خلیل قیصر: ’فرنگی‘ اور ’شہید‘ کے خالق جن کا 36 سال کی عمر میں قتل آج بھی ایک معمہ ہے

خلیل قیصر گھر میں داخل ہوئے تو وہاں پہلے سے موجود افراد سے ان کی ہاتھا پائی ہوئی اور اسی دوران اُن کی کمر میں خنجر گھونپ دیا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ کچھ لوگوں نے اسے چوری ڈکیتی کی واردات کے بجائے ایک ’سوچا سمجھا‘ قتل قرار دیا

یہ واردات کوئی ساٹھ برس پرانی ہے۔ 21 ستمبر 1966 کی رات مشہور فلمساز اور ہدایتکار خلیل قیصر اپنی فلم ’حکومت‘ کی آؤٹ دور شوٹنگ کر کے بذریعہ کراچی، لاہور پہنچے تھے۔

ویسے تو خلیل قیصر کا ارادہ تھا کہ وہ کراچی میں رات گزار کر اگلی صبح لاہور آئیں گے، مگر جب وہ کراچی ایئرپورٹ پہنچے تو انھیں ایئرپورٹ پر ہی لاہور کا ٹکٹ مل گیا اور یوں وہ 21 ستمبر کی رات ہی لاہور پہنچ گئے۔

36 سالہ خلیل قیصر نے رات گیارہ بجے گھر پہنچ کر اپنی اہلیہ کو سرپرائز دیا۔ خلیل کی آمد غیرمتوقع تھی اس لیے گھر میں کھانے کا اہتمام نہیں تھا، چنانچہ دونوں میاں بیوی مزنگ سے تکے لے کر ایک گھنٹے بعد واپس لوٹ آئے۔

گھر کے گیراج میں گاڑی پارک ہوئی اور خلیل قیصر کی اہلیہ پہلے گھر میں داخل ہوئیں مگر انھیں دروازے پر ہی اندر کچھ کھٹ پٹ محسوس ہوئی۔

خلیل قیصر گاڑی پارک کر کے آئے تو بیوی کو سہما دیکھا کیونکہ اہلیہ کو خدشہ ہوا کہ شاید اُن کے گھر کے اندر کوئی موجود ہے۔ خلیل قیصر نے اپنی اہلیہ کے اِس خیال کو وہم سمجھا اور اندر داخل ہو گئے جہاں دو سے تین ’چور‘ موجود تھے۔

یہ وہ دور تھا جب نہ تو لاہور کی آبادی اتنی زیادہ تھی اور چوری ڈکیتی کی وارداتیں بھی شاذ و نادر ہی ہوتی تھیں۔ ملک میں مارشل لا لگ چکا تھا، اخبارات اور دیگر میڈیا پر پابندیاں تھیں اور عوام کی واحد تفریح ریڈیو اور سنیما تھی، کیونکہ ملک میں ٹی وی کو آئے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے تھے۔

اُس دور کی اخباری رپورٹس کے مطابق خلیل قیصر گھر میں داخل ہوئے تو وہاں پہلے سے موجود افراد سے ان کی ہاتھا پائی ہوئی اور اسی دوران اُن کی کمر میں خنجر گھونپ دیا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔

اس واردات کے دوران اُن کی اہلیہ بھی معمولی زخمی ہوئیں۔ 32 سالہ خلیل قیصر کو میو ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے راستے ہی میں وفات پا گئے۔

رات کی تاریکی میں ہوئے اس حملے کو فلم انڈسٹری نے خود پر حملہ تصور کیا، اور حکام سے تفتیش کا مطالبہ کیا۔

جنگ اخبار کی خبر کے مطابق پولیس حرکت میں آئی اور جائے واردات سے کچھ دور انھیں ایک خون آلود شرٹ اور ایک جوتا بھی ملا، جس کی بنیاد پر قاتلوں کو پکڑنے کی کوششوں کا آغاز ہوا۔

