو کوہاٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی اسلام آباد آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اُنھوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی والوں نے کبھی بھی پرامن احتجاج نہیں کیا اور اب انھیں کسی قسم کی تباہی نہیں پھِیلانے دی جائے گی۔

عمران خان کی تینوں بہنیں تھری ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے نظربند
اس سے قبل کریک ڈاؤن کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی تینوں بہنوں، علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان، کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ تین (تھری ایم پی او) کے تحت حراست میں لے کر آئندہ 30 روز کے لیے نظربند کرنے کا حکم دیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو اتوار کی دوپہر حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے سابق وزیر اعظم کی دیگر دو بہنوں اور رشتہ داروں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے 20 ستمبر کو جاری کیے گئے ایک حکمنامے میں عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو تھری ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیے جانے اور نظر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل ایسا ہی حکمنامہ علیمہ خان کے حوالے سے بھی جاری کیا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کے آفس سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو گرفتاری کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں رکھا جائے گا۔
اس نوٹیفیکیشن میں پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی سرگرمیاں عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نقصاندہ ہیں۔ پولیس کی جانب سے اُن پر نو مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش میں ملوث ہونے، کارکنوں کو سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اُکسانے اور سوشل میڈیا و عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘
نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے بھی پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے مواد کی بنیاد پر دونوں کی 30 روزہ نظربندی کی سفارش کی تھی۔
اس سے قبل علیمہ خان کی نظربندی کے حوالے سے سامنے آنے والے نوٹیفیکیشن میں بھی پولیس رپورٹس اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں آئندہ 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔
علیمہ خان کو اتوار کی دوپہر حراست میں لیا گیا تھاپولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان افراد کو ’بغیر نگرانی‘ چھوڑا گیا تو وہ عوامی امن اور سکون کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹس میں عمران خان کی بہنوں کی 30 روزہ نظربندی کی سفارش کی گئی تھی تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
ڈیٹینشن آرڈرز کے مطابق یہ معاملہ 20 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر لاہور کی سربراہی میں ہونے والے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے اجلاس میں بھی زیرِ بحث آیا۔
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل رانا مدثر عمر کا ایک بیان ’ایکس‘ پر سامنے آیا ہے کہ جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’اہلِخانہ نے علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان، نورین نیازی اور دیگر اہلِخانہ کی گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
ان کے مطابق آج یعنی پیر کے روز تھری ایم پی او کے تحت جاری کیے گئے نظر بندی کے حکم کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
ادھر علیمہ خان کے رشتہ دار قاسم زمان خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ علیمہ خان کو لاہور جم خانہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا تھا۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کی بہنوں کی نظربندی کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اُن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظربندی کے احکامات ایسے وقت میں دیے گئے ہیں، جب پاکستان تحریکِ انصاف نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ’آئین کی بالادستی‘ کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد کے مختلف مقامات پر کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی خبردار کر چکے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کی روشنی میں کسی بھی جماعت کو ’اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
لانگ مارچ کے پیشِ نظر پنجاب میں دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہےپاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کی نظر بندی کے احکامات کی مذمت کی ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف نے واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پرامن اور سیاسی ہو گا۔
ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد کرنا ہے، ہم کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہمارے لوگ اور اراکین پارلیمان گرفتار کیے جا رہے ہیں۔ جن کے ہاتھ میں اختیار اور طاقت ہے، وہ ایک مرتبہ حالات پر نظر کریں۔ اِس وقت ایم این ایز، ایم پی ایز اور اہلخانہ کی گرفتاریوں سے حالاتکشیدہ ہوں گے۔ عظمیٰ بی بی اور نورین بی بی کی حراست کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ملک کو اس وقت مزید تصادم نہیں، سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ریاست فوری طور پر اپنا طرزِ عمل تبدیل کرے۔ ’ہم صرف انصاف مانگ رہے ہیں اور انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ایکس پر لکھا ’27 ستمبر کے احتجاج کا خوف واضح طور پر اثر دکھا رہا ہے۔‘
تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے مختلف مقامات پر سڑکوں کے کنارے بڑی تعداد میں کنٹینرز لا کر رکھے گئے ہیںتھری ایم پی او کیا ہے؟
عمران خان کی بہنوں کو تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔
تھری ایم پی او کا قانون پاکستان میں حکومت کو ایسے افراد کو حفاظتی حراست میں رکھنے کے لیے وسیع اختیارات دیتا ہے، جنھیں عوامی تحفظ یا امن و امان کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ قانون ایک طے شدہ مدت کے لیے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور نظربندی کی اجازت دیتا ہے، جسے بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ حراست ایک وقت میں لگاتار چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ تاہم، تین ماہ سے زیادہ طویل حراست کے لیے عدالتی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان میں اس سے پہلے بھی عوامی احتجاج یا سیاسی جماعتوں کے جلسوں سے قبل سیاسی رہنماؤں کو نظربند کیا جاتا رہا ہے۔
تھری ایم پی او کے قانون کے مطابق متاثرہ شخص اس فیصلے کو صوبائی حکومت کے سامنے چیلنج کر سکتا ہے۔