’بیٹی نہیں لینی‘: گوجرانوالہ میں پانچ ماہ کی حاملہ بیوی پر تشدد کے الزام میں شوہر گرفتار

زیر حراست ملزم کے اہلخانہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاملہ سکریپ کے کاروبار میں دونوں خاندانوں کے لین دین کے تنازع کا شاخسانہ ہے۔
Woman domestic violence
PA Media
(فائل فوٹو)

انتباہ: اس رپورٹ میں شامل کچھ تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

گوجرانوالہ پولیس نے پانچ ماہ کی حاملہ اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس نے مبینہ طور پر پہلے اپنی اہلیہ کو اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

ملزم کی اہلیہ اور متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد اُن کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی اور اب جب وہ دوبارہ حاملہ ہوئیں تو الٹراساؤنڈ رپورٹ میں پتا چلا کہ اُن کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش ہو گی جس پر ابتدا میں اُن کے شوہر نے مبینہ طور پر انھیں اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور انکار پر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

گوجرانوالہ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اہلیہ پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں نامزد ملزم شوہر کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت سے اس کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کروا لیا گیا ہے جس کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔

خاتون پر مبینہ تشدد کا یہ واقعہ 27 اور 28 ستمبر کی درمیانی شب پیش آیا تھا۔

سی پی او گوجرانوالہ کے آفس سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کرتے ہوئے ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا؟

اس واقعے کا مقدمہ گوجرانوالہ کے تھانہ صدر میں متاثرہ خاتون کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق اُن کی بیٹی کی شادی چار سال قبل ملزم کے ساتھ ہوئی تھی اور اس جوڑے کی ایک سال کی بیٹی ہے۔ مدعی مقدمہ کے مطابق اُن کی بیٹی دوبارہ دوبارہ حاملہ ہیں اور حمل کی مدت لگ بھگ پانچ ماہ ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق والد نے پولیس کو بتایا کہ 27 ستمبر کی رات انھیں اپنی بیٹی کا فون موصول ہوا جس نے بتایا کہ اُس کا شوہر مار پیٹ کر رہا ہے۔ بیٹی نے والد سے استدعا کی کہ اسے بچایا جائے۔

والد کے مطابق وہ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ اپنی بیٹی کے سسرال پہنچے، جہاں وہ شدید زخمی حالت میں تھی۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اُن کے شوہر پہلی بیٹی کی پیدائش پر بھی ناراض تھے اور اب پھر حاملہ ہونے پر جب الٹراساؤنڈ کروایا گیا تو ڈاکٹر نے حمل میں بیٹی کی موجودگی کا بتایا جس پر شوہر ناراض ہوا۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ پتہ چلنے کے بعد سے ملزم اپنی اہلیہ کو ہراساں کرتا اور اسقاط حمل کی ترغیب دیتا رہا اور کہتا رہا کہ ’میں نے بیٹی نہیں لینی۔‘

مدعی مقدمہ کے مطابق متاثرہ خاتون کے لگاتار انکار پر ملزم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور مبینہ طور پر ٹانگیں مار کر خود سے حمل ضائع کرنے کی کوشش کی۔

متاثرہ خاتون نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے گریجویشن کر رکھی ہے جبکہ اُن کے شوہر انٹر پاس ہیں۔

اُن کے مطابق اُن کے شوہر پہلی بچی کی پیدائش پر بھی خوش نہیں تھے اور جب دوسرے حمل کے بارے میں بھی یہی پتہ چلا تو ’اس نے پہلے بچہ ضائع کروانے کی بات کی اور انکار پر تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

دوسری جانب زیر حراست ملزم کے اہلخانہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاملہ سکریپ کے کاروبار میں دونوں خاندانوں کے لین دین کے تنازع کا شاخسانہ ہے۔

ملزم کے اہلخانہ کے مطابق پیسوں کے لین دین کے معاملے کی وجہ سے اُن کے بھائی پر تشدد کا الزام لگا کر اسے جھوٹے مقدمے میں الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق وکیل کی خدمات حاصل کر کے وہ اس مقدمے کا عدالت میں سامنا کریں گے۔

ملزم کے اہلخانہ کے اس دعوے پر گوجرانوالہ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ سامنے آیا ہے کہ خاتون پر تشدد کیا گیا ہے جس کے باعث وہ زخمی ہیں تاہم یہ دعویٰ کے دونوں خاندانوں کے درمیان لین دین کا تنازع تھا، اس کو علیحدہ سے دیکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ فی الحال خاتون کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال سے میڈیکل کروا لیا گیا ہے، اور اسی کی بنیاد پر اس کیس میں تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US