مگر یہ کوششیں ناکام رہیں اور آخر اس معاملے کو ’اے برگلری گون رونگ‘ کہہ کر اس کیس کی فائل ہمیشہ کے لیے بند کر دی گئی۔

اگرچہ کچھ لوگوں نے اسے چوری ڈکیتی کی واردات کے بجائے ایک ’سوچا سمجھا‘ قتل قرار دیا مگر پولیس کا خیال تھا کہ چونکہ خلیل قیصر نے اگلی صبح لاہور آنا تھا، تو سوچا سمجھا قتل کیسا؟

تاہم اُس دور کی فلم انڈسٹری کے بہت سے افراد پولیس کے اس دعوے سے متفق نہیں ہوئے کیونکہ اُن کے خیال میں خلیل فیصر بائیں بازو کے نظریات رکھتے تھے اور انھوں نے اپنی فلموں کے ذریعے سامراجی قوتوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

اُس دور میں اُن کی ایک فلم ’صدائے کشمیر‘ سینسر کی نذر بھی ہوئی تھی اور وہ نجی محفلوں میں اپنے خیالات کا برملا اظہار کرنے سے کتراتے نہیں تھے۔

محض 36 سال کی عمر میں وفات پانے والے خلیل قیصر ’شہید‘ اور ’فرنگی‘ جیسی شاہکار فلمیں ڈائریکٹ اور پروڈیوس کر چکے تھے۔ جبکہ ان کی بنائی گئی فلمیں ’عجب خان‘، ’کلرک‘ اور ’حویلی‘ بھی اپنے دور کی یادگار فلمیں تھیں۔

اُن کی بنائی ہوئی فلم ہٹ ہو گی یا فلاپ، بظاہر اُن کے نزدیک یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی تھی، اسی لیے وہ تجربات سے گھبراتے نہیں تھے۔

فلم ’قاتل‘ سے بحیثیت اسسٹنٹ کرئیر شروع کرنے والے خلیل قیصر کون تھے؟

تقسیمِ ہند سے کوئی 15، 14 برس قبل پیدا ہونے والے خلیل قیصر کے لیے فلم ایک فینٹیسی تھی۔

تعلیم سے فارغ ہو کر انھوں نے اُس وقت اٹھتی ہوئی پاکستانی فلمی صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد دی۔اپنے صرف دس سال کے کرئیر میں انھوں نے بے پناہ کامیاب فلمیں بنائیں، جن میں ’شہید‘، ’فرنگی‘ اور ’عجب خان‘ آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

جب انھوں نے فلم انڈسٹری کا رُخ کیا، تو شاید انھیں اندازہ نہیں تھا کہ آیا فلم رائٹر بنیں گے یا اداکار مگر اُن کے کام کو جاننے والوں کے مطابق وہ ایک ملٹی ٹیلنٹڈ شخص تھے۔

انھوں نے فلمسازی کے گُر مشہور پروڈیوسر ڈائریکٹر انور کمال پاشا سے بطور اسسٹنٹ سیکھے اور یہ بات ہے سنہ 1954 کی جب فلم ’قاتل‘ بن رہی تھی۔

خلیل قیصر کے فلمی سفر کا باقاعدہ آغاز 1956 میں نذیر اجمیری کی فلم ’قسمت‘ سے بحیثیت مصنف ہوا۔

فلمسازی کے ابتدائی دور میں انھوں نے بطور معاون ہدایتکار بھی کام کیا۔ بحیثیت اسسٹنٹ خلیل قیصر 1957 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سردار‘ اور 1960 کی فلم ’سلطنت‘ سے بھی جڑے رہے۔

اس تجربے نے خلیل قیصر کو فلم کے بیانیے، منظر نگاری، مکالموں اور ہدایتکاری کی باریکیوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

