پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے ’مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بناتے ہوئے 22 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ تاہم افغان طالبان نے پاکستانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغان صوبوں کنٹر اور ہلمند میں گھروں پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت نو افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
افغان صوبہ ہلمند میں یکم اکتوبر کو ہوئے فضائی حملے کے بعد شہری متاثرہ مقام پر جمع ہیںپاکستان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ’مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 22 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم افغان طالبان حکام نے پاکستانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغان صوبوں کنٹر اور ہلمند میں عام شہریوں کے گھروں پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت نو افغان شہری ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ہم اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور اسے جارحیت پر مبنی کارروائی اور ایسا جرم سمجھتے ہیں جو تمام تسلیم شدہ اصولوں اور ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ دس روز کے دوران پاکستان اور افغانستان کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید ابتری دیکھی گئی ہے۔
جمعرات کی صبح ہوئے تازہ فضائی حملوں سے قبل پاکستان نے 21 ستمبر اور 24 ستمبر کو بھی افغانستان کے مختلف صوبوں میں 'دہشت گردوں کے ٹھکانوں' اور ’خودکش بمباروں کے مراکز‘ پر فضائی حملے کرتے ہوئے متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم ان حملوں کے بعد افغان طالبان حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ ان فضائی حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد سویلینز کی ہلاکتیں ہوئیں۔
اسی دوران 23 ستمبر کو پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی جانب سے آنے والے لگ بھگ آٹھ ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف ہونے والی شدت پسندی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہے، تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں۔
یکم اکتوبر کے فضائی حملوں کے بارے میں کیا دعوے سامنے آئے ہیں؟
ہلمند پر فضائی حملے کے بعد ریسکیو کارروائیوں کا منظرپاکستان کی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’شدت پسندوں، ان کے نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں پر منصوبہ بندی کے ساتھ فضائی حملے کیے گئے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ’مصدقہ انٹیلیجنس کی بنیاد‘ پر کی گئی اور اسے ’انتہائی درستگی‘ کے ساتھ انجام دیا گیا۔
پاکستانی بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 22 مبینہ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں وہاں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہوا ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ یہ کارروائیاں افغانستان کے کس علاقے میں کی گئی ہیں۔
تاہم طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی کنٹر اور ہلمند میں کی گئی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ’عام شہری ہلاک اور زخمی‘ ہوئے ہیں۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات پاکستان نے صوبہ ’کنڑ کے علاقے چوغم اور ہلمند کے علاقے گرمسیر میں شہریوں کے گھروں پر فضائی بمباری کی ہے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت ’نو افغان شہری ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔‘

فضائی حملوں میں تیزی
اس سے قبل پاکستان نے 21 ستمبر کو افغانستان کے صوبہ کنڑ پر فضائی حملہ کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں کئی ’خودکش بمباروں‘ کے علاوہ 28 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان کا دعویٰ تھا کہ سرحدی علاقے میں ’خودکش بمباروں کے ٹریننگ مرکز‘ سمیت تین اہداف کو کامیابی سے تباہ کیا گیا جس کے باعث ان مراکز اور پناہ گاہوں میں موجود اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ ہوا ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کسی مخصوص افغان شہر یا صوبے کا نام نہیں لیا گیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے یہ بیان سامنے آنے کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے افغان صوبوں کنٹر اور پکتیکا پر حملے کیے جس کے نتیجے میں خواتین سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی افغانستان فیکٹ چیکنگ ٹیم نے صوبہ کنٹر پر فضائی حملے کے بعد ملنے والی بموں کی باقیات کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لیا تھا اور شواہد سے ظاہر ہوا تھا کہ حملوں میں امریکی ساختہ 'مارک 82' (Mk82) کا استعمال کیا گیا تھا۔
اسی طرح 24 ستمبر کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کی جانب سے فضائی حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے بعد طالبان حکومت کے ترجمان نے قندھار، خوست اور پکتیا صوبوں میں پاکستان کے فضائی حملوں کی تصدیق کی تھی۔
24 ستمبر کو ہوئے حملوں کے بعد بی بی سی افغانستان کے فیکٹ چیکنگ یونٹ کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے سے معلوم ہوا تھا کہ قندھار شہر میں 'سرائے ملا عمر' پر بھی حملہ کیا گیا تھا، جو ایک فوجی تنصیب سمجھی جاتی ہے اور سیٹلائیٹ تصاویر سے واضح ہوا تھا کہ اس مقام پر موجود متعدد ہینگر مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔
صوبہ پکتیا میں، دارالحکومت گردیز کے نواحی علاقے میں ایک ہینگر کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس ہینگر کے اندر کیا رکھا گیا تھا۔
افغانستان میں طالبان حکومت نے 24 ستمبر کے حملوں کے بعد کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