ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر حملہ اور ایمبولینس پر فائرنگ: پاکستان کا افغان شہری کے ملوث ہونے کا الزام

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ سنیچر کو خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز اور کسٹمز کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ کے قریب دھماکے اور فائرنگ میں ایک افغان باشندہ بھی ملوث تھا۔
Dera Ismail Khan
EPA

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ سنیچر کو خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز اور کسٹمز کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ کے قریب دھماکے اور فائرنگ میں ایک افغان شہری ملوث تھا۔

پیر کو اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ شدت پسند گروہ ’ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت سوشل میڈیا پر لوگوں کو (حملے کے حوالے سے) بتانے اور دہشت کو بڑھانے کے لیے فوٹیج، تصاویر اور بیانات جاری کرتے ہیں۔ اس میں سے ایک تصویر ہم نے اپنے سسٹم میں چیک کی لیکن اس کی کوئی شناخت نہیں معلوم ہو سکی۔‘

پاکستانی وزیر نے مزید کہا کہ اس کے بعد انھیں اوپن سورس انفارمیشن کے ذریعے معلومات ملی اور ’جب اس کو میچ کیا گیا تو (شدت پسند کی) وہ تصویر کابل کی نکلی۔‘

خیال رہے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز اور کسٹمز کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ کے نزدیک دھماکے اور اس کے بعد زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ایمبولینس پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

سنیچر کا دھماکہ ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ میں ایک چیک پوسٹ کے نزدیک ہوا جہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔

خیبر پختونختوا میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے کے ایک افسرنے بی بی سی اردو بتایا کہ اس دھماکے میں بارودی مواد سے بھری ایک ٹریکٹر ٹرالی استعمال ہوئی تھی، جس میں تقریباً ایک ہزار سے 1200 کلوگرام بارودی مواد موجود تھا۔

اس دھماکے کی ذمہ داری اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ درازندہ کے قریب امن میلہ کے مقام پر ایک مشترکہ چیک پوسٹ ہے جہاں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ کسٹمز، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور لیویز کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

درازندہ ٹائپ ڈی ہسپتال کے ڈاکٹر وزیر زادہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دھماکے بعد ان کے پاس 11 لاشیں اور 35 سے زخمی لائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ان میں 25 شدید زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خانکے ڈسٹرکٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا تھا۔

دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی درازندہ سٹیشن کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا۔

آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان غلام مبشر میکن کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں ایک کسٹمز اہلکار شامل ہے جبکہ دیگر تمام افراد عام شہری تھے۔

انھوں نے واضح کیا تھا کہ مارے جانے والوں پاکستانی فوج اور پولیس کا کوئی جوان شامل نہیں۔

درازندہ ٹائپ ڈی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے جاری مراسلے کے مطابق دھماکہ دن دو بج کر 40 منٹ کے قریب ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد میں آٹھ مرد اور دو خواتین کے علاوہ ایک دو سالہ بچی شامل ہے۔

مراسلے کے مطابق مرنے والوں میں ایک ایکسائز انسپکٹر کے علاوہ چیک پوسٹ پر عملے کے اراکین اور ایک ایکسویٹر کا ڈرائیور شامل تھا۔

ڈاکٹر وزیر زادہ نے بتایا تھا کہ دھماکے سے چیک پوسٹ کے قریب مکان کی چھت گر گئی تھی جس کی وجہ سے دو خواتین اور ایک بچی کی ہلاکت ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ 25 شدید زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خانکے ڈسٹرکٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا تھا کیونکہ انھیں سرجری اور آرتھوپیڈک ڈاکٹر کی ضرورت تھی جبکہ ٹائپ ڈی ہسپتال میں سرجن اور آرتھو پیڈک ڈاکٹر کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی

درازندہ دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کی ایمبولینس ایک لاش اور زخمی کو ڈیرہ اسماعیل خان لے جا رہی تھی کہ نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک ریسکیو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان ضیاالدین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ حملہ درابن کے مقام پر کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ ڈی پی او کے مطابق زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا دیا گیا ہے جبکہ لاش کو بھی ڈیرہ اسماعیل خان لایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایمبولینس پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے اس حملے میں دو ریسکیو ورکرز کی ہلاکت کا تذکرہ کیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایمبولینس پر فائرنگ کے واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

اس سے قبل بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں زخمیوں اور لاشیں لے جانی والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینسوں پر حملے ہو چکے ہیں۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق فروری میں کرک کے علاقے بہادر خیل میں ایف سی پوسٹ پر حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینسوں کو راستے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار ہلاک جبکہ ریسکیو 1122 کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔

ایک ایمبولینس کو حملہ آوروں نے آگ بھی لگا دی۔

اپریل میں باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے رشکئی میں زخمی پولیس اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی گئی، جس میں ایمبولینس ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔

’ماں نے کہا تھا گھر کا سودا لے آؤ‘

علاقہ مکینوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی شدت سے قریبی دیہات میں مکانات کو نقصان پہنچا اور کچھ افراد بھی ہلاک ہوئے۔

درازندہ کے رہائشی جلال خان کا گھر بھی دھماکے کی شدت سے گر گیا تھا اور اس کے ملبے تلے دب کر ان کی بیٹی، والدہ اور اہلیہ ہلاک ہوئیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھیں سنیچر کی دوپہر ان کی والدہ نے بازار سے سودا لینے بھیجا تھا، لیکن جب وہ واپس آئے تو ان کا مکان گر چکا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ماں نے کہا تھا کہ گھر کا سودا لے کر آؤ۔ میں نے بازار سے سودا خریدا اور وہاں ایک ہوٹل پر دوستوں کے ساتھ بیٹھ گیا، جہاں کسی قومی مسئلے پر بات چیت ہو رہی تھی۔‘

’اتنے میں ایک دھماکہ ہوا، ہم زخمیوں کو اٹھانے جا ہی رہے تھے کہ اتنے میں مجھے اطلاع ملی کہ تمھارا مکان گر گیا ہے۔‘

جلال خان کے مطابق وہ گھر کا سودا خرید کر اپنے گھر کی طرف بھاگے، جہاں ان کی والدہ، اہلیہ اور بیٹی ملبے تلے دب کر جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جبکہ ان کا ایک بیٹا زخمی تھا۔

جلال خان کے مطابق ان کا مکان دھماکے کا نشانہ بننے والی چیک پوسٹ سے تقریباً 750 میٹر دور ہے ’لیکن دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ پورا گاؤں لرز گیا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’وہ بہت تکلیف دہ منظر تھا، ہمارا کچہ مکان تھا، جسے اینٹوں اور گارڈر سے تعمیر کیا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دھماکے میں صرف ان کا مکان ہی نہیں بلکہ گاؤں میں متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

’کسی کے مکان کی دیوار گر گئی، تو کسی کے مکان کے کمرے گرے ہیں، کہیں دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ کر باہر نکل آئی ہیں تو کہیں دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔‘

دوسری جانب درازندہ سے تعلق رکھنے والے سوشل ورکر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مقامی رہنما کامل خان شیرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں ان کے علاقے کے رہائشی پانچ افراد کی جان چلی گئی ہے جبکہ کچھ زخمی ہیں۔

اس علاقے میں جانی نقصان کے علاوہ مالی نقصان بھی ہوا ہے۔

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ گاؤں میں بیشتر گھروں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، لیکن اب تک اس کا سروے شروع نہیں ہوا ہے۔

اس بارے میں بات کرنے کرنے کے لیے اس علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر شاہد اقبال سے رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

’دہشتگردی کی نئی لہر میں روزانہ ہمارے پختون بھائی ہلاک ہو رہے ہیں‘

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دھماکے کو 'بزدلانہ حملہ' قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’یہ پہلا واقعہ نہیں، دہشتگردی کی نئی لہر میں روزانہ ہمارے پختون بھائی ہلاک ہو رہے ہیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ 22 سال میں 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے باوجود خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔

سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مزید جنازے نہیں اٹھا سکتے اور مزید خون بہتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، پالیسی میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔‘

درازندہ کہاں واقع ہے؟

درازندہ کاشمار خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے انتہائی اہم سرحدی علاقوں میں ہوتا ہے۔ یہ علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے مغرب کی جانب، جنوبی وزیرستان کے قریب واقع ہے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان زمینی رابطے کے حوالے سے بھی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے درازندہ لگ بھگ 80 کلومیٹر دور مغرب میں واقع ہے اس کے بعد ضلع شیرانی اور اس سے آگے ضلع ژوب واقع ہے۔

اس راستے سے سمگلنگ کی وجہ سے مختلف اداروں کے اہلکار اس چیک پوسٹ پر تعینات رہتے ہیں۔

درازندہ کا علاقہ پہاڑی اور نسبتاً دشوار گزار جغرافیے پر مشتمل ہے۔ یہاں سے جنوبی وزیرستان کے علاقوں کی طرف جانے والے راستے نکلتے ہیں، جبکہ ایک اہم سڑک ڈیرہ اسماعیل خان کو ژوب اور بلوچستان کی جانب ملانے والے راستے سے جوڑتی ہے۔

اسی وجہ سے درازندہ کو ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے درمیان ایک اہم رابطہ پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔

سکیورٹی کے اعتبار سے بھی درازندہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

یہ علاقہ ماضی میں قبائلی اضلاع اور ڈی آئی خان ڈویژن کے درمیان آمدورفت کے راستوں کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے لیے اہم رہا ہے۔

جنوبی وزیرستان اور بلوچستان سے ملحقہ جغرافیہ ہونے کے باعث یہاں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت، سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور سرحدی راستوں کی نگرانی کے حوالے سے یہ علاقہ حساس سمجھا جاتا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US