بطور ہدایتکار اُن کی ابتدائی فلم ’یار بیلی‘ تھی جو سنہ 1959 میں ریلیز ہوئی اور یہ اُن کی بنائی ہوئی واحد پنجابی فلم تھی۔ یہ فلم، دلیپ کمار اور وجنتی مالا کی فلم ’نیا دور‘ سے متاثر تھی جس میں کاشتکار اور جاگیردار کے درمیان کشمکش کو سکرین پر پیش کیا گیا تھا۔

’ماہی منڈا‘ اور ’یکے والی‘ جیسی فلمیں بنانے والے باری ملک فلم ’یار بیلی‘ کے پروڈیوسر تھے۔ خلیل قیصر نے اسے اپنے پائلٹ پروجیکٹ کی طرح لیا اور عزیز میرٹھی کی کہانی اور احمد راہی کے ڈائیلاگز کو سکرین پر ایسے پیش کیا کہ لوگوں پر اس کا گہرا اثر ہوا۔

خلیل قیصر نے اپنی پہلی اُردو فلم ’ناگن‘ میں تلوار بازی، سانپ اور بھاری بھرکم ڈائیلاگز کا استعمال کیا۔ دراصل فلمساز وزیر علی اپنے چھوٹے بھائی نذیر علی المعروف ’رتن کمار‘ کو پہلی بار مکمل ہیرو کے طور پر فلم ’ناگن‘ میں پیش کر رہے تھے۔

رتن کمار، انڈیا میں ’دو بیگھا زمین‘، ’بوٹ پالش‘ اور ’جاگرتی‘ کے بعد پاکستان میں فلم بیداری میں ادا کیے گئے اپنے بچپن کے کردار سے مقبول ہو چکے تھے تاہم ایک ایڈلٹ ہیرو کے لیے انھیں دمدار فلم چاہیے تھی۔

اور خلیل قیصر کی ڈائریکشن کا کمال ہی تھا کہ رتن کمار ہٹ ہو گئے اور بعد میں کئی فلموں میں کام کرنے کے باوجود رتن کمار کی ڈبیو فلم ’ناگن‘ ہی اُن کے کرئیر کی واحد بڑی فلم ثابت ہوئی۔

نیلو پہلی مرتبہ مکمل ہیروئن کے روپ میں اِسی فلم ناگن سے سامنے آئیں جبکہ یوسف خان اس فلم میں ولن تھے۔

جس وقت خلیل قیصر فلم ڈائریکٹرز کی فہرست میں شامل ہوئے، عین اُسی زمانے میں ایک اور ترقی پسند سوچ رکھنے والا صحافی بھی فلموں میں قدم رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہی صحافی پروگریسو پیپرز کے اخبار ’لیل و نہار‘ میں معروف انقلابی شاعر فیض احمد فیض کے ماتحت کام کرتا تھا اور ’ہزار داستان‘ کے عنوان سے ایک معروف ناول لکھ چکا تھا۔ فلم ’بھروسہ‘ اور ’فیصلہ‘ کے ذریعے اس کے مکالموں نے تہلکہ مچا دیا تھا۔

یہ تھے ریاض شاہد (شان شاہد کے والد) جنھوں نے بہت کم وقت میں فلموں میں بڑے بڑے کام کر دیے۔

خلیل قیصر اور ریاض شاہد کی نوجوانی میں اموات کے بعد فلمی حلقوں میں مشہور ہو گیا تھا کہ کہ دونوں ہی جلدی میں تھے۔ لیکن اپنی موت سے قبل وہ بہت سے کامیاب فلمیں تخلیق کر چکے تھے۔

ریاض شاہد اور خلیل قیصر نے ساٹھ کی دہائی میں اُردو سنیما کو ایک نیا رخ دیا۔

ان دونوں کی پہلی فلم تھی ’کلرک‘۔ یہ ایک آرٹ فلم جس میں ایک غریب کلرک کی زندگی، مجبوریاں اور تلخیوں کو پیش کیا گیا تھا۔ دہائیاں گزرنے کے باوجود اس فلم کا کیمرہ ورک آج بھی دیکھنے لائق ہے، چاہے وہ فائلوں کے کاغذ پر بنا اینیمیٹڈ ٹائٹلز ہوں یا ہر سین کے مطابق کیمرا اینگلز۔

