پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس نے ایک غیرملکی خاتون کے ساتھ اجتماعی ریپ میں مبینہ طور پر ملوث تین میں سے ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس نے ایک غیرملکی خاتون کے ساتھ اجتماعی ریپ میں مبینہ طور پر ملوث تین ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پیر کو ڈی آئی جی انویسٹیگیشنز ذیشان رضا کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون کے مبینہ گینگ ریپ کے مقدمے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خاتون کا میڈیکل ٹیسٹ کروایا گیا جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انھیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب خاتون نے مجاز عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنا 164 کا بیان بھی ریکارڈ کروا لیا ہے۔
عدالت میں غیرملکی خاتون کا بیان
عدالت میں ریکارڈ کروائے گئے بیان میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون نے کہا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے پاکستان آئی تھیں اور اسلام آباد اور فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور پہنچیں۔ ان کے مطابق سکردو جانے کا ارادہ تھا مگر تنہا سفر کی وجہ سے انھوں نے دو خواتین سے رابطہ کیا۔
خاتون کا دعویٰ ہے کہ 25 ستمبر کی رات وہ ایک کیفے میں ان خواتین میں سے ایک سے ملیں، جہاں سے وہ اس کے ہمراہ بحریہ ٹاؤن گئیں اور کچھ وقت وہاں گزارا۔
’رات کے دو بجے ہم نے کھانا کھانا تھا اور وہاں ہی سفید رنگ کی گاڑی آئی جس میں دو لڑکےسوار تھے۔ ہم ایک اپارٹمنٹ میں گئے اور کھانا کھایا۔ وہاں دو لڑکے اور آئے۔‘
خاتون کے مطابق ’ان خواتین میں سے ایک نے ایک موقع پر دونوں مردوں میں سے ایک سے رقم لی اور انھیں بتایا کہ یہ پارٹی کے اخراجات کے لیے ہے۔‘
’میں نے کہا مجھے پیسوں اور شراب کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک مرد نے مجھے چھونے کی کوشش کی اور الگ کمرے میں بند کر دیا۔ میں نے پوچھا دونوں خواتین کہاں ہیں تو انھوں نے بتایا کہ وہ تو چلی گئی ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے اجازت دیں، مجھے بھی جانا ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ آپ نہیں جا سکتیں آپ کی دوست پیسے لے گئی ہیں۔‘
خاتون نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے کہا کہ میں آپ کو 30 ہزار روپے دے دیتی ہوں۔ ان میں سے ایک مرد نے مجھے دھمکی دی اور بلیک میل کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ شراب پیو پھر تمھیں جانے دیں گئے۔ اس کے بعد دونوں مردوں نے میرا ریپ کیا۔‘
خاتون کا مزید کہنا تھا کہ بعد میں انھیں گاڑی میں بٹھا کر ایک مقام پر چھوڑ دیا گیا جبکہ ان کا بیگ، دو لاکھ روپے نقدی، آئی فون 13 پرو میکس اور ریڈمی فون واپس نہیں کیے گئے۔
ان کے مطابق ملزمان نے انھیں پولیس سے رابطہ نہ کرنے کا کہا، اور جب انھوں نے شکایت کی بات کی تو دھمکیاں بھی دیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ بعد میں انھیں گاڑی سے دھکا دے کر اتار دیا گیا، جس کے بعد انھوں نے راہگیروں کی مدد سے پولیس کو اطلاع دی۔
خاتون نے پولیس کو کیا بتایا؟
خیال رہے آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون نے اتوار کو لاہور کے تھانہ ڈیفینس سی میں اجتماعی ریپ کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
تھانہ ڈیفینس سی میں درج ایف آئی آر کے مطابق آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ باکو کی رہائشی ہیں اور 15، 20 دن قبل کاروبار کے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں۔
اس ایف آئی آر میں انھوں نے پولیس کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے۔
خاتون کا کہنا ہے کہ 25 ستمبر کو 11 اور 12 کے درمیان دو نامعلوم لڑکیاں ان کے پاس آئیں اور انھیں ڈنر کے لیے ایک نامعلوم کیفے پر لے گئیں۔
ایف آئی آر کے مطابق اس مقام پر ’تین نامعلوم لڑکے موجود تھے، جن کی میں شناخت کر سکتی ہوں۔‘
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد خاتون کو ’آؤٹنگ‘ کے بہانے ’نامعلوم فلیٹ پر لے آئے۔‘
ان کا الزام ہے کہ تینوں ملزمان نے شراب میں بےہوشی کی دوا ملا کر پلائی اور انھیں ایک، ایک کر کے ریپ کیا۔
خاتون نے پولیس کو مزید بتایا کہ یہ افراد 26 ستمبر کو دن میں دو بجے انھیں غازی انٹرچینج پر اتار کر فرار ہو گئے، جبکہ ان کا آئی فون 13 اور ریڈمی فون بھی ملزمان کے پاس ہی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے موقع پر موجود ایک راہگیر سے فون لے کر پولیس کو کال کی تھی۔
پولیس نے یہ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375 اے کے تحت درج کی ہے، جو کہ ریپ سے متعلق ہے۔
پولیس نے کیا بتایا؟
لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹیگیشنز ذیشان ذیشان رضا نے ایک ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ طبی معائنے میں خاتون کے ساتھ ریپ ثابت ہو گیا ہے۔
تاہم ان کے مطابق دو مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پولیس کی ٹیمیں چھاپیں مار رہی ہیں اور وہ جلد ہی پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔
لاہور میں یہ غیرملکی خواتین کے ساتھ ریپ کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل رواں برس جون میں بھی دو خواتین کے مبینہ اغوا اور ریپ کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

ہالینڈ اور سپین سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا اور پولیس نے اس معاملے میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ایک رشتہ دار سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔
لاہور کے اس وقت کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچیں تھیں اور اس دوران وہ مری اور دیگر مقامات پر بھی گئیں اور 29 جون کو وہ لاہور آئیں اور پھر اُن کے ساتھ اغوا کا واقعہ پیش آیا۔
درخواست گزار نے اس وقت ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھاملزمان نے انھیں ’آزاد’ کرنے کے لیے ان سے تاوان کا مطالبہ کیا اور ان کی ساتھی کا متعدد بار ریپ کیا گیا اور ان کا ریپ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