اور اس مرتبہ تو کنٹینرز کی تعداد اس لیے بھی زیادہ محسوس ہو رہی ہے کیونکہ تحریک انصاف کے علاوہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذہبی سیاسی جماعت 'جماعت اسلامی' نے بھی ستمبر کے ہی مہینے میں اسلام آباد پہنچنے کی کال دے رکھی ہے۔

اگست 2024 میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران اُس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ’کنٹینر سِٹی‘ کہہ کر پکارا تھا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے توہین عدالت کی یہ درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس لیے دائر کی گئی تھی کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے اِس جماعت کو ڈی چوک میں احتجاج کرنے کی غرض سے جاری کیا گیا این او سی (اجازت نامہ) منسوخ کر دیا تھا۔
اس کیس کا جو فیصلہ ہونا تھا، سو ہوا مگر اس کے بعد مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں ہر احتجاج کے موقع پر اسلام آباد کے لیے ’کنٹینر سِٹی‘ کی اصطلاح بارہا استعمال ہوئی۔
اور اب ایک بار پھر اسلام آباد کے شہریوں کے لیے وفاقی دارالحکومت ’کنٹینر سٹی‘ کا ہی منظر پیش کر رہا ہے اور وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل مقامی انتظامیہ نے شہر کے داخلی، خارجی اور اہم راستوں پر سڑکوں کے کنارے سینکڑوں کنٹینرز لا کر رکھ دیے ہیں جنھیں بوقت ضرورت کھسکا کر سڑکوں کو بند کر دیا جائے گا۔
کنٹینرز لگا کر مظاہرین کو کسی مخصوص مقام یا شہر سے دور رکھنے کی تدبیر اگرچہ کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے، مگر بظاہر اس کے کارگر ہونے کے باعثاب اسلام آباد میں کنٹینرز کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔
جیسے ہی تحریک انصاف یا کسی اور جماعت کی جانب سے ڈی چوک یا اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی جاتی ہے تو راتوں رات سینکڑوں کنٹینرز شہر کا محاصرہ کرنے کے لیے لگا دیے جاتے ہیں۔
اور اس مرتبہ تو کنٹینرز کی تعداد اس لیے بھی زیادہ محسوس ہو رہی ہے کیونکہ تحریک انصاف کے علاوہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذہبی سیاسی جماعت 'جماعت اسلامی' نے بھی ستمبر کے ہی مہینے میں اسلام آباد پہنچنے کی کال دے رکھی ہے۔
بی بی سی اُردو کے رابطہ کرنے پر اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس وقت شہر میں ایک ہزار سے زیادہ کنٹینرز کو مختلف شاہراوں کے کناروں پر رکھا گیا ہے۔ اُن کے مطابق اِنمیں وہ کنٹینرزبھی شامل ہیں جنھیں ریڈ زون کے مختلف علاقوں میں رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنانے اور مظاہرین کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کے لیےوزارت داخلہ کو مزید کنٹینرز کرائے پر حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گذشتہ جمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں کسی کو بھی اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد پولیس کے اہلکار کے مطابق ریڈ زون جس میں ڈپلومیٹک انکلیو کے علاوہ وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد ہائی کورٹ، سپریم کورٹ سمیت دیگر اہم عمارتیں واقع ہیں، کو 27 ستمبر سے پہلے مکمل سیل کر دیا جائے گا۔
اسلام آباد انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق تاحال وفاقی دارالحکومت میں ایک ہزار کنٹینرز لا کر رکھے گئے ہیںاسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی مختلف شاہراہوں پر جو خالیکنٹینرز رکھے گئے ہیں ان میں ریت اور مٹی کے علاوہ دیگر تعمیراتی سامان بھرا جا رہا ہے تاکہ انھیں آسانی سے اُن کی جگہ سے ہلایا نہ جا سکے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اور اہلکار کے مطابق ریڈ زون اور بلخصوص ڈپلومیٹک انکلیو کے پاس جو کنٹینرز رکھے گئے ہیں ان کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ویلڈ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانبامن وامان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے پنجاب اور سندھ سے پندرہ ہزار سے زائد پولیس کی نفری کو طلب کیا ہے جبکہ اٹک ، حسن ابدال اور دیگر علاقوں میں پنجاب پولیس اپنے فرائض سرانجام دے گی۔
پاکستان میں مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابقدیگر صوبوں سے بلائی گئی پولیس نفری کو اسلام آباد کے مختلف سرکاریسکولوں میں ٹھہرایا جائے گا اور اس ضمن میں اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تعلیمی اداروں کو آئندہ چند روز کے لیے بند کر دیا جائے گا۔