’کلرک‘ کی کہانی تو یونس راہی کی تھی، مگر ریاض شاہد کے سکرین پلےاور ڈائیلاگز نے ایسے ایسے سوال عوام کے دماغ میں اٹھائے جو حاکم اور محکوم کے درمیان موجود تو ہوتے ہیں، مگر کبھی پوچھے نہیں جاتے تھے۔ اس فلم میں ٹائٹل کردار خلیل قیصر نے ادا کیا تھا، خلیل قیصر ایک اچھے اداکارتو ثابت ہوئے مگر یہ فلم کامیاب نہ ہو سکی، کسی گلیمر کے بغیر بنی یہ فلم چل نہ سکی، اس میں ناچتی گاتی ہیروئنز تھیں، نہ مزاح اور نہ ہی لڑتے جھگڑتے مرد، تو کیسے چلتی؟

مگر اس کے باوجود فلم ’کلرک‘ کو فلمی صنعت سے جڑے افراد نے اپنے وقت سے بہت پہلے کی فلم قرار دیا۔

اس تجربے کے بعد خلیل قیصر نے کمرشل اور آرٹ دونوں اصناف کو ایک ساتھ لے کر کام شروع کیا۔

کلرک کے بعد خلیلقیصر فلم ’عجب خان‘ میں مصروف ہو گئے جبکہ ریاض شاہد نے اپنے ناول ’ہزار داستان‘ پر اپنے بھائی اور کیمرہ مین فیاض شیخ کے ساتھ فلم ’سسرال‘ پر کام شروع کر دیا۔

مگر 1962 میں یہ دونوں شخصیات پھر یکجا ہوئیں جب فلم ’دوشیزہ‘ اور ’شہید‘ ریلیز ہوئیں۔

اور اس کے بعد یہی ترتیب رہی۔ 1964 میں جب ایک طرف ’فرنگی‘ بن رہی ہے تو دوسری طرف ’حویلی‘، یعنی کمرشل اور آرٹ فلمیں ساتھ ساتھ۔

پاکستان فلم انڈسٹری میں سب سے زیادہ فلمیں لکھنے اور کئی کامیاب فلمیں بنانے والے سید نور کے مطابق خلیل قیصر اُس دور کی ’بہت جلد متاثر ہونے والی فلم انڈسٹری کے‘ اوریجنل ڈائریکٹر تھے۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ویسے تو میرے استاد ایس سلیمان تھے اور میں نے جو سیکھا اُن سے سیکھا، مگر کام کے لیے ہمیشہ میں نے خلیل قیصر کو فالو کیا ہے۔ اُن کا کام الگ ہی نظر آیا، ان کی فلمیں بامقصد ہوتی تھیں۔ خلیل صاحب، ریاض شاہد صاحب کو پروموٹکرنے والوں میں سے تھے اور خلیل کی موت سے فلم انڈسٹری ایک اوریجنل کرنے والے ذہن سے محروم ہوئی۔‘

خلیل قیصر کے ساتھ حویلی میں کام کرنے والی زرین سلیمان عرف پنا، جو ایس سلیمان کی اہلیہ تھیں، خلیل قیصر کو اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہیں۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’خلیل قیصر ایک چُپ چاپ،فلاسفر ٹائپ کے ڈائریکٹر تھے، اپنی دنیا میں مگن۔ ان کا کام ان کی پہچان بن گیا اور کسی نے ان کو کبھی کسی سے لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔‘

اُن کے مطابق ایورنیو سٹوڈیو میں جو فوارہ تھا، وہاں ایک چبوترا تھا جہاں آغا جی اے گل، فیض احمد فیض، ریاض شاہد، خلیل قیصر اور سنتوش کمار وغیرہ روز جمع ہوتے تھے اور فلمز پر بات ہوتی تھی۔