تاہم بی بی سی اُردو کے روحان احمد سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت نے دارالحکومت میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق دیگر صوبوں سے آنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو عارضی طور پر اُن عمارتوں میں ٹھہرایا جا رہا ہے، جہاں جگہ خالی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کو روکنے اور شہر میں امن اومان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے وزارت داخلہ نے ابتدائی طور پر 40 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جن کنٹینرز کو اسلام آباد کی مختلف شاہرواں پر رکھا گیا ہے اُن میں سے زیادہ تر کرائے پر حاصل کیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 40 فٹ لمبے کنٹینر کے لیے یومیہ کرایہ 20 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس سے کم لمبے کنٹینر کے لیے یومیہ کرایہ 10 ہزار روپے ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ احتجاج کے بعد کنٹینرز کے مالکان کو اتنے دنوں کی رقم ادا کی جائے گی جتنے دن اُن کے یہ کنٹینرز استعمال میں رہے۔
دوسری جانبآل پاکستان گڈزٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن صدر اویس چوہدری نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ابھی تک اسلام آباد کی پولیس اور انتظامیہ نے اُن کے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کو پکڑا ہے، جبکہپنجاب کے مختلف علاقوں جن میں جاتلی، منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ وغیرہ شامل ہیں، سے بھی سینکڑوں کنٹینرزکو پکڑا جا رہا ہے۔
انھوںنے دعویٰ کیا کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران اسلام آباد میں جتنے بھی احتجاج یا دھرنے ہوئے، ان کے بعد اُن کی تنظیم یا کنٹینرز کے مالکان کو کوئی پیسے نہیں دیے گئے۔
اویس چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کے سیکنڑوں کنٹینرز کو تھانہ آئی نائن ترنول اور تھانہ سہالہ کی حدود میں بند کیا گیا ہے جہاں سے انھیں اسلام آباد کی مختلف شاہراوں پر سڑکوں کے کنارے رکھ دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے پاس نہ صرف ڈرائیورز کے لائسنسز ہیں بلکہ گاڑیوں کے کاغذات بھی ہیں جن کی وجہ سے ان کنٹینرز کے ڈرائیور وہیں رکنے پر مجبور ہیں۔
سنہ 2022 میں ہونے والے احتجاج کا زکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کا احتجاج ختم ہوا تو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ان کنٹینرز کے ڈرائیورز کو ان کی گاڑیوں کے کاغذات اور ان کے لائسنس واپس کیے تھے جبکہ اویس چوہدری کے بقولانھیں اس ضمن میں کوئی رقم ادا نہیں کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ان کی تنظیم نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے رابطہ کیا ہے اور انھیں کہا ہے کہ چونکہ ان کے پاس گاڑیوں کے کاغذات موجود ہیں اس لیے ان کا اندراج کرنے کے بعد رقم کی ادائیگی کا طریقہ کار طے کریں کیونکہ اس سے پہلے انھیں کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔
تاہم اویس چوہدری کے اس دعوے پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ دعویٰ ’جھوٹ‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مالکان سے کنٹینرز کے حصول کا ایک باقاعدہ طریقہ کار بنایا گیا ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق ’یہ کنٹینرز ہمیں ایسوسی ایشن کے لوگ ہی دیتے ہیں اور اس کے عوض کرایہ لیتے ہیں۔ یہ کنٹینر کب لیے جائیں گے، کب واپس کیے جائیں گے اس کے لیے پورا طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔‘
احتجاج سے نمٹنے کے لیے پانچ سال میں ایک ارب 35 کروڑ خرچ
19 مارچ 2025 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک رُکن پارلیمان کی جانب سے وفاقی حکومت سے پوچھا گیا تھا کہ گذشتہ پانچ سال میں احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں کو ڈی چوک کی جانب آنے سے روکنے کے لیے کتنے اخراجات ہوئے؟
قومی اسمبلی میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں گذشتہ پانچ برس کے دوران احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک ارب 35 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے اور اس حوالے سے سب سے زیادہ اخراجات مالی سال 2022-23 میں ہوئے، جب مجموعی طور پر 72 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق مالی سال 2019-20 میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے پر 15 کروڑ 77 لاکھ روپے جبکہ 2020-21 میں یہ اخراجات 9 کروڑ 61 لاکھ روپے رہے۔
مالی سال 2021-22 میں یہ لاگت نمایاں طور پر بڑھ کر 27 کروڑ 79 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ 2022-23 میں اخراجات 72 کروڑ 40 لاکھ روپے ریکارڈ کیے گئے۔
انھوں نے مزید بتایا تھا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران اُس وقت تک احتجاجی مظاہروں کے انتظام کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے جا چکے تھے۔
طلال چوہدری کے مطابق ایسے مواقع پر سکیورٹی اخراجات عموماً دو بڑی کیٹگریز پر مشتمل ہوتے ہیں، جن میں میں سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حمل، خوراک اور رہائش کے انتظامات شامل ہیں، جبکہ دوسری مد میں سڑکوں کی بندش اور غیر قانونی اجتماعات کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز پر اٹھنے والے اخراجات ہیں۔