’کیا زمانہ تھا، کیا لوگ تھے۔ ریاض شاہد تھوڑا غصے والے تھے اور اُن کے لیے مشہور تھا کہ شوٹنگ کے درمیان غصے میں کبھی اپنا ہی سکرپٹ بھی پھاڑ دیا کرتے تھے، لیکن خلیل قیصر انھیں قابو کر لیتے تھے۔‘

سن 61 میں ریلیز ہونے والی فلم ’عجب خان‘ کے مصنف مشہور ناول نگار رحیم گل تھے جنھوں نے انگریز سرکار کے خلاف ایک حقیقی باغی کردار کی زندگی پر مبنی کہانی اس لیے چنی تھی، کیونکہ وہ بچپن سے ہی عجب خان کے قصے سنتے آ رہے تھے۔

سنہ 1962 میں خلیل قیصر اور ریاض شاہد کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں، ایک تجرباتی رومانوی کہانی ’دوشیزہ‘ اور دوسری انقلابی سوچ کی عکاسی کرنے والی ’شہید‘۔

دوشیزہ ، ایک اوسط درجہ کی رومانٹک فلم تھی جس میں ’نیلو‘ ٹائٹل رول ادا کر رہی تھیں جبکہ اعجاز، اسلم پرویز، لہری، اسد بخاری، علاؤ الدین اور دیبا اہم کردار تھے۔ ’شہید‘ میں بھی اعجاز لیڈ رول میں تھے اور عجب خان کی طرح طالش اور حُسنہ بھی، مگر ٹائٹل رول مسرت نذیر کا تھا۔

فرنگی میں پھر سدھیر آ گئے اور اپنے جنگجو کرداروں میں ایک اور کا اضافہ کر دیا۔ ’عجب خان‘ کو بعد میں پشتو اور پنجابی زبان میں بھی بنایا گیا، مگر ’شہید‘ کی کامیابی نے خلیل قیصر کو امر کر دیا۔

اس فلم کے ڈائیلاگز اور منظر نامے نے پاکستان کی عوام کے سامنے مشرق وسطی کی کہانی کو ایسے پیش کیا، جیسے انھیں لگا ہو کہ ان کے ملک میں یہی تو ہو رہا ہے۔ یہ صدر ایوب خان کے مارشل لا کا دور تھا جب میڈیا پر پابندیاں بڑی سخت تھیں۔ ایسے میں ایک فلم میں انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی غزل ’نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کے جہاں‘ کا استعمال اور اسے ایک الگ ماحول میں دکھانے سے ریاض شاہد کا کام بھی ہو گیا اور خلیل قیصر کا بھی۔

پاکستان بحیثیت ملک، سیٹو اور سینٹو کے ذریعے امریکہ کے کیمپ میں شامل ہو چکا تھا اور خلیل قیصر اور ریاض شاہد تھے بائیں بازو والے، حقوق کی بات کرنے والے۔

’شہید‘ میں صحرائے عرب میں تیل کی تلاش، مقامی آبادی کے استحصال اور اس کے پسِ پردہ مفادات کو موضوع بنا کر ایک سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑنے اور اسے متنبہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

رشید عطرے کی موسیقی اور منیر نیازی، فیض احمد فیض اور تنویر نقوی کے گیتوں نے فلم کو مزید یادگار بنا دیا۔ مسرت نذیر پر ’میری نظریں ہیں تلوار‘ یا ’حبیبی حیا حیا‘ جیسے شوخ گانے ہوں یا ’اس بے وفا کا شہر ہے‘ جیسا المیہ گیت۔ یہ فلم، یا ان نغموں کی وجہ سے یاد کی جاتی ہے یا آغا طالش کے ’ڈیوڈ لارنس‘ کے کردار کی وجہ سے۔

یہ کردار مشہور برطانوی جاسوس ٹی ای لارنس سے مشابہت رکھتا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شہید، ہالی وڈ کی فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ سے 11 مہینے پہلے ریلیز ہوئی تھی، جو ٹی ای لارنس کی اصل کہانی تھی۔

اس فلم میں مسرت نذیر کا گیٹ اپ دیکھ کر ’ہنچ بیک آف ناٹرے ڈیم‘ کی ’جینا لولو بریجیڈا‘ کا گمان ہوتا ہے جبکہ علاؤالدین اور ہمالیہ والا کے تلوار بازی کے سین کو دیکھ کر چارلٹن ہیسٹن اور صوفیہ لورین کی ’ایل سِڈ‘ کا اس سے ہی ملتا جلتا سین یاد آ جاتا ہے، جو اسی دور میں ریلیز ہوئی تھی۔

اس فلم کو اُس سال نو نگار ایوارڈز ملے۔ جن میں بہترین فلمساز، بہترین ہدایتکار، بہترین کہانی نویس و مکالمہ نگار، بہترین معاون اداکار، بہترین موسیقار، بہترین اداکارہ، گیت ’نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن‘ کے لیے بہترین نغمہ نگار فیض احمد فیض، اور گیت ’اس بے وفا کا شہر ہے‘ کے لیے بہترین گلوکارہ نسیم بیگم۔

ریاض شاہد کے ساتھ خلیل قیصرایک اور کامیاب فلم ’فرنگی‘ تھی، جس میں سدھیر ’اکبر خان‘ کے روپ میں تھے جس کے خاندان کو پورے گاؤں سمیت فرنگیوں نے اڑا دیا تھا۔

اس فلم کی کاسٹ میں شمیم آرا، بہار، مظہر شاہ، ساقی اور صوفیہ معینی شامل تھیں۔ ’پہچانو تو بھی اکبر خان، نہ پہچانو تو بھی اکبر خان‘ کہہ کر سدھیر کی انٹری سے سنیما ہال، تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ اس فلم میں اکبر خان، فرنگیوں کی ناک میں دم کیے رکھتا ہے اور انھیں اپنی سرزمین سے بالآخر مار بھگاتا ہے۔ فرنگی کے رول میں طالش اور گدڑیے کے روپ میں علاؤالدین تھے، جو تقریباً خلیل قیصر کی ہر فلم میں ہوتے تھے۔

علاؤالدین پر دو گانے اس فلم کی جان تھے۔ ایک تو فیض احمد فیض کی مہدی حسن کی آواز میں غزل، ’گلوں میں رنگ بھرے باغِ نوبہار چلے‘ شامل تھی، جسے بہت سالوں بعد انڈین ڈائریکٹر پروڈیوسر وشال بھاردواج نے اپنی فلم ’حیدر‘ میں استعمال کیا۔

فیض احمد فیض کی لکھی ہوئی یہ غزل فلمی غزل نہیں تھی بلکہ ریڈیو پر پہلے گائی جا چکی تھی جس کی دھن خان صاحب نے خود بنائی تھی۔

دوسری غزل، ساحر لدھیانوی کی ’آج‘، جسے احمد رشدی نے گایا۔ ساحر نے تقسیمِ ہند کی ہولناکیاں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد ستمبر 1947 میں آل انڈیا ریڈیو پر پہلی مرتبہ یہ غزل پڑھی تھی۔

فرنگی میں گل کے کردار میں تھیں شمیم آرا جن پر کئی ایسے گانے فلمائے گئے جو زبان زدِ عام تھے، ’آ بھی جا دلدارا‘، ’بن کے ترا پروانہ آئے گا اکبر خانہ‘، ’چھوڑ کلائی مورے سانوریا‘ اور مالا کی آواز میں ’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘۔ میڈم نور جہاں کی آواز میں کورس گیت ’تیرے ذات ہے مظہر نور خدا ، ​بلغ العلےٰ بکمالہٖ‘ بھی کمال تھا۔

فرنگی فلم میں ایک موقع پر ’طالش‘ اندھی ’گل‘ کے باپ کو توپ کے سامنے باندھ کر’باغی اکبر خان‘ کا پتہ پوچھتا ہے تو شمیم آرا ، دس کی گنتی ختم ہونے کے بعد وقفہ لیتی ہے اور صرف یہ پوچھتی ہے، کہ ’توپ چلنے کی آواز نہیں آئی فرنگی؟‘

ایسی فلم فیلڈ مارشل ایوب خان کے صدارتی الیکشن سے محض تین ہفتے قبل ریلیز ہوئی اور اس کے پریمئیر پر لالٹینین لٹکی ہوئی تھیں جو فاطمہ جناح کا انتخابی نشان تھیں۔

جب خلیل قیصر کا قتل ہوا، تو اس وقت انھوں نے عطا اللہ شاہ ہاشمی کی ’ماں باپ‘ مکمل کر لی تھی، جس میں وحید مراد اور زیبا تھے۔ رانی اور سدھیر کو لے کر وہ ’حکومت‘ بنا رہے تھے، جس کی کچھ شوٹنگ رہ گئی تھی۔

فلم نقاد سرفراز فرید نہاش کی ماضی میں ریاض بخاری سے ملاقات ہوئی تھی جو اس فلم کے شریک پروڈیوسر بھی تھے۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ریاض بخاری صاحب نے فلم ’حکومت‘ کی شوٹنگ خود مکمل کی، کیونکہ وہ ایک کنہہ مشق ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی بھی تھے، لیکن ایک فلم جس کا پلان ’شہید‘ کے بعد بنا تھا وہ تھی ’زرقا‘، یہ منصوبہ خلیل قیصر اور ریاض شاہد نے بنایا تھا، اور اسے ’جمیلہ آف الجزائر‘ کے نام سے تصور میں لایا گیا تھا۔‘

’یہ فلم اناؤنس ہوئی تھی اور مسرت نذیر اس میں اہم کردار کر رہی تھیں، جو ’شہید‘ کے فوراً بعد شادی کر کے کینیڈا چلی گئیں تھیں، جس وقت خلیل قیصر کا قتل ہوا تھا، وہ چاہ رہے تھے کہ یہ رول کریں۔ مگر اسے بعد میں ریاض شاہد نے نیلو کو لے کر بنایا۔ خلیل قیصر کے چلے جانے کے سالوں بعد ان کی فلموں کو ریمیک کیا گیا۔‘

’شہید‘ کو حسن طارق نے ’وطن‘ کے نام سے بنایا، جس میں علاؤالدین والا رول محمد علی نے کیا، اعجاز کا رول شاہد نے اور مسرت نذیر کا رول رانی نے۔ عمدہ موسیقی اور ندیم کے چھوٹے سے رول کے باوجود یہ فلم زیادہ نہ چل سکی۔

اسی طرح ’ناگن‘ بنی ’ناگ اور ناگن‘، یہ فلم رتن کمار نے اوریجنل فلم کے 17 سال بعد کلر میں ری میک کروائی، مگر وحید مراد اور رانی کی سپر ہٹ جوڑی بھی ’ناگ اور ناگن‘ کو وہ کامیابی نہ دلا سکی۔

البتہ ’عجب خان‘ اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ اسے پشتو زبان میں بنایا گیا۔

سرفراز فرید کے مطابق ’زندگی لمبی نہیں بڑی ہونی چاہیے۔۔۔ سمجھ نہیں آتا تھا۔ خلیل قیصر کی زندگی کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ انھوں نے دس سال میں جو فلمیں بنائیں وہ انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، مگر یہاں کئی ہاتھ مل کر بھی عمر بھر لگا دیتے ہیں، ان کی ایک فلم کی برابری تک نہیں پہنچ پاتے۔‘

جب فیض احمد فیض کی غزل ’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘ کو انھوں نے اپنی فلم ’فرنگی‘ کے لیے فائنل کیا تھا، تو شاید انھیں بھی نہیں پتہ تھا کہ کچھ عرصے بعد وہ بھی مارے جائیں گے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